بینک اکائونٹ میں رقم آنے سے جعلسازی یا الیکٹرانک فراڈ ثابت نہیں ہوتا : لاہور ہائیکورٹ

بینک اکائونٹ میں رقم آنے سے جعلسازی یا الیکٹرانک فراڈ ثابت نہیں ہوتا : لاہور ہائیکورٹ

استغاثہ ثابت کرے کہ ملزموں نے شکایت کنندہ کو دھوکہ دے کر سرمایہ کاری پر آمادہ کیا، جعلی ریکارڈ تیار کیا ورچوئل اثاثے یا کرپٹو کرنسی یہاں قانونی زر مبادلہ نہیں، انہیں ممنوعہ قرار نہیں دیا جا سکتا:جسٹس طارق سلیم

لاہور(کورٹ رپورٹر ) لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس طارق سلیم شیخ نے کرپٹو کرنسی کے ذریعے لین دین سے متعلق ایک اہم مقدمے میں 3ملزموں کی عبوری قبل از گرفتاری ضمانتیں منظور کرتے ہوئے اپنے فیصلے میں اہم قانونی اصول طے کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ صرف آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے ورچوئل اثاثوں کی منتقلی یا بینک اکاؤنٹ میں رقم کی آمد سے کوئی شخص ازخود دھوکہ دہی، جعلسازی یا الیکٹرانک فراڈ کا مرتکب قرار نہیں دیا جا سکتا۔ عدالت عالیہ نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کردیا۔

فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے )نے درخواست گزار حماد علی، اسد امجد اور محمد اطہر کیخلاف تعزیرات پاکستان اور پیکا ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا تھا،تینوں پر الزام تھا کہ وہ پی ٹو پی مرچنٹس کے طور پر کام کرتے ہوئے شکایت کنندہ سے رقوم وصول کرنے والے افراد میں شامل ہیں اور ان کے بینک اکاؤنٹس میں مختلف اوقات میں رقوم منتقل کی گئیں۔عدالتی فیصلے کے مطابق شکایت کنندہ محمد فرحان نے ایف آئی اے کو بتایا کہ اس نے کرپٹو کرنسی میں مجموعی طور پر 2 لاکھ 70 ہزار یو ایس ڈی ٹی خریدنے کیلئے تقریباً 6 کروڑ 86 لاکھ روپے مختلف افراد کو منتقل کئے بعد میں کرپٹو پلیٹ فارم نے اس کا اکاؤنٹ منجمد کر دیا جس کے باعث وہ اپنے ورچوئل اثاثوں تک رسائی حاصل نہ کر سکا۔

جسٹس طارق سلیم شیخ نے فیصلے میں اہم قانونی اصول طے کیا کہ صرف آن لائن پلیٹ فارم کے ذریعے ورچوئل اثاثوں کی منتقلی یا کسی شخص کے اکاؤنٹ میں رقم آنے سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ اس نے دھوکہ دہی، جعلسازی یا الیکٹرانک فراڈ کیا،استغاثہ کیلئے ضروری ہے کہ وہ ثابت کرے کہ ملزموں نے شکایت کنندہ کو دھوکہ دے کر سرمایہ کاری پر آمادہ کیا، جعلی ڈیٹا یا جعلی الیکٹرانک ریکارڈ تیار کیایا پلیٹ فارم کے اکاؤنٹ منجمد ہونے میں ان کا کوئی کردار تھا۔عدالت نے قرار دیا کہ ورچوئل اثاثے یا کرپٹو کرنسی پاکستان میں قانونی زر مبادلہ نہیں تاہم صرف اس بنیاد پر انہیں غیر قانونی یا ممنوعہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔

صرف اس وجہ سے کہ کسی نے یو ایس ڈی ٹی کی خرید و فروخت کی، اسے فارن ایکسچینج ریگولیشن ایکٹ کی خلاف ورزی کا مرتکب قرار نہیں دیا جا سکتا جب تک بیرون ملک ادائیگی یا غیر قانونی زرمبادلہ کا واضح تعلق ثابت نہ ہو۔ فیصلے کے مطابق ریکارڈ پر ایسا کوئی مواد موجود نہیں جس سے ظاہر ہو کہ درخواست گزاروں نے شکایت کنندہ کو دھوکہ یا الیکٹرانک فراڈ کیا ۔عدالت نے درخواست گزاروں کی عبوری قبل از گرفتاری ضمانت کنفرم کرتے ہوئے ایک، ایک ملین روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کرانے کا حکم دے دیا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...