بلوچستان : 4 روز قبل اغوا 6 مزدوروں کی گولیوں سے چھلنی لاشیں برآمد

بلوچستان : 4 روز قبل اغوا 6 مزدوروں کی گولیوں سے چھلنی لاشیں برآمد

دہشتگردوں نے مزدوروں کو فائرنگ کرکے قتل کیا،لاشیں کیچ کے قریبی علاقہ ناصر آباد میں پھینک دیں :پولیس 4 مزدوروں کاپنجاب ، 2 کا پختونخوا سے تعلق:بلوچستان حکومت، شدت پسند نہتے شہریوں کو نشانہ بنا رہے :وزیر داخلہ

کوئٹہ(سٹاف رپورٹر،مانیٹرنگ ڈیسک) بلوچستان میں تربت سے 4روز قبل اغوا کئے گئے 6 غیر مقامی مزدوروں کی گولیوں سے چھلنی لاشیں برآمد ہوگئیں ۔بلوچستان پولیس کے مطابق ضلع کیچ تحصیل تربت کے علاقے کلاتک سے 27جولائی کو مسلح دہشت گردوں نے 6مزدوروں کو اغواکر لیا تھا اور گزشتہ روز ان کی گولیوں سے چھلنی لاشیں برآمد ہو گئیں۔تھانہ ناصر آباد کے ایس ایچ او داد بخش نے بتایا کہ لاشیں تربت شہر سے تقریباً 40 کلومیٹر دور ناصر آباد میں ایک سکول کے قریب سے ملی ہیں ،مقتولین کی آنکھوں پر پٹیاں بندھی تھیں اور انہیں جسم کے مختلف حصوں پر گولیاں ماری گئیں ،سکیورٹی اداروں نے موقع پر پہنچ کر لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لیے ٹیچنگ ہسپتال تربت منتقل کر دیا۔

پولیس کے مطابق شہید مزدوروں میں سے 4 کا تعلق پنجاب اور 2 کا تعلق خیبر پختونخوا سے ہے ،پنجاب سے تعلق رکھنے والے مقتولین میں سے 3افراد محمد تیمور ولد محمد رفیق، محمد وزیر ولد محمد رمضان اور محمد پرویز ولد بشیر احمدضلع بہاولپور جبکہ ایک مزدور محمد ارشد ولد محمد رفیق ضلع لودھراں تحصیل دنیا پور کا رہائشی تھا ۔ جبکہ خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے مقتولین میں بونیر کے امجد خان ولد زری بان شاہ اور صوابی کے یحیی ولد نوروز خان شامل ہیں۔ تربت پولیس کے ایک سینئر افسر نے واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ان افراد کو27جولائی بروز پیر کی شام تربت کے نواحی علاقے کلاتک کے مقام سے اس وقت اغوا کیا گیا جب مسلح شدت پسندوں نے مرکزی شاہراہ پر ناکہ بندی کر رکھی تھی، یہ مزدور ایک مقامی تحصیلدار کے گھر تعمیراتی کام ختم کرنے کے بعدگاڑی پر اپنے رہائشی کوارٹر کی طرف جا رہے تھے۔

مسلح افراد نے گاڑی سے 7 مزدوروں کو اتارا اورکچھ دیر بعد وہیں پختونخوا ضلع صوابی سے تعلق رکھنے والے ایک مزدور جاوید خان کو گولی مار کر قتل کر دیا اورباقی چھ مزدوروں کو اپنے ساتھ لے گئے تھے ۔بلوچستان کے معاون برائے محکمہ داخلہ بابر یوسفزئی نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ملوث عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا ،یہ کارروائی ایسے شرپسند عناصر نے کی ہے جو بیرونی سرپرستی میں بلوچستان کے امن و استحکام کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں،حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ملزموں کی گرفتاری اور انھیں کٹہرے میں لانے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائیں گے ۔علاوہ ازیں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی واقعے کی مذمت کرتے ہوئے اسے ایک بہیمانہ اور سفاکانہ کارروائی قرار دیا ہے۔

اپنے بیان میں انہوں نے اظہار تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردوں نے بے گناہ محنت کشوں کو نشانہ بنا کر نہ صرف قیمتی انسانی جانیں چھینیں بلکہ بلوچستان کی ترقی اور مقامی روزگار پر بھی حملہ کیا ، ’’فتنہ الہندوستان ‘‘سے تعلق رکھنے والے شدت پسند اب معصوم اور نہتے شہریوں کو نشانہ بنا رہے ہیں ، ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔دریں اثنا وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے بھی کیچ میں دہشت گردی کے واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے دہشتگردوں کی فائرنگ سے 6 مزدوروں کی شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ۔انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ سانحہ کیچ فتنہ الہندوستان کے شیطان صفت دہشت گردوں کی بدترین بربریت ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...