ایران امریکاکشیدگی،مذاکرات کی بحالی وقت کی اہم ضرورت
صورتحال پاکستان کیلئے بھی تشویشناک،معیشت پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے
(تجزیہ:سلمان غنی)
امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور مفاہمتی عمل کے تسلسل کے حوالے سے پہلے ہی مختلف خدشات کا اظہار کیا جا رہا تھا، تاہم پاکستان اپنے دیگر دوست ممالک کے ساتھ مل کر دونوں فریقوں کو مذاکراتی عمل جاری رکھنے اور اسے نتیجہ خیز بنانے کیلئے سفارتی کوششوں میں مصروف تھا۔ اب ایک بار پھر دونوں ممالک کے درمیان شدید کشیدگی کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں، جس کے باعث خطے میں جنگی ماحول دوبارہ جنم لیتا دکھائی دے رہا ہے ۔امریکی حملوں کے بعد ایران کی جانب سے بحرین اور کویت میں امریکی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے دعووں اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران کے ساتھ جنگ بندی ختم کرنے سے متعلق بیان نے عالمی سطح پر تشویش میں اضافہ کر دیا ہے ۔ اس صورتحال کے اثرات عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں پر بھی مرتب ہونا شروع ہو گئے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق جنگ بندی کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان بداعتمادی برقرار رہی، جس کے باعث مفاہمتی عمل مضبوط بنیادوں پر استوار نہ ہو سکا۔ قطر میں ہونے والے مذاکرات بھی کسی نمایاں پیش رفت کے بغیر ختم ہوئے ، جس کے بعد ایک بار پھر کشیدگی میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر حملوں کا سلسلہ وسیع ہوا تو پورے مشرق وسطٰی میں عدم استحکام بڑھے گا، ایران اپنے اتحادی گروپوں کو متحرک کر سکتا ہے ، جبکہ امریکا بھی ایرانی فوجی اور جوہری اہداف کو نشانہ بنا سکتا ہے ۔ اس کے نتیجے میں عالمی توانائی کی منڈیاں، مالیاتی نظام اور علاقائی سلامتی شدید متاثر ہو سکتی ہے ۔
پاکستان کیلئے بھی یہ صورتحال تشویشناک قرار دی جا رہی ہے ، کیونکہ خطے میں کشیدگی بڑھنے سے توانائی کی قیمتوں، سرحدی سلامتی اور معیشت پر براہِ راست منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ اسی لیے پاکستان مسلسل جنگ بندی، مذاکرات اور سفارتی حل پر زور دے رہا ہے اور قطر، سعودی عرب سمیت دیگر دوست ممالک سے رابطے بھی جاری رکھے ہوئے ہے تاکہ کشیدگی میں کمی لائی جا سکے ۔ امریکا اور ایران دونوں ایک طویل جنگ کے سیاسی، معاشی اور عسکری نقصانات سے بخوبی آگاہ ہیں، اس لیے شدید بیانات اور محدود کارروائیوں کے باوجود مکمل جنگ سے گریز کا امکان موجود ہے ۔
ماضی کی طرح اس بار بھی بالآخر سفارتکاری اور مذاکرات ہی بحران کے حل کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔ اقوام متحدہ، یورپی ممالک، چین، روس اور خلیجی ریاستیں بھی تنازع کے پھیلاؤ کی مخالف ہیں، کیونکہ وسیع جنگ کے اثرات پوری دنیا پر مرتب ہوں گے ۔ ان کے نزدیک اگر کسی مرحلے پر فیصلہ کن فوجی کامیابی ممکن نہ رہے تو مذاکرات ہی واحد قابلِ عمل راستہ ہوتے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں چین، پاکستان اور خلیجی ممالک کو فعال سفارتی کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ پہلے غیر علانیہ رابطے ، پھر محدود جنگ بندی اور اس کے بعد باقاعدہ مذاکرات کی راہ ہموار کی جا سکے ۔ ان کے مطابق یہی وہ طریقہ ہے جو ماضی میں بھی امریکا اور ایران کے درمیان بحرانوں کے حل میں مؤثر ثابت ہوا تھا۔