حکومت گندم خریداری کیلئے نیانظام لارہی:نجم سیٹھی

حکومت گندم خریداری کیلئے نیانظام لارہی:نجم سیٹھی

آئی ایم ایف کے کہنے پر پاسکوبند، نئی کمپنی بنائی جائے گی جوحکومتی گوداموں کو کنٹرول کریگی نیاسسٹم لانے پربھی مسئلہ رہے گا، کسان اس کیلئے تیار نہیں:آج کی بات سیٹھی کیساتھ

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک )سینئر تجزیہ کار نجم سیٹھی نے کہا ہے کہ پچھلے سال یہ مسئلہ تھا کہ پنجاب حکومت نے گندم خریدنے سے انکار کرکے کسانوں کو کہا تھاکہ قیمت کم کریں جس پر کسانوں کومایوسی ہوئی، کسانوں نے احتجاج بھی کیا تھا ، حکومت نے کہاگندم نہیں خریدیں گے ، ہم خریداری کو پرائیویٹائز کررہے ہیں۔دنیا نیوز کے پروگرام آج کی بات سیٹھی کے ساتھ میں گفتگو کرتے ہوئے انہو ں نے مزید کہا کچھ لوگ کہہ رہے ہیں کہ گندم کا اس سال مسئلہ بنا ہے ، ہمیں بہت نقصان ہوا ہے ، ہمیں سپورٹ پرائس ٹھیک نہیں ملی،پھر اگلے سال ہم کم گندم اگائیں گے ،اسکے متبادل کوئی اور فصل اگا لیں گے ۔کسانوں نے گندم کی بجائے آلو،ٹماٹر اگائے ،کچھ لوگوں کا کہنا ہے اس سال گندم کی پیدوار ہی کم ہوئی ہے ،حکومت کے پاس پچھلے سال کا سٹاک تھا،اگر گندم کم کاشت  ہوئی تو قلت نہیں ہونی چاہیے ،چند لوگ کہہ رہے ہیں اب جو قلت ہوئی ہے ، اس کا مطلب یہ ہے کہ لوگوں نے ذخیرہ کرلیا ہے ، اس سال کاشت کم ہوئی اس وجہ سے گندم درآمد کرنا پڑ گئی ، اگرحکومت گندم درآمد کرلیتی ہے تو جن لوگوں نے ذخیرہ کر رکھی ہے اور وہ نکال دیتے ہیں تو گندم کی قیمت کریش کرجائیگی، پھر نقصان ہو گا ۔

یہ مسائل ہیں،اب یہ فیصلہ ہوگیا ہے کہ پاسکوکو بند کرنا ہے ، فیصلہ کیا گیا ہے کہ ملازمین کو سواچار ارب دیکر کمپنی کو بند دیں ۔ اسکے متبادل نئی کمپنی بنالی جائے جو درآمد نہیں کریگی، وہ ڈسٹری بیوٹ نہیں کرے گی، حکومتی گوداموں کو کنٹرول کرے گی، ان گوداموں کو کھول دے گی جو اپنی گندم سٹور کرنا چاہتے ہیں،ہم ان کو رسید دے دینگے ،یہ رسید بیچی بھی جاسکتی ہے ، ساتھ ساتھ سٹاک مارکیٹ کیلئے بھی تیاری ہورہی ہے ، حکومت ایسے سسٹم کی طرف جارہی ہے ، یہ نئی بات ہے ،لیکن ہمارا کسان اس کیلئے تیار نہیں ،یہ سب کچھ جلدی اس وجہ سے کیا جارہا ہے کہ کیونکہ حکومت کو آئی ایم ایف نے کہا ہے ، اسکے کہنے پر حکومت نیا سسٹم لارہی ہے ۔انہوں نے مزید کہا اگر حکومت یہ سسٹم لاتی بھی ہے پھر بھی مسئلہ رہے گا،سپورٹ پرائس، کسان کو کیسے پتا چلے گا کہ اگلے سال گندم کی کیا قیمت ملے گی، اگر کسانوں کو جائز قیمت نہیں ملے گی تو وہ گندم کاشت نہیں کرینگے ، حکومت کو چاہئے کہ کراس دی بارڈر دیکھے ، کہ انہوں نے کراس دی بارڈر کیسے کیا ہے ،اگر کسان کو پیسے چاہئیں تو حکومت ان کو پیسے دے ، اگر سبسڈی دینی ہے تو کسٹمر کو دے ،اگر حکومت نے کسانوں کے مسائل حل نہ کیے ،ان کوسہولتیں نہ دیں تو پھر اس سال اور اگلے سال لڑائی جھگڑوں کے بعد احتجاج ہونگے ۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...