عطا تارڑ سے اے پی این ایس، سی پی این ای وفود کی ملاقات

عطا تارڑ سے اے پی این ایس، سی پی این ای وفود کی ملاقات

اے بی سی نظام میں اصلاحات پر اتفاق،اخباری صنعت کے مسائل حل کرنیکی یقین دہانی اشتہاری مہمات میں ڈیجیٹل سائٹس کو بھی شامل کرنے ، مشترکہ کمیٹی بنانیکی ہدایت

اسلام آباد(دنیا رپورٹ)وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ سے کونسل آف پاکستان نیوز پیپرز ایڈیٹرز (سی پی این ای)کے صدر کاظم خان اور آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی (اے پی این ایس )کے صدر سینیٹر سرمد علی کی قیادت میں وفود نے ملاقات کی ۔اخباری صنعت کو درپیش مسائل، آڈٹ بیورو آف سرکولیشنز (اے بی سی) میں اصلاحات، نیوز ایجنسیوں کے بجٹ، میڈیا ہاؤسز کے واجبات، ڈمی اخبارات اور دیگر متعلقہ امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وفاقی وزیر اطلاعات اور سی پی این ای کے عہدیداروں نے اے بی سی کے نظام میں ضروری اصلاحات پر اتفاق کیا۔عطا اللہ تارڑ نے کہا حکومت آزاد، ذمہ دار اور مضبوط پرنٹ میڈیا پر یقین رکھتی ہے ۔ اخباری صنعت کو درپیش مسائل حل کیلئے تمام متعلقہ فریقوں سے مشاورت کا عمل جاری رکھا جائے گا۔ اے بی سی کے نظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ، مؤثر اور شفاف بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے ۔ آڈٹ بیورو آف سرکولیشنز میں ضروری اصلاحات، میڈیا ہاؤسز کے واجبات کی ادائیگی اور نیوز ایجنسیوں سے متعلق امور کو ترجیحی بنیادوں پر آگے بڑھایا جائے گا۔ صحافتی اداروں کو درپیش مسائل حل کیلئے ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے گا۔سی پی این ای کے وفد نے نئی پرنسپل انفارمیشن آفیسر رئیسہ عادل کو ذمہ داریاں سنبھالنے پر مبارکباد دیتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ انکی قیادت میں وزارت اطلاعات اور اخباری صنعت میں تعاون مزید مضبوط ہوگا۔

وفد نے سبکدوش ہونے والے پرنسپل انفارمیشن آفیسر مبشر حسن کی خدمات کو بھی سراہا ۔ملاقات میں وفاقی سیکرٹری اطلاعات و نشریات اشفاق خلیل بھی موجود تھے ۔دریں اثنا وفاقی وزیر اطلاعات سے اے پی این ایس کی ایگزیکٹو کمیٹی کے وفد کی ملاقات میں اخباری صنعت، حکومتی اشتہاری پالیسی اور ضابطہ جاتی اصلاحات سے متعلق مختلف اہم امور پر گفتگو کی گئی۔وفاقی وزیر نے اصولی طور پر اس تجویز سے اتفاق کرتے ہوئے وزارتِ اطلاعات و نشریات کے حکام کو ہدایت کی کہ وفاقی حکومت کی پرنٹ اشتہاری مہمات میں اخبارات کی ڈیجیٹل ویب سائٹس کو بھی شامل کیا جائے ۔اے پی این ایس کے وفد نے نشاندہی کی کہ وزیراعظم کی جانب سے پرنٹ میڈیا کیلئے سرکاری اشتہارات کی شرح میں اضافے کا اعلان پر تاحال نافذ نہیں کیا گیا، حالانکہ اخباری صنعت شدید معاشی مشکلات سے دوچار ہے ۔ اے پی این ایس نے تجویز دی کہ پرنٹ میڈیا کیلئے حکومتی اشتہارات کی شرح کو آڈٹ بیورو آف سرکولیشن (اے بی سی )سے منسلک نہ رکھا جائے ، اور جب تک اخبارات کے اشتہاری نرخوں کے تعین کے لیے نیا طریقۂ کار وضع نہیں کر لیا جاتااس وقت تک موجودہ اشتہاری نرخ برقرار رکھے جائیں ۔اے پی این ایس نے مزید کہا کہ حکومتی اشتہارات کی شرح مقرر کرنے کا اختیار دیگر ذرائع ابلاغ کے حوالے سے رائج پالیسی کے مطابق کابینہ ڈویژن سے وزارتِ اطلاعات و نشریات کو منتقل کیا جانا چاہیے ۔اجلاس میں آڈٹ بیورو آف سرکولیشن (اے بی سی)اور رجسٹرار کے دفتر میں اصلاحات اور تنظیمِ نو کی ضرورت پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

اے پی این ایس نے زور دیا کہ اخبارات کی رجسٹریشن سے متعلق قواعد و ضوابط کو تمام متعلقہ فریقین سے مشاورت کے بعد سادہ اور سہل بنایا جائے ۔وفاقی وزیر نے سیکر ٹری اطلاعات کو ہدایت کی کہ وزارتِ اطلاعات و نشریات اور اے پی این ایس کے نمائندوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی تشکیل دی جائے ، جو ان امور پر سفارشات مرتب کرے اور جامع پالیسی فریم ورک تجویزکرے ۔اے پی این ایس نے اس امر کی بھی نشاندہی کی کہ موجودہ حکومتی اشتہاری پالیسی بنیادی طور پر 1964 کے فریم ورک پر مبنی ہے ، جسکا موجودہ دور کے میڈیا کی ضروریات کے مطابق جامع جائزہ لینا ناگزیر ہے ۔ سوسائٹی نے تجویز دی کہ متعلقہ سرکاری اداروں کو اختیار دیا جائے کہ وہ اپنے ابلاغی مقاصد اور ٹارگٹ آڈینس کو مدنظررکھتے ہوئے خود اپنا میڈیا پلان تیار کریں۔وفد نے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے )کی جانب سے اخبارات میں شائع مواد کیخلاف کارروائی پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ اے پی این ایس کا مؤقف تھا کہ اخبارات اور انکی ویب سائٹس پر شائع مواد این سی سی آئی اے کے دائرئہ اختیار میں نہیں آتا، کیونکہ اخبارات یا انکی ویب سائٹس سے متعلق شکایات سننے کا اسے قانونی اختیار حاصل نہیں۔ ایسے معاملات کی سماعت اور فیصلہ کرنے کا واحد مجاز قانونی ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہے ۔اجلاس میں نیوز پرنٹ پر عائد ٹیکسوں سے متعلق مسائل بھی زیرِ غور آئے ۔ وفاقی وزیر نے اے پی این ایس کے وفد کو یقین دہانی کرائی کہ مسائل کے جلد از جلد حل کیلئے مؤثر اقدامات کیے جائینگے ۔وفاقی وزیر کے ہمراہ وفاقی سیکرٹری اطلاعات و نشریات اشفاق خلیل اور پرنسپل انفارمیشن آفیسر رئیسہ عادل بھی موجود تھیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...