پاکستان اور کویت کے درمیان وسیع تر دفاعی معاہدے پر بات چیت

پاکستان اور کویت کے درمیان وسیع تر دفاعی معاہدے پر بات چیت

بدلے میں کویت سے توانائی کے شعبے میں تعاون اور سرمایہ کاری حاصل کی جائے گی

اسلام آباد / ریاض (رائٹرز)پاکستان کویت کے ساتھ ایک وسیع تر دفاعی معاہدے کے لیے مذاکرات کر رہا ہے ، جس کے بدلے میں کویت سے توانائی کے شعبے میں تعاون اور سرمایہ کاری حاصل کی جائے گی۔مذاکرات سے باخبر 5ذرائع کے مطابق، یہ بات چیت ابھی   ابتدائی مراحل میں ہے اور ایک ذریعے کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کی وجہ سے یہ معاملہ مزید پیچیدہ ہو سکتا ہے ۔کویت کا پاکستان کے ساتھ 2023 سے تربیت اور مشترکہ مشقوں کا ایک محدود دفاعی معاہدہ پہلے سے موجود ہے ۔ تاہم، ایک پاکستانی سرکاری عہدیدار کے مطابق، اب کویت اسلام آباد سے سعودی عرب جیسے بڑے پیمانے کے معاہدے کی توقع کررہا ہے ، جس میں "ہزاروں کی تعداد میں زمینی افواج، لڑاکا طیارے ، ڈرونز، فضائی دفاعی نظام (ایئر ڈیفنس سسٹم) اور دیگر دفاعی سہولیات" شامل ہوں۔مذاکرات سے واقف ایک پاکستانی سکیورٹی عہدیدار نے بتایا:"کویت کی خواہشات کی فہرست میں سب کچھ شامل ہے ۔ لیکن میں ایک بات واضح کر دوں: ہم اس مرحلے پر جنگی دستوں (کمبیٹ ٹروپس) کی تعیناتی پر بالکل غور نہیں کر رہے اور نہ ہی کر سکتے ہیں۔"پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (ISPR) اور کویت کی وزارتِ اطلاعات نے اس حوالے سے تبصرہ کرنے کی درخواستوں کا کوئی جواب نہیں دیا۔گزشتہ ایک سال کے دوران پاکستان اور خلیجی ممالک نے نئے علاقائی دفاعی معاہدوں میں اپنے فائدے دیکھے ہیں۔ پاکستان ایک بڑی فوج کا حامل ہے اور اپنے لڑاکا طیارے خود تیار کرتا ہے ۔

خلیجی ممالک میں امریکی تحفظ کے قابلِ بھروسہ ہونے کے حوالے سے بڑھتے ہوئے خدشات کے بعد، پاکستان ان ممالک کے لیے ایک متبادل یا اضافی مددگار کے طور پر سامنے آیا ہے ۔مشرقِ وسطیٰ کے سکیورٹی پلاننگ سے واقف ایک ذریعے کا کہنا ہے کہ کویت میں پاکستان کو ایک محفوظ انتخاب سمجھا جاتا ہے ۔ انہوں نے کہا: "وہ پہلے ہی سعودی عرب کے ساتھ شامل ہیں، ان کی دفاعی ترقی کی ایک طویل تاریخ ہے ، وہ مسلم سنی ہیں اور امریکیوں کے ساتھ بھی ان کے اچھے تعلقات ہیں، اس لیے یہ آپشن دیگر ممالک کی طرح حساس نہیں ہے ۔"ذرائع کے مطابق، ترکی، پاکستان اور سعودی عرب ایک الگ باہمی دفاعی معاہدے کا مسودہ بھی تیار کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ، بحرین بھی اسی طرح کے معاہدے میں دلچسپی رکھتا ہے ، جبکہ اردن نے ہتھیاروں اور تربیت کے معاہدے کی خواہش ظاہر کی ہے ۔پاکستان ان دفاعی معاہدوں کو ملک میں فوری طور پر درکار سرمایہ کاری لانے کے ایک ذریعے کے طور پر دیکھ رہا ہے ۔ کویت کے ساتھ ممکنہ معاہدے کے حصے کے طور پر، اسلام آباد توانائی کی سکیورٹی پر تعاون کا خواہاں ہے ، جو کہ پاکستان کی وزارتِ توانائی کی جانب سے تیل اور ایندھن کے ذخائر کو بڑھانے کی وسیع تر کوششوں کا حصہ ہے ۔مذاکرات سے باخبر ایک پاکستانی ذریعے نے بتایا کہ کویت، پاکستان کے ساتھ مل کر ایک 'بانڈڈ فیول اسٹوریج' (محفوظ ایندھن کے ذخائر) قائم کرنے پر غور کر رہا ہے ، جو دونوں ممالک کے درمیان پہلے سے موجود ڈیزل کی فراہمی کے سرکاری معاہدے کو مزید وسعت دے گا۔دو ذرائع کا کہنا ہے کہ ایسی پیشکشیں پاکستانی قیادت کے لیے اتنی پرکشش ہو سکتی ہیں کہ وہ ایک بڑے دفاعی معاہدے کی طرف بڑھیں، اور جیسے ہی امریکہ-ایران کشیدگی کم ہوگی، ان مذاکرات کی رفتار تیز ہونے کی توقع ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...