حکومت کا عوام کے قریب نہ ہونا سب سے بڑا مسئلہ، واحد حل نئے انتظامی یونٹس : میاں عامر محمود، موجودہ نظام گرچکا، نئے صوبوں کیلئے سیاستدان مل بیٹھیں : محسن نقوی
موجود ہ سیاسی نظام تبدیل کرنا ہوگا ورنہ مزیددس سال بعد بھی وہی مسائل ہونگے ،ہم کیوں صرف سیاسی جماعت کی سوچ تک رہ گئے ، سیاسی نظام میں بزنس کمیونٹی کو بھی آگے آنا ہوگا،عام آدمی کو بنیادی سہولیات چاہئیں جو ہم نہیں دے پاتے :خطاب آئین نئے صوبوں کی اجازت دیتا، سیاسی جماعتیں اتفاق رائے سے فیصلے کریں:احسن بھون،بزنس کمیونٹی کو پارلیمنٹ میں مناسب نمائندگی دی جائے تو برآمدات 200 ارب ڈالر تک لے جا سکتے :ایس ایم تنویرودیگر کاپاکستان کی پہلی اکنامک سمٹ سے خطاب
اسلام آباد (ذیشان یوسفزئی،دنیا نیوز)وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی کاکہنا ہے پاکستان جس نظام کے تحت چل رہا ہے وہ گر چکا ہے ، موجود سیاسی نظام کو تبدیل کرنا ہوگا ، اس نظام کے تحت وزیراعظم 12 سے 14 گھنٹے کام کر رہے ہیں، وہ 18 گھنٹے بھی کام کریں تو اس کا کوئی فائدہ نہیں ،یہ صرف فائر فائٹنگ ہے ۔ نوجوانوں کولیپ ٹاپ ، ٹیبلٹس اور دو چار ہزار روپے دے کر خوش نہیں کیا جا سکتا، آپ نوجوان کہیں یا کاکروچ ، اگر یہ کاکروچ اکٹھے ہو گئے تو پورا نظام الٹ دیں گے ۔ ہم سب چاہتے ہیں کہ جمہوریت ہو لیکن جمہوریت کے اندر چار پانچ قسم کے نظام ہیں، نئے صوبوں کیلئے سیاستدان مل بیٹھیں، اس کو جو مرضی نام دیں، لیکن اسے عوام کی سطح پر لے کر جانا پڑے گا۔ میاں عامر محمود نے کہا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ حکومت اور حکمران عوام کے قریب نہیں ۔ تمام مسائل کا حل چھوٹے انتظامی یونٹس ہیں، جس سے اقتدار عام آدمی کے قریب ہوگا، بصورت دیگر تمام مسائل جوں کے توں برقرار رہیں گے ۔ میاں عامر محمود نے پاکستان فرسٹ سمٹ میں نئے انتظامی یونٹس کی تجویز دی جس کی تمام شرکا نے تائید کی۔
اسلام آباد میں گزشتہ روز پاکستان کی پہلی اکنامک سمٹ 2026 کا انعقاد کیا گیا۔ سمٹ میں ملک بھر کے چیمبرز آف کامرس کے نمائندے ، کاروباری برادری، صنعت کار، سول سوسائٹی کی شخصیات اور چیئرمین دنیا میڈیا گروپ میاں عامر محمود شریک ہوئے ۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی سمٹ میں شرکت کی۔ میاں عامر محمود نے شرکاء کے سامنے نئے انتظامی یونٹس کی تجویز رکھی، جس کی تمام شرکا نے تائید کی۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی نئے صوبوں کے قیام کے لیے میاں عامر محمود کی تجویز کی حمایت کی۔ محسن نقوی نے پاکستان فرسٹ سمت 2026 سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کوشش ہوتی ہے سیاسی تقریر نہ کروں،تاہم آج تھوڑی سی سیاسی تقریر کرنا پڑے گی۔ انہوں نے کہا کہ تمام صوبوں کے شرکا نے اپنے مسائل بتائے ، جن کے حل کے لیے سسٹم میں اصلاحات ضروری ہیں، سیاسی نظام چلانے والے بھی اسی ہال میں موجود ہیں اور سیاسی نظام کو فنڈنگ کرنے والے بھی یہیں بیٹھے ہیں، کوئی کسی مجبوری میں فنڈنگ دیتا ہے، جس دن آپ لوگوں نے فیصلہ کر لیا یہ نظام ٹھیک ہو جائے گا۔عام آدمی کو بنیادی سہولیات چاہئیں جو ہم نہیں دے پاتے۔
پاکستان جس نظام کے تحت چل رہا ہے وہ گر چکا ہے ،میاں عامر محمود کی تجاویز سنی ہیں، آپ مانیں یا نہ مانیں اس کا واحد حل نئے انتظامی یونٹس ہیں۔ ستر اسی سال سے مسائل وہی ہیں اور ایسے ہی چلتے آرہے ہیں،موجود ہ سیاسی نظام کو تبدیل کرنا ہوگا بصورت دیگر دس سال بعد بھی ایسی ہی تقاریر ہوں گی اور وہی مسائل ہوں گے ۔ محسن نقوی نے کہا کہ ہم سب چاہتے ہیں کہ جمہوریت ہو لیکن جمہوریت کے اندر چار پانچ قسم کے نظام ہیں جبکہ ہم چاہتے ہیں کہ یہی نظام چلے پھر چاہے ہم قرضے لیتے رہیں، اس نظام کے تحت وزیراعظم 12 سے 14 گھنٹے کام کر رہے ہیں، وہ 18 گھنٹے بھی کام کریں تو اس کا کوئی فائدہ نہیں ،یہ صرف فائر فائٹنگ ہے ،سوال یہ ہے کہ ان چیزوں کو کون ٹھیک کرے گا، ہم کیوں صرف سیاسی جماعت کی سوچ تک رہ گئے ہیں، خدارا سیاسی جماعتیں ملک کا اندرونی نظام بھی ٹھیک کریں، جب تک موجودہ سیاسی نظام ری سیٹ نہیں ہوگا، یہ فائر فائٹنگ ہی رہے گی۔
نئے صوبے کہہ لیں ،نئے انتظامی یونٹس کہہ لیں یا کوئی اور نام دے دیں لیکن یہ کرنا ہوگا اور اس کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کو اکٹھا ہونا پڑے گا ، چاہے وہ ایک دن، ایک مہینہ یا ایک سال بیٹھیں لیکن بیٹھنا پڑے گا، تمام سیاسی جماعتوں کو ایک کمرے میں بیٹھنا پڑے گا، نئے صوبوں سے لے کر ملک کے ایک ایک ایشو کو حل کرنا پڑے گا، جب تک یہ اکٹھے نہیں بیٹھیں گے ملک اسی حالت میں رہے گا۔ وفاقی وزیرداخلہ نے کہا کہ اس نظام میں ہر چیز بری نہیں مگر عام آدمی کو بنیادی ضروریات چاہئیں، عام آدمی کو حکومت کے ساتھ انٹریکشن چاہیے ، آج بھی دس گھنٹے کا سفر کر کے لوگ عدالت جاتے ہیں، کیا ان کا حق نہیں کہ گھر کے قریب انصاف مل سکے ؟ حل صرف ایک ہے ،صوبوں کو عوام کی سطح پر لے کر جانا پڑے گا۔ اس کو جو مرضی نام دیں، لیکن اسے عوام کی سطح پر لے کر جانا ہو گا ۔ اگر صوبوں کوعوام کی سطح پر نہیں لے کرجائیں گے تو مسائل یہی ہوں گے ۔
محسن نقوی نے کہا کہ جب تک نئے یونٹس نہیں بنیں گے اس وقت تک نئی لیڈرشپ نہیں آئے گی اوریہ سب کام نہیں ہوسکیں گے ۔ نوجوانوں کو لیپ ٹاپ ، ٹیبلٹس اور دو چار ہزار روپے ماہانہ دے کر خوش نہیں کیا جا سکتا، نوجوان چاہتے ہیں سسٹم کو ٹھیک کیا جائے ، انہیں جائز طریقے سے ملازمت ملے ، نوجوان نسل نوکریاں اور اپنا حق مانگتی ہے ، آپ نوجوان کہیں یا کاکروچ کہیں لیکن انہیں مواقع چاہئیں، اگر انہیں مواقع نہیں دیں گے اور یہ کاکروچ اکٹھے ہو گئے تو پورا نظام الٹ دیں گے ۔ نوجوان میرٹ، نوکریاں اور اپنا حق مانگتے ہیں۔ انہیں دو چار ہزار روپے ماہانہ نہیں چاہئیں وہ دو چار ہزار ڈالر خود کما لیں گے آپ صرف انہیں مواقع دیں۔ انہوں نے کہا کہ جب تک اس ملک کی بنیاد کو ٹھیک نہیں کریں گے یہ ملک ایسا ہی رہے گا، سیاسی نظام میں بزنس کمیونٹی کو بھی آگے آنا ہوگا، بزنس کمیونٹی کو اپنے لیے خود کھڑا ہونا ہوگا ورنہ اسی طرح چیزیں چلتی رہیں گی، بزنس مین کو لیڈنگ رول ادا کرنا ہوگا، بزنس کمیونٹی فنڈنگ تو کرتی ہے مگر سیاست میں نہیں آتی، نظام کی تنظیم نو کے بغیر بہتری ممکن نہیں۔نئے صوبوں کے معاملے کو پارلیمنٹ اور یونیورسٹیز میں لانا چاہیے ۔
محسن نقوی نے کہا کہ وہ بزنس کمیونٹی کے ساتھ کھڑے ہیں اور ہر ممکن سپورٹ کا یقین دلاتے ہیں، پوری امید ہے کہ اگر ہم سب متحد ہوں گے تو تمام مسائل حل ہو سکتے ہیں۔ سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے میاں عامر محمود نے کہا کہ انہوں نے کاروباری برادری کے رہنماؤں کی گفتگو بڑی توجہ سے سنی ہے ، ان کے مسائل کا جائزہ لینے کے بعد انہیں محسوس ہوا کہ ایک سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ حکومت اور حکمران عوام کے قریب نہیں ہیں۔ حکمران اگر آپ کے قریب ہوں گے تو مسائل حل ہوں گے ۔ نئے انتظامی یونٹس نہ بنانے سے گورننس مسائل بڑھ رہے ہیں، حکومت کو بزنس کمیونٹی کے قریب آنا ہوگا۔ اگر حکمران لوگوں کے درمیان رہ کر ان کے مسائل سنیں اور انہیں سمجھیں تو ان کے حل بھی زیادہ مؤثر انداز میں نکال سکتے ہیں۔
میاں عامر محمود نے کہا کہ انہیں خوشی ہے کہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی تقریب میں موجود ہیں، انہوں نے پنجاب کے نگران وزیراعلیٰ کی حیثیت سے بھرپور محنت کی اور صوبے کو بہترین انداز میں چلایا، آج وہ وفاق میں اس سے بھی زیادہ ذمہ داری کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب جیسے وسیع صوبے کے ہر علاقے تک پہنچنا، ہر مسئلے کو خود دیکھنا اور ہر شہری تک رسائی حاصل کرنا ایک ہی انتظامی ڈھانچے کے لیے ممکن نہیں، اسی احساس نے انہیں اس تجویز پر کام کرنے پر مجبور کیا۔ انہوں نے کہا کہ 1947 میں چار صوبے تھے ، آج بھی وہی ہیں اور آبادی 25 کروڑ تک بڑھ چکی ہے ۔ اس دوران غیر ترقیاتی اخراجات تقریباً 6 ہزار 800 ارب روپے تک پہنچ گئے مگر اس کے باوجود مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو سکے ۔ انہوں نے کہا کہ 1951 کی مردم شماری کے مطابق پنجاب کی آبادی تقریباً دو کروڑ، سندھ کی 60 لاکھ، خیبرپختونخوا کی 58 لاکھ اور بلوچستان کی صرف 11 لاکھ تھی، آج ان تمام صوبوں کی آبادی کئی گنا بڑھ چکی ہے لیکن انتظامی نظام تقریباً وہی ہے۔
میاں عامر محمود نے کہا کہ پنجاب کی آبادی تقریباً 13 کروڑ ہے جبکہ سندھ، خیبرپختونخوا اور بلوچستان کی آبادی بھی مسلسل بڑھ رہی ہے مگر اس کے مطابق نئے انتظامی یونٹس قائم نہیں کیے جا سکے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ تا ٔثر درست نہیں کہ صوبائی حدود تبدیل نہیں کی جا سکتیں، پاکستان بننے کے بعد متعدد بار صوبائی سرحدوں میں تبدیلیاں کی گئیں، ریاست بہاولپور کو پنجاب، سابق ریاست خیرپور کو سندھ، جبکہ ریاست سوات، دیر، چترال اور امب کو خیبرپختونخوا میں شامل کیا گیا، اسی طرح بلوچستان میں قلات، لسبیلہ، خاران اور مکران کو شامل کیا گیا، اس لیے ہر صوبے کی حدود میں ماضی میں تبدیلیاں ہو چکی ہیں۔ میاں عامر محمود نے کہا کہ حکومتوں نے وقت کے ساتھ ڈویژنز اور اضلاع کی تعداد ضرور بڑھائی لیکن اس سے گورننس میں وہ بہتری نہیں آ سکی جس کی امید کی جا رہی تھی، پنجاب اس وقت دنیا کے 182 ممالک سے بڑا ہے، سندھ دنیا کے 162، خیبر پختونخوا دنیا کے 152 اور بلوچستان رقبے کے لحاظ سے دنیا کے 172 ممالک سے بڑا ہے۔
ہم نے صوبوں میں ڈویژنز اور اضلاع کی تعداد میں اضافہ کیا، لیکن مسائل وہی ہیں، اس کا ایک ہی حل ہے کہ نئے انتظامی یونٹس بنائے جائیں۔میاں عامر محمود نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان وہ واحد ممالک ہیں جہاں اب بھی پولیو موجود ہے ، پاکستان میں ڈھائی کروڑ بچے سکول سے باہر ہیں جو دنیا کے کسی بھی ملک میں نہیں، 40 فیصد بچوں کی اسٹنٹنگ گروتھ ہو رہی ہے اور ہمارا 25 سال بعد کا مستقبل بھی خراب ہو رہا ہے ۔ پاکستان ایس ڈی جیز، رول آف لا، ہنگر انڈیکس سمیت دیگر شعبوں میں بھی پیچھے ہے ۔ ان تمام مسائل کا حل چھوٹے انتظامی یونٹس ہیں، جس سے اقتدار عام آدمی کے قریب ہوگا، بصورت دیگر تمام مسائل جوں کے توں برقرار رہیں گے ۔ میاں عامر محمود نے مزید کہا کہ نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کے بننے سے اخرجات میں اضافہ نہیں ہوگا بلکہ موجود ہ اخراجات میں کمی آئے گی اور بہترین طریقے سے عوام کو اختیار منتقل ہوگا۔
ماہر قانون دان احسن بھون نے سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انتظامی یونٹس درست نہیں ، نئے صوبے بنانے کی اجازت پاکستان کا آئین دیتا ہے ، آئین کے آرٹیکل ون میں اس کا ایک طریقہ کار موجود ہے ۔ آئین پاکستان کا آرٹیکل 239 اجازت دیتا ہے کہ اگر آپ صوبوں کی سرحدوں کو تبدیل کرنا چاہتے ہیں تو اسی صوبے کی اسمبلی دو تہائی اکثریت سے قرا رداد پاس کرے اور پھر پارلیمنٹ قرارداد پاس کرے تو نئے صوبے بن سکتے ہیں اور یہی موجود ہ مسائل کا واحد حل ہے ۔ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر احسن بھون نے سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نئے انتظامی یونٹس کا قیام بنیادی مسائل کا حل ہے ، سیاسی جماعتیں اتفاق رائے سے فیصلے کریں۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، گوہر اعجاز، ایس ایم تنویر اور میاں عامر محمود کو مبارکباد دیتا ہوں، میاں عامر محمود نے تمام مسائل کی نشاندہی کر دی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایڈمنسٹریٹو یونٹس نہ بنانا اصل مسئلہ ہے ، آئین کا آرٹیکل ون کہتا ہے کہ نئے ایڈمنسٹریٹو یونٹس بنائے جا سکتے ہیں۔
آئین پاکستان کا آرٹیکل 239 اجازت دیتا ہے کہ اگر آپ صوبوں کی سرحدوں کو تبدیل کرنا چاہتے ہیں تو اسی صوبے کی اسمبلی دو تہائی اکثریت سے قرار داد پاس کرے اور پھر پارلیمنٹ قرا رداد پاس کرے تو نئے صوبے بن سکتے ہیں ۔ ایک پارٹی حکومت میں آتی ہے تو دوسری پارٹیوں کے حقوق کو بھول جاتی ہے ، سیاست دانوں کو اختلاف رائے سننے کی ہمت پیدا کرنی چاہیے ، تمام سیاسی جماعتیں اتفاق رائے سے صوبوں کے مطالبات کو دیکھیں۔ انہوں نے کہا کہ دشمن پاکستان میں عدم استحکام پھیلانا چاہتا ہے ، ہماری فورسز ملک کی خاطر جانوں کے نذرانے پیش کر رہی ہیں، پاک بھارت جنگ میں اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو سرخرو کیا، فیلڈ مارشل اور محسن نقوی کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ احسن بھون نے کہا کہ میاں عامر محمود نے بہت اچھے طریقے سے مسائل کی نشاندہی کی ہے ، حکومت کو ان مسائل کو دیکھنا ہوگا، ہم سب کو مل کر عوام کی بہتری کے لیے کام کرنا ہوگا۔
پاکستان کی پہلی اکنامک سمٹ 2026 سے خطاب کرتے ہوئے یونائیٹڈ بزنس گروپ (یو بی جی) کے پیٹرن انچیف ایس ایم تنویر کاکہنا تھابزنس کمیونٹی کو پارلیمان میں مؤثر نمائندگی دی جانی چاہیے ۔ انہوں نے تجویز دی کہ بزنس کمیونٹی کے لیے ہر صوبے سے سینیٹ کی دو، قومی اسمبلی کی چار اور صوبائی اسمبلیوں کی 10 نشستیں مختص کی جائیں، اس مقصد کے لیے آئین میں ترمیم کرنا ہوگی۔ اگر بزنس کمیونٹی کو مناسب نمائندگی دی جائے تو پاکستان کی برآمدات 100 ارب ڈالر سے بڑھا کر 200 ارب ڈالر تک لے جائی جا سکتی ہیں۔سیالکوٹ والے کہتے ہیں ہم پر ہاتھ رکھیں، ایکسپورٹ ڈبل کر دیں گے ۔ ایس ایم تنویر نے کہا پاکستان کی کاروباری برادری معیشت کی بہتری کے لیے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوئی ہے اور موجودہ معاشی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے ۔ بجلی کی قیمتوں میں کمی کے لیے ایف پی سی سی آئی نے اہم کردار ادا کیا، جس سے کاروباری طبقے کو ریلیف ملا۔
پاکستانی بزنس کمیونٹی آج معیشت کی بہتری کیلئے جمع ہوئی ہے ، بجلی میں کمی کیلئے ایف پی سی سی آئی نے اہم کردار ادا کیا، 36 ڈویژنز میں بڑی صلاحیتیں ہیں، ہر ضلع سے ایک ارب ڈالر ایکسپورٹ ممکن ہے ۔ وزیراعظم اور فیلڈ مارشل بھرپور محنت کر رہے ہیں، سسٹم میں کوئی ایسا ہے جو خرابی پیدا کر رہا ہے ۔پاکستان کے فرسٹ اکنامک سمٹ 2026 سے خطاب کرتے ہوئے وفاق ایوان ہائے صنعت و تجارت کے صدر عاطف اکرام شیخ نے کہا کہ وزیراعظم کی پالیسیوں سے کاروباری برادری کو ریلیف ملا ہے ۔ انہوں نے وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کی قیادت کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ برآمدکنندگان پر عائد اضافی ٹیکس میں کمی اور جائیداد کی خریداری پر اضافی ٹیکس کے خاتمے پر کاروباری برادری حکومت کی شکر گزار ہے ۔
حکومت نے ایف پی سی سی آئی کی متعدد تجاویز کو وفاقی بجٹ کا حصہ بنایا، جس سے کاروباری طبقے کو ریلیف ملا، پاکستان میں گروتھ ریٹ بڑھتے ہی خسارے کا سامنا کرنا پڑتا ہے ، تاہم موجودہ معاشی پالیسیوں کے باعث سرمایہ کاری میں اضافہ ہو رہا ہے ۔ صدر ایف پی سی سی آئی نے کہا کہ پاکستان کے پاس ترقی کی بھرپور صلاحیت اور قوت موجود ہے اور درست معاشی حکمت عملی کے ذریعے ملک کو پائیدار اقتصادی استحکام کی راہ پر گامزن کیا جا سکتا ہے ۔ عاطف اکرام شیخ کا کہنا تھا کہ معرکۂ حق میں پاکستان نے بھارت کو شکست دی جبکہ ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی میں بھی پاکستان نے اہم ثالثی کا کردار ادا کیا۔ انہوں نے بہادر افواج پاکستان اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ وطن کے جوان اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر قوم کو امن اور سکون فراہم کرتے ہیں، پوری قوم شہدا کی قربانیوں پر غم زدہ ہوتی ہے اور پائیدار امن کے لیے عوام اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments