پاکستان کا امریکی لابنگ فرم کے ساتھ 2سالہ معاہدہ

پاکستان کا امریکی لابنگ فرم کے ساتھ 2سالہ معاہدہ

مقصد واشنگٹن کیساتھ سکیورٹی تعاون بڑھانا معدنیات میں سرمایہ کاری کا حصول

 اسلام آباد (اے ایف پی)پاکستان نے ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ جنگی کشیدگی میں ثالثی کے ذریعے عالمی سطح پر اپنا اہم سفارتی کردار منوانے کے بعد، واشنگٹن کے ساتھ سکیورٹی تعاون بڑھانے اور معدنیات کے شعبے میں سرمایہ کاری حاصل کرنے کے لیے  ایک امریکی لابنگ فرم کی خدمات حاصل کر لی ہیں۔سرکاری ریکارڈ کے مطابق پاکستان نے دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں قائم "ارون گریوز اسٹر ٹیجی گروپ") کے ساتھ دو سال کے لیے 12لاکھ ڈالر (تقریبًا 50,000 ڈالر ماہانہ) کا معاہدہ کیا ہے ۔ یہ معاہدہ مئی سے نافذ العمل ہو چکا ہے ۔ اس معاہدے کا بنیادی مقصد افغان جنگ کے دور میں قائم پاک-امریکہ دفاعی تعاون کے اعلیٰ سطح طریقہ کار، خصوصاً "ڈیفنس کنسلٹیٹو گروپ" (DCG) کو دوبارہ فعال کرنا ہے ، جو امریکی امداد کی کمی کے بعد غیر فعال ہو گیا تھا۔ فرم پاکستان کے معدنیات کے شعبے (خاص طور پر بلوچستان میں تانبے اور سونے کے ذخائر) میں امریکی سرمایہ کاروں کو راغب کرنے کے لیے حکمتِ عملی تیار کرے گی۔ یہ اقدام چین کے اس شعبے میں اثر و رسوخ کو متوازن کرنے کی امریکی ترجیحات کے عین مطابق ہے ۔ لابی فرم امریکی کانگریس اور پینٹاگون کے سامنے افغانستان سے پیدا ہونے والے سکیورٹی خطرات کو اجاگر کرے گی اور پاکستان کی انسدادِ دہشت گردی کی کوششوں کے لیے امریکی حمایت حاصل کرنے پر کام کرے گی۔ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ ایک ایسے اہم وقت پر ہوا ہے جب ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے ساتھ پاکستان کے روابط میں نمایاں بہتری آئی ہے ۔ اس کے علاوہ گزشتہ جون میں امریکہ اور ایران کے درمیان عبوری معاہدہ کرانے میں پاکستان کی ثالثی نے واشنگٹن میں اسلام آباد کا وقار بڑھایا ہے ۔تاہم، امریکہ میں پاکستان کی سابق سفیر ملیحہ لودھی اور دیگر ماہرین کا کہنا ہے کہ پاک-امریکہ تعلقات میں اتار چڑھاؤ کی تاریخ کو دیکھتے ہوئے یہ دیکھنا باقی ہے کہ موجودہ سفارتی کامیابی کتنی پائیدار ثابت ہوتی ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...