روس پاکستانی آلو درآمد کریگا، سو سے زائد ایکسپورٹرز رجسٹر ہونگے

روس پاکستانی آلو درآمد کریگا، سو سے زائد ایکسپورٹرز رجسٹر ہونگے

قائمہ کمیٹی میں آلو برآمدات، کاشتکاروں کے نقصانات اور پیداواری ہدف پر تشویش کا اظہار قائمہ کمیٹی کی فروٹ جوسز میں کیمیکلز، محفوظ مقدار اور معیار واضح درج کرنے کی سفارش

اسلام آباد (نامہ نگار)قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق کو بتایا گیا کہ روس پاکستانی آلو درآمد کریگا ،روس نے پاکستان سے آلو کی درآمدات کے لیے ایکسپورٹرز کی رجسٹریشن پر آمادگی ظاہر کر دی ہے اور دونوں ممالک کے درمیان تمام قانونی معاملات طے پا چکے ہیں۔کمیٹی میں آلو برآمدات، کاشتکاروں کے نقصانات اور پیداواری ہدف پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔ کمیٹی نے فروٹ جوسز میں کیمیکلز، محفوظ مقدار اور معیار واضح درج کرنے کی سفارش بھی کی ۔ اجلاس چیئرمین سید حسین طارق کی زیر صدارت ہوا۔ سیکرٹری قومی غذائی تحفظ نے بتایا کہ حکومت اضافی زرعی پیداوار کی برآمدات بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے ، جبکہ مستند زرعی ڈیٹا کی تیاری کے لیے وزارت میں ایک ونگ قائم کیا جا رہا ہے ، جس کی وزیر اعظم منظوری دے چکے ہیں۔

ڈی جی پلانٹس پروٹیکشن نے بتایا کہ روس پاکستان کے سو سے زائد ایکسپورٹرز کو رجسٹر کرے گا۔اجلاس میں ارکان کمیٹی نے آلو کے کاشتکاروں کو درپیش مشکلات پر تشویش کا اظہار کیا۔ رانا حیات خان نے کہا کہ آلو کے کاشتکاروں کو نقصان اٹھانا پڑا اور برآمدات شروع نہ ہونے سے انہیں کوئی فائدہ نہیں پہنچا۔ ندیم عباس نے کہا کہ اگر آلو کی برآمدات نہ ہوں تو پیداواری ہدف بھی اسی حساب سے مقرر کیا جانا چاہیے ، چیئرمین کمیٹی نے پیداوار کے اعداد و شمار پر سوال اٹھایا جس پر بتایا گیا کہ یہ ڈیٹا حکومت پنجاب نے فراہم کیا ہے ۔اجلاس میں فروٹ جوسز کے معیار کا معاملہ بھی زیر غور آیا۔ سیکرٹری قومی غذائی تحفظ نے بتایا کہ متعلقہ رپورٹ کے مطابق فروٹ جوسز کا زیادہ استعمال صحت کے لیے مضر ہو سکتا ہے ، جبکہ مصنوعات پر استعمال ہونے والے کیمیکلز، ان کے اثرات اور محفوظ مقدار کی تفصیل درج ہونی چاہیے ۔ پنجاب فوڈ اتھارٹی نے تجویز دی کہ فروٹ جوسز میں کم از کم دس فیصد فروٹ پلپ ہونا چاہیے ۔ کمیٹی نے ہدایت کی کہ متعلقہ ادارے معیار کے تعین، مؤثر عملدرآمد اور عالمی سطح پر ممنوع کیمیکلز کی جانچ کے حوالے سے ضروری اقدامات کریں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں