مقبوضہ مغربی کنارے کے گا ؤں میں فلسطینیوں کا پتنگ میلہ
اسرائیلی آباد کاروں کو بتانا چاہتے ہیں کہ یہ زمین ہماری ،آسمان بھی ہمار ا :منتظمین
بورین(اے ایف پی) مقبوضہ مغربی کنارے کے فلسطینی گاؤں بورین میں سالانہ پتنگ میلے کا انعقاد کیا گیا، جس میں مقامی بچوں اور خاندانوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ تپتی ہوئی پہاڑی پر منعقدہ اس میلے میں بچوں نے رنگ برنگی پتنگیں اڑائیں، جبکہ پس منظر میں غیر قانونی اسرائیلی بستی 'ہار براخا' کے مکانات واضح دکھائی دے رہے تھے ۔سنہ 2009 سے ہر سال گرمیوں میں، یہاں کے رہائشی اسی پہاڑی پر پتنگ بازی کے میلے کیلئے جمع ہوتے ہیں، ایک ایسی زمین پر جس کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ اس کا ایک حصہ اسرائیلی آباد کاروں کی جانب سے قبضہ کیے جانے کے بعد وہ کھو چکے ہیں۔
میلے کے منتظمین میں سے ایک غسان نجار نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا ہم آباد کاروں کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ یہ ہماری زمین ہے ، یہ ہمارا آسمان ہے ، اگر ہم اب ان زمینوں تک خود نہیں پہنچ سکتے ، تو ہماری پتنگیں وہاں تک پہنچ سکتی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ یہ میلہ بنیادی طور پر بچوں کیلئے ہے ، لیکن یہ ایک سیاسی پیغام بھی رکھتا ہے ۔بورین میں مقامی لوگوں کی گفتگو شاذ و نادر ہی آباد کاروں کے حملوں یا فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی بستیوں کے مسلسل پھیلاؤ کے ذکر سے ہٹتی ہے۔