جگر کے امراض صحت کے نظام کیلئے بڑا چیلنج، کیسنر میں ہوشربا اضافہ ریکارڈ

جگر کے امراض صحت کے نظام کیلئے بڑا چیلنج، کیسنر میں ہوشربا اضافہ ریکارڈ

آگاہی کی کمی اور بروقت سکریننگ نہ ہونے کے باعث باعث ہیپاٹائٹس بی اورسی پھیل رہے ،فیٹی لیور بھی عام پنجاب میں رجسٹرڈ و غیر رجسٹرڈ 2 کروڑ سے زائد افراد ہیپاٹائٹس سی ، 90لاکھ افراد ہیپاٹائٹس بی میں مبتلا ہیں پنجاب حکومت کا 2030 تک1کروڑ 65لاکھ شہریوں کی سکریننگ، علاج کا ہدف، مفت ٹیسٹ،ویکسین فراہم

لاہور (بلال چودھری ) پنجاب میں جگر کی بیماریوں نے صحت کے نظام کیلئے بڑا چیلنج کھڑا کر دیا ، آگاہی کی کمی اور بروقت سکریننگ نہ ہونے کے باعث ہیپاٹائٹس بی اورسی کے وائرس تیزی سے پھیل رہے ہیں جبکہ فیٹی لیور یعنی جگر میں چربی کے کیسز میں بھی ہوشربا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے ، پنجاب میں ہر دوسرا شخص فیٹی لیور کا شکار ہے ، غیر صحت مند خوراک، موٹاپا اور ورزش کی کمی اس کی بڑی وجوہات قرار دی گئی ہیں۔ اعدادوشمار کے مطابق پنجاب میں رجسٹرڈ و غیر رجسٹرڈ 2 کروڑ سے زائد افراد ہیپاٹائٹس سی میں مبتلا ہونے کا انکشاف ہوا ہے، جبکہ رجسٹرڈ مریضوں کی تعداد تقریباً 1 کروڑ ہے ،رجسٹرڈ و غیر رجسٹرڈ 90 لاکھ افراد ہیپاٹائٹس بی میں مبتلا ہیں جبکہ رجسٹرڈ مریضوں کی تعداد تقریباً 50 لاکھ ہے۔حالیہ سکریننگ میں ہیپاٹائٹس سی کی شرح 8اعشاریہ 9فیصد اور ہیپاٹائٹس بی کی شرح 8اعشاریہ 4فیصد ریکارڈ کی گئی۔

دیگر صوبوں کے مقابلے میں پنجاب میں ہیپاٹائٹس سی کی شرح سب سے زیادہ ہے ، خیبرپختونخوا میں 6اعشاریہ 5فیصد اور سندھ میں 6اعشاریہ 2فیصد ہے ، حکومت پنجاب نے 2030 تک1کروڑ 65لاکھ شہریوں کی سکریننگ اور ہر مثبت کیس کا مفت علاج کا ہدف مقرر کیا ہے ، فیلڈ ہسپتالوں اور موبائل کلینکس میں مفت ٹیسٹ، ویکسین اور گھر پر ادویات کی فراہمی بھی جاری ہے ۔طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف پچیس تیس فیصد مریضوں کو ہی اپنی بیماری کا علم ہے ،اس لئے آگاہی مہم ناگزیر ہے ۔ پروفیسرز کے مطابق ہیپاٹائٹس اور فیٹی لیور دونوں کا بروقت علاج نہ ہو تو جگر کا سروسس اور کینسر کا خطرہ کئی گنا بڑھ جاتا ہے ۔طبی ماہرین نے شہریوں پر زور دیا ہے کہ ہیپاٹائٹس کا ٹیسٹ لازمی کروائیں۔ ابتدائی تشخیص سے مکمل علاج ممکن ہے ویکسین لگوائیں جبکہ ہیپاٹائٹس B کی محفوظ اور مؤثر ویکسین موجود ہے ،سرنج ایک بار استعمال کریں، محفوظ خون کی منتقلی اور جراثیم سے پاک سرجیکل آلات کا استعمال یقینی بنائیں،شیونگ کا سامان، ٹوتھ برش اور نیل کٹر مشترکہ استعمال نہ کریں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...