سندھ : آلودہ سرنجیں، مزید 2 بچوں میں ایچ آئی وی، ڈاکٹرز، نرسوں سمیت 37 اہلکار معطل

سندھ : آلودہ سرنجیں، مزید 2 بچوں میں ایچ آئی وی، ڈاکٹرز، نرسوں سمیت 37 اہلکار معطل

ولیکا ہسپتال سکینڈل تحقیقات میں معیاری طریقہ کار پر ناکافی عملدرآمد کی نشاندہی،مزید کارروائی کی سفارش،بچوں کی تعداد80ہوگئی سندھ کے سرکاری طبی مراکز سے متعلق سنجیدہ سوالات اٹھے ،متاثرہ بچوں کے علاج کیلئے 2 ارب کااینڈومنٹ فنڈ قائم ،صوبائی سیکرٹری

کراچی (سٹاف رپورٹر)سندھ حکومت نے سندھ ایمپلائز سوشل سکیورٹی انسٹی ٹیوشن (سیسی)کے زیر انتظام کلثوم بائی ولیکا ہسپتال میں آلودہ سرنجوں کے استعمال سے 78 بچوں میں ایچ آئی وی منتقل ہونے کی تصدیق کے بعد ہسپتال کے 37 ڈاکٹروں، نرسوں اور دیگر طبی عملے کے ارکان کو معطل کر دیا، جبکہ متاثرہ بچوں کی علاج اور مالی معاونت کے لیے 2 ارب روپے کے اینڈومنٹ فنڈ کے قیام کی منظوری دے دی گئی ہے ۔یہ اعلان سیکرٹری محنت و انسانی وسائل ساجد جمال ابڑو نے پاکستان پیپلز لیبر بیورو کے زیر اہتمام سیسی ہیڈ آفس کراچی میں منعقدہ ٹریڈ یونینز، مزدور تنظیموں اور محنت کشوں کے نمائندوں کے مشاورتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ساجد جمال ابڑو نے بتایا کہ اینڈومنٹ فنڈ کو شفاف انداز میں استعمال کرنے کے لیے مالیاتی اور طبی ماہرین کی مشاورت سے طریقہ کار تیار کیا جا رہا ہے تاکہ متاثرہ بچوں اور ان کے خاندانوں کو طویل مدت تک سہولتیں فراہم کی جا سکیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت اس تجویز پر بھی غور کر رہی ہے کہ فنڈ کو سرکاری بچت اسکیم میں رکھا جائے تاکہ اس سے حاصل منافع سے متاثرہ بچوں کے علاج کے اخراجات پورے کیے جائیں اور ان کے خاندانوں کو مالی معاونت بھی فراہم کی جا سکے ۔انہوں نے کہا کہ اس واقعے کے بعد سرکاری طبی مراکز میں انفیکشن سے بچاؤ کے انتظامات اور مریضوں کی حفاظت کے نظام پر بھی سنجیدہ سوالات اٹھے ہیں، جنہیں دور کرنے کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں گے ۔ دوسری جانب کلثوم بائی ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کیسز سے متعلق تحقیقاتی کمیٹی نے رپورٹ مکمل کر لی ، جس میں 78 بچوں میں ایچ آئی وی کی تصدیق کی گئی اور مجموعی طور پر 37 ملازمین کے خلاف محکمانہ کارروائی کی سفارش کی گئی ہے ۔ رپورٹ کے مطابق پہلا کیس اپریل 2025 میں سامنے آیا جبکہ اگست 2025 میں متاثرہ بچوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

رپورٹ کی روشنی میں سابق میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر ممتاز علی شیخ اور ڈاکٹر غلام مصطفیٰ ابڑو کو معطل کر دیا گیا۔ سابق ڈپٹی میڈیکل سپرنٹنڈنٹس ڈاکٹر قمر الحق اور ڈاکٹر عنبرین خان کو بھی عہدوں سے ہٹا دیا گیا، جبکہ ڈپٹی چیف میڈیکل آفیسر ڈاکٹر پرویز سومرو کو فوری طور پر معطل کرکے ہیڈ آفس رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے ۔مزید برآں سائٹ اسپتال کے پیتھالوجسٹ ڈاکٹر سید نقیب علی، لیب انچارج قرۃ العین، ولیکا اسپتال کے دو سینئر پیڈیاٹریشنز، آٹھ ریزیڈنٹ میڈیکل آفیسرز، میٹرن رخشندہ یاسمین، دس اسٹاف نرسوں اور چھ نرس ایڈز کو بھی معطل کر دیا گیا ہے ۔ کے وی ایس ایس سائٹ اسپتال کے دو آڈٹ افسران میر اسد اللہ اور توقیر احمد کے علاوہ لانڈھی اسپتال کے ڈسپنسر بشارت خان کو بھی معطل کرکے سیسی ہیڈ آفس میں فوری رپورٹ کرنے کا حکم دیا گیا۔تحقیقاتی رپورٹ میں اسپتال میں ڈسپوزیبل طبی سامان کی شدید قلت، سرنجوں، آئی وی کینولا اور دیگر اشیا کے ممکنہ دوبارہ استعمال اور انفیکشن پریونشن اینڈ کنٹرول کے معیاری طریقہ کار پر ناکافی عملدرآمد کی نشاندہی کی گئی۔

کمیٹی نے خریداری، سپلائی اور ادائیگیوں کے جامع آڈٹ اور ذمہ دار افراد کے خلاف مزید کارروائی کی سفارش بھی کی ۔دریں اثنا ولیکا اسپتال سے مبینہ طور پر منسلک ایچ آئی وی کیسز کے سلسلے میں مزید دو کمسن بچیوں میں وائرس کی تصدیق سامنے آئی ہے ۔ متاثرہ بچوں میں ضیا کالونی کی 9 سالہ اور میٹروول کی 3 سالہ بچیاں شامل ہیں۔ اہلِ خانہ کا مؤقف ہے کہ دونوں بچیاں ماضی میں مختلف عوارض، خصوصاً سینے کے انفیکشن کے علاج کے لیے مذکورہ اسپتال میں زیرِ علاج رہی تھیں۔9 سالہ بچی کے والد کے مطابق بچی کی طبیعت مسلسل ناساز رہنے پر مزید طبی معائنے کرائے گئے ، جن میں ایچ آئی وی ٹیسٹ بھی شامل تھا، جس کی رپورٹ مثبت آئی۔ متاثرہ خاندانوں نے واقعے کی غیرجانبدار تحقیقات اور ذمہ داروں کے تعین کا مطالبہ کیا ہے ۔ تاہم، ان نئے کیسز اور ان کے ممکنہ اسباب کے حوالے سے متعلقہ حکام کا باضابطہ مؤقف تاحال سامنے نہیں آیا ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں