امریکا ایران کیساتھ مذاکرات جاری رکھنے پر تیار:یہ بھی واضح کر دیا کہ جنگ بندی اب ختم ہوچکی:ٹرمپ
میں طویل عرصے سے ایران کی ہٹ لسٹ پر نمبر 1رہا ہوں،وہ قتل کرنے میں کامیاب رہے تو ان پر اس سطح کی بمباری کی ہدایت کردی جو پہلے کبھی نہ دیکھی گئی ہو، آپ مجھے یاد کریں گے :امریکی صد ر بینک چھوٹے ودرمیانے کاروباری اداروں کو قرض کی فراہمی بڑھائیں:وزیراعظم،گلگت بلتستان کے ارکان اسمبلی ،سیکرٹری جنرل اقوامِ متحدہ کے امیدواروں ریبیکا گرینسپین، میکی سال کی ملاقاتیں
واشنگٹن (نیوز ایجنسیاں )امریکی صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے مذاکرات جاری رکھنے کی درخواست کی جو ہم نے مان لی ہے ، امریکا مذاکرات پر تیار ہے ۔تاہم اپنے سوشل میڈیا پر امریکی صدر کا کہنا تھا کہ انہوں نے واضح طور پر ایران کو بتادیا ہے کہ جنگ بندی ختم ہو گئی ہے ۔ رائٹرز کے مطابق قطری مذاکرات کار ایران میں موجود ہیں جہاں وہ ایرانی حکام سے ملاقاتیں کر رہے ہیں۔علاوہ ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیو یارک پوسٹ کو ایک انٹرویو میں بتایا کہ اگر ایران انہیں قتل کرنے میں کامیاب ہو گیا تو انہوں نے ہدایات دی ہوئی ہیں کہ ان پر اس سطح کی بمباری کریں جو پہلے کبھی نہ دیکھی گئی ہو۔ انہوں نے کہا میں طویل عرصے سے ان کی ہٹ لسٹ پر ہوں۔ ہم اسی صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں ۔جب ان سے ان حالیہ رپورٹس کے بارے میں پوچھا گیا کہ اسرائیل نے اس ہفتے امریکی صدر کو نشانہ بنانے کی ایک سازش کی انٹیلی جنس معلومات فراہم کی ہیں، تو ٹرمپ نے اشارہ کیا کہ ایران کی طرف سے کوئی نیا منصوبہ نہیں تھا ، لیکن انہوں نے کہا کہ تہران برسوں سے انہیں مردہ دیکھنا چاہتا ہے ۔انہوں نے کہا، نہیں، نہیں۔ اسرائیل کے ہاتھ کچھ نہیں لگا۔ نہیں، نہیں۔ میں طویل عرصے سے [ایران کی ہٹ لسٹ پر] نمبر 1 رہا ہوں، اور آپ جانتے ہیں کہ زندگی بس ایسی ہی ہے ۔انہوں نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا مجھے امید ہے کہ آپ مجھے یاد کریں گے ، ان کا لہجہ اس حقیقت کے سامنے ہار ماننے جیسا تھا کہ تہران انہیں راستے سے ہٹانے کی کوششیں کبھی نہیں روکے گا۔ صدر ٹرمپ نے بدھ کو انقرہ سے وطن واپسی کے راستے میں طیارے تبدیل کیے ۔ بعد میں وائٹ ہاؤس نے تسلیم کیا کہ یہ ٹرمپ کی سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے ایک حفاظتی حربہ تھا جب انہوں نے صحافیوں کو بتایا تھا کہ ایران انہیں مردہ دیکھنا چاہتا ہے ۔
اسلام آباد(نامہ نگار، وقائع نگار،مانیٹرنگ ڈیسک)وزیراعظم شہباز شریف نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور امیر قطر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی کو فون کر کے خطے میں بڑھتی کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور کہا ایران اور دیگر تمام فریقین تحمل کا مظاہرہ کریں اور خطے میں امن و استحکام کی فوری بحالی یقینی بنائیں۔ایرانی صدر سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا تمام فریق ایسے کسی بھی اقدام سے گریز کریں جو گزشتہ چند ماہ کے دوران امن کے لیے حاصل ہونے والی کامیابیوں کو نقصان پہنچا سکتا ہو۔وزیراعظم نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت کیے گئے باہمی وعدوں اور ذمہ داریوں کی پاسداری کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ مفاہمتی یادداشت خطے اور اس سے باہر باہمی افہام و تفہیم، احترام اور مشترکہ خوشحالی کے فروغ کے لیے ایک پائیدار بنیاد ہے ۔وزیراعظم نے خطے میں امن کے فروغ کے لیے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کرتے ہوئے صدر پزشکیان کو یقین دلایا کہ پاکستان علاقائی امن و استحکام کی بحالی اور اسے برقرار رکھنے کے لیے مخلصانہ اور دیانتدارانہ کردار ادا کرنے کے لیے ہر ممکن تعاون جاری رکھے گا۔ صدر مسعود پزشکیان نے وزیراعظم شہباز شریف، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پاکستان کی دیگر اعلیٰ قیادت کی جانب سے علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ اور تدفین میں شرکت پر شکریہ ادا کیا۔
انہوں نے خطے میں امن کے لیے ایران کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے اس ضمن میں پاکستان کی حمایت اور تعمیری کردار کو سراہا۔ دونوں رہنماؤں نے گزشتہ ماہ صدر پزشکیان کے دورئہ اسلام آباد کے دوران طے پانے والے فیصلوں پر پیش رفت کا بھی جائزہ لیا اور دوطرفہ تعاون کو مزید فروغ دینے کے لیے ان پر تیزی سے عملدرآمد جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔امیر قطر سے گفتگو کرتے ہوئے شہبازشریف نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت اور برگن سٹاک میں اعلیٰ سطح تکنیکی مذاکرات کے پہلے دور کے انعقاد تک پہنچنے والی امن کوششوں میں قطر کی مستقل اور غیرمتزلزل حمایت پر امیرِ قطر کا دلی شکریہ ادا کیا ،دونوں رہنماؤں نے اس امر پر اتفاق کیا کہ امن کیلئے سفارتی روابط اور بامعنی مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھنا اور امن مفاہمتی یادداشت کے تحت تمام فریقین کی جانب سے کیے گئے وعدوں پر عمل درآمد یقینی بنانا ناگزیر ہے ۔امیرِ قطر نے وزیراعظم، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے خطے میں امن کے قیام کے لیے قائدانہ کردار کو سراہتے ہوئے ان کا شکریہ ادا کیا اور اس سلسلے میں قطر کی مسلسل حمایت جاری رکھنے کی یقین دہانی کرائی۔دریں اثنا پاکستان میں ایکسیس ٹو فائنانس کے فروغ کے حوالے سے اعلیٰ سطح اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا ہے کہ پاکستان کی پائیدار معاشی ترقی کے لیے مختلف شعبوں کو آسان شرائط پر مالی سہولیات کی فراہمی ناگزیر ہے ۔ایس ایم ای سیکٹر ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے ،بینک ترجیحی شعبوں، بالخصوص ایس ایم ای سیکٹر، کے لیے قرضوں کی فراہمی میں نمایاں اضافہ کریں۔وزیر اعظم نے کہا کہ آسان شرائط پر مالی سہولیات کی دستیابی سے برآمدات میں اضافہ، روزگار کے نئے مواقع اور پائیدار معاشی ترقی ممکن ہوگی،مالی سہولیات کی فراہمی میں بہتر کارکردگی دکھانے والے بینکوں کی حوصلہ افزائی کی جائے گی،ایکسیس ٹو فائنانس پلان پر پیش رفت کے حوالے سے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کروں گا۔انہوں نے کہا کہ حکومت مالی سہولیات تک رسائی بڑھا کر معیشت کو مزید مضبوط اور برآمدات پر مبنی بنانا چاہتی ہے ۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ بنیادی ترجیحات میں مالی سہولیات کی فراہمی کو وسعت دینا اور اسے قومی سطح پر مرکزی دھارے کا حصہ بنانا شامل ہے ،چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار (ایس ایم ایز)، زراعت، برآمدات، قابلِ تجدید توانائی، ہاؤسنگ اور آئی ٹی شعبوں کے لیے آسان قرضوں اور کریڈٹ تک رسائی بڑھانا پلان کا مرکزی نکتہ ہے ،برآمدات میں اضافہ، پائیدار معاشی ترقی اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا پلان کا بنیادی مقصد ہے ،عملدرآمد کے لیے وزارتِ خزانہ، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، صوبائی حکومتوں اور متعلقہ اداروں پر مشتمل پورے نظام پر مبنی طریقہ کار اختیار کیا جائے گا۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ وزیرِ خزانہ نئے گورننس اسٹرکچر کی سربراہی کریں گے جبکہ گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان شریک سربراہ ہوں گے ۔نئے گورننس اسٹرکچر کے تحت اگلے 2 سال کے لیے مختلف شعبوں میں مالی سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے پرعزم اہداف مقرر کیے گئے ہیں،نجی شعبے کے قرضوں میں ایس ایم ای سیکٹر کا حصہ 7 فیصد سے بڑھا کر اگلے دو سال میں 10 فیصد کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے ،ایس ایم ای شعبے میں قرضوں سے مستفید افراد کی تعداد 3 لاکھ 10 ہزار سے بڑھا کر اگلے دو سال میں 7 لاکھ 50 ہزار کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے ۔علاوہ ازیں وزیر اعظم سے پاکستان مسلم لیگ ن سے تعلق رکھنے والے گلگت بلتستان کی اسمبلی کے ممبران نے ملاقات کی ، وزیراعظم نے کہا ہمارا تعلق کسی بھی سیاسی جماعت سے ہو، ہمارا مقصد صرف اور صرف عوام کی خدمت اور ان کی زندگی میں آسانیاں پیدا کرنا ہے ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ گلگت بلتستان کی تعمیر و ترقی وفاقی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے ۔ علاقے میں بنیادی ڈھانچے ، مواصلات، توانائی، تعلیم، صحت، سیاحت اور روزگار کے مواقع بڑھانے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے ۔گلگت بلتستان کے قدرتی وسائل، سیاحتی مقامات اور معدنی ذخائر کو بروئے کار لا کر مقامی معیشت کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔نوجوانوں کو معیاری تعلیم، جدید فنی تربیت اور باعزت روزگار کی فراہمی حکومت کی اہم ترجیح ہے تاکہ وہ قومی ترقی میں بھرپور کردار ادا کر سکیں۔گلگت بلتستان میں چار دانش سکول تعمیر کے آخری مراحل میں ہیں، اگلے سال سے ان میں کلاسز شروع ہو جائیں گی۔ ہے ۔
اسکے علاوہ شمسی توانائی سے 100 میگا واٹ بجلی پیدا کرنے کے منصوبہ پر کام تیزی سے جاری ہے ۔وزیر اعظم نے کہا کہ وفاقی حکومت گلگت بلتستان میں جاری ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل کو یقینی بنانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہے ۔گلگت بلتستان میں موسمیاتی تبدیلی اور گلاف کے حوالے سے پیشگی اطلاع کا نظام بھی نصب کیا گیا ہے تاکہ مقامی لوگوں کو بروقت اطلاع فراہم کی جاسکے اور موسمی حالات کی نا مصائب صورتحال کا مقابلہ کیا جاسکے ۔عوام کو درپیش مسائل کے حل، بہتر طرزِ حکمرانی اور شفافیت کے فروغ کے لیے وفاقی اور مقامی قیادت کے درمیان مؤثر رابطہ ناگزیر ہے ۔آپ کی تجاویز اور سفارشات ہمارے لیے اہم ہیں۔ گلگت بلتستان کے عوام کی فلاح و بہبود کے لیے ہم مل کر کام کریں گے ۔تمام ممبران اسمبلی میں تعمیری کردار ادا کریں۔وزیر اعظم نے نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار کی زیر صدارت کمیٹی کی تشکیل کی ہدایت کی ، جو ان ممبران اسمبلی کی جانب سے دی گئی قابل عمل تجاویز کا جائزہ لے کر رپورٹ پیش کرے گی۔ کمیٹی کے دیگر ممبران میں وزیر برائے امور گلگت بلتستان و کشمیر امیر مقام اور وزیر اعظم کے مشیر برائے سیاسی و عوامی امور رانا ثنائاللہ شامل ہیں۔مزید برآں اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے عہدے کے امیدواروں ریبیکا گرینسپین اور میکی سال نے وزیراعظم سے الگ الگ ملاقاتیں کیں، وزیراعظم نے کثیرالجہتی تعاون کے لیے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ کے منشور کے مقاصد اور اصولوں کے فروغ و پاسداری کے لیے پاکستان کے پائیدار عزم کا اظہار کیا۔وزیراعظم نے امید ظاہر کی کہ اقوام متحدہ کی آئندہ قیادت، ادارے کے تین بنیادی ستونوں، یعنی عالمی امن و سلامتی، ترقی اور انسانی حقوق، کو متوازن انداز میں آگے بڑھانے کے لیے مؤثر کردار ادا کرے گی۔