ٹیلی کام ٹاورز بھی لوڈشیڈنگ سے متاثر، بجلی جاتے ہی انٹرنیٹ غائب

 ٹیلی کام ٹاورز بھی لوڈشیڈنگ سے متاثر، بجلی جاتے ہی انٹرنیٹ غائب

ٹاورز بل بروقت ادا کررہے تو پھر24 گھنٹے بجلی دینی چاہیے ،چیئرمین پی ٹی اے ٹیلی کام ٹاورز کو سولر پر منتقل کیا جائے اور لیتھیئم بیٹریاں نصب کی جائیں:قائمہ کمیٹی کمیٹی ارکان کاموبائل سگنلز اور انٹرنیٹ سروس کی خرابی پر بھی شدید تحفظات کا اظہار

اسلام آباد (ذیشان یوسفزئی) پاکستان میں ٹیلی کام کمپنیاں بھی لوڈشیڈنگ سے تنگ ہیں۔ ٹیلی کام ٹاورز پر بجلی بند ہوتے ہی انٹرنیٹ سروس متاثر ہو جاتی ہے ۔ چیئرمین پی ٹی اے نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ لوڈشیڈنگ ایک سنگین مسئلہ ہے جس کے حل کے لیے نیپرا کو خط لکھ دیا گیا ہے ۔ہم نے پورے پاکستان میں ایک سروے کیا جس کے مطابق اوسطاً 10 گھنٹے لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے جبکہ بعض علاقوں میں 18، 18 گھنٹے تک لوڈشیڈنگ ہوتی ہے ۔ ہم نے نیپرا کو لکھے گئے خط میں بتایا کہ موبائل ٹاورز کے بجلی کے بل مکمل اور بروقت ادا کیے جاتے ہیں اور یہ بجلی چوری میں بھی ملوث نہیں ہوتے ۔ اگر بل بروقت ادا ہو رہے ہیں تو ڈسکوز کو ٹاورز کو 24 گھنٹے بجلی فراہم کرنی چاہیے ۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اس معاملے پر وزیراعظم نے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے جو ڈسکوز کے ساتھ یہ معاملہ اٹھائے گی۔ یہ بات بھی زیرِ غور ہے کہ ٹیلی کام ٹاورز کے لیے الگ فیڈرز کیسے مختص کیے جائیں ۔ کمیٹی کے ارکان نے تجویز دی کہ ٹیلی کام ٹاورز کو سولر پر منتقل کیا جائے اور لیتھیئم بیٹریاں نصب کی جائیں تاکہ یہ مسئلہ حل ہو سکے۔

اس پر وفاقی وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ خواجہ نے کہا کہ اس تجویز پر بھی غور کیا جا رہا ہے اور چین میں ایک ایسی کمپنی سے ملاقات ہوئی ہے جو سولر مائیکرو گرڈز لگاتی ہے جن کا نیشنل گرڈ سے کوئی تعلق نہیں ہوتا ۔ اس کے علاوہ پاکستان میں ٹیلی کام ٹاورز سے چوری کے واقعات میں بھی اضافہ ہوا ہے ۔ شزا فاطمہ خواجہ نے بتایا کہ پاکستان میں ٹیلی کام ٹاورز پر چوری کے 9 ہزار واقعات ہو چکے ۔ٹاورز سے ڈیزل اور دیگر آلات چوری کیے جاتے ہیں جبکہ بعض علاقوں میں تو پورے کے پورے ٹاورز ہی ڈسمینٹل کر دئیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں 50 سے 55 ہزار ٹیلی کام ٹاورز موجود ہیں ۔ کمیٹی ارکان نے پاکستان میں موبائل سگنلز اور انٹرنیٹ سروس کی خرابی پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ مہیش کمار نے کہا کہ آج کل موبائل سروسز بہت خراب ہیں، موبائل پر آدھا منٹ بات کرنے کے بعد ہی سگنلز ڈراپ ہو جاتے ہیں جس پر شزا فاطمہ خواجہ نے بتایا کہ پاکستان میں صارفین اوسطاً پورے مہینے کے انٹرنیٹ استعمال کے لیے 285 روپے ادا کرتے ہیں۔ پاکستان میں انٹرنیٹ صارفین کی تعداد دوگنی ہو چکی ہے ۔ صارفین اوسطاً پورے مہینے کے انٹرنیٹ استعمال کے لیے ایک ڈالر سے بھی کم ادا کرتے ہیں۔ پاکستان میں انٹرنیٹ کے لیے صارفین کی اوسط ادائیگی پڑوسی ملک کے مقابلے میں چار گنا کم ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ان مسائل کے حل کے لیے کوششیں جاری ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...