تیل مہنگا ہوتے ہی مہنگائی کا طوفان ،گھریلو بجٹ درہم برہم
ٹماٹر 250، پیاز 100، برائلر مرغی 580، بڑا گوشت 1800 روپے تک جا پہنچا
اسلام آباد (سید قیصر شاہ) پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث نئے مالی سال کے پہلے ہی عشرے میں مہنگائی کا طوفان برپا ہوگیا۔ اس صورتحال نے تنخواہ دار طبقے سے لے کر سفید پوش طبقے تک سب کے اوسان خطا کر دئیے جبکہ رہی سہی کسر بجلی کے بھاری بھرکم بلوں نے نکال دی۔آسمان سے باتیں کرتی ضروریاتِ زندگی کی اشیاء کی قیمتوں نے عام آدمی کی قوتِ خرید بھی چھین لی جس کے باعث گھریلو بجٹ درہم برہم ہو گئے ۔ مہینہ بعد میں ختم ہوتا ہے جبکہ تنخواہ گنے چنے دنوں میں ہی ختم ہو جاتی ہے اور باقی مہینہ قرض لے کر گزارنا پڑتا ہے ۔ٹماٹر 250 روپے اور پیاز 100 روپے تک جا پہنچے ۔ برائلر مرغی کا گوشت 580، بڑا گوشت بغیر ہڈی کے 1800 اور چھوٹا گوشت 2800 روپے تک پہنچ گیا ۔پیکٹ کا دودھ فی لٹر 380 روپے ، کھلا تازہ دودھ 250 روپے ،کھلا دہی 280، چینی 150، گھی 610، دال مسور 320، دال مونگ 440، دال ماش 480، دال چنا 300، سفید چنے 340، باسمتی چاول 400، سرخ مرچ 850، ہلدی 800، سرسوں کا تیل 750 اورشکر 280 روپے فی کلو فروخت ہو رہیں، نہانے والا صابن 150 روپے ، سرف 700 روپے فی کلو اور ہاف رول بسکٹ 50 روپے تک پہنچ گیا ۔اسی طرح عام استعمال کی دیگر اشیاء بھی مہنگے داموں فروخت کی جا رہی ہیں۔ سبزیوں میں ٹینڈے 200، کدو 140، بھنڈی 150، کریلا 140، سبز مرچ 120، شملہ مرچ 130، ادرک 650، لہسن 400، سفید چونسہ درجہ اول 300، سنڈھری آم 250، آڑو 300، خوبانی درجہ اول 350، جامن 300، گرما 150 اور آلو بخارا 500 روپے فی کلو فروخت کیا جا رہا ہے ۔بجلی کے بھاری بھرکم بلوں اور 200 یونٹوں کی حد کے باعث شہری شدید پریشانی کا شکار ہیں اور روزانہ کی بنیاد پر اپنے بجلی کے میٹر چیک کرنے پر مجبور ہیں تاکہ 200 سے زائد یونٹ نہ ہو سکیں۔ عام استعمال کی دیگر اشیاء بھی مہنگی ہیں، جس کے باعث عام آدمی کے لیے گزر بسر اب کسی آزمائش سے کم نہیں رہا۔