15 منزلہ عمارت میں44 فلیٹس اور نچلی منزل پردکانیں قائم تھیں
کراچی (سٹاف رپورٹر) سپریم کورٹ کے احکامات پر مسمار کیے گئے نسلہ ٹاور کی اراضی اور متاثرین کے معاوضے سے متعلق قانونی کارروائیاں تاحال مکمل نہیں ہو سکیں۔
عمارت کو 2021 میں آپریشن کے بعد مکمل طور پر مسمار کر دیا گیا تھا۔ مسماری کا عمل 28 نومبر 2021 کو شروع ہوا اور 69 دن میں مکمل کیا گیا۔ ریکارڈ کے مطابق نسلہ ٹاور کا اصل پلاٹ 780 مربع گز پر مشتمل تھا، جو 1951 میں سندھی مسلم سوسائٹی نے الاٹ کیا تھا، جبکہ 1957 میں اس وقت کے چیف کمشنر کراچی نے 264 مربع گز اضافی رقبہ شامل کرنے کی منظوری دی تھی۔ بعد ازاں شاہراہِ قائدین فلائی اوور کی تعمیر کے دوران مزید 77 گز رقبہ پلاٹ میں شامل کیا گیا، جس کے بعد مجموعی رقبہ بڑھ کر 1121 مربع گز ہو گیا۔ نسلہ ٹاور 15 منزلہ رہائشی عمارت میں مجموعی طور پر 44 فلیٹس اور نچلی منزل پر متعدد دکانیں قائم تھیں۔ 39 فلیٹس میں خاندان رہائش پذیر تھے ۔