قیاس آرائی پر فوجداری سزا برقرار نہیں رکھی جا سکتی:سپریم کورٹ
استغاثہ کوالزام ثابت کرناہوتاہے ،خیانت کیس کاتحریری فیصلہ،ڈاکٹروقارکی سزاکالعدم تبادلے کی بنیاد پر ہونیوالے لین دین پر حقِ شفعہ کا دعویٰ برقرار نہیں رہتا،سول اپیل پرفیصلہ
اسلام آباد(اے پی پی)سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 409 کے تحت مجرمانہ خیانت کا مقدمہ اسی وقت ثابت ہو سکتا ہے جب استغاثہ یہ ثابت کرے کہ متعلقہ رقم یا جائیداد ملزم کے سپرد کی گئی تھی یا اس کے قانونی تصرف میں تھی، جبکہ قیاس آرائی یا مفروضوں پر فوجداری سزا برقرار نہیں رکھی جا سکتی۔ عدالت نے انہی قانونی اصولوں کی روشنی میں ڈاکٹر وقار حمید کی نظرثانی درخواست منظور کرتے ہوئے ان کی سزا کالعدم قرار دے دی۔جسٹس شکیل احمد نے تین رکنی بینچ کی جانب سے فوجداری نظرثانی درخواست نمبر 122/2019 میں فیصلہ تحریر کیا۔عدالت نے قرار دیا کہ اگر استغاثہ کا مقدمہ دونوں ملزمان کے خلاف ایک ہی نوعیت کے شواہد پر مبنی ہو اور باقی ملزم کے خلاف کوئی آزاد اور مضبوط ثبوت موجود نہ ہو تو انصاف اور برابری کے اصول تقاضا کرتے ہیں کہ اس معاملے کا ازسرنو جائزہ لیا جائے ۔ علاوہ ازیں جسٹس شاہد بلال حسن نے جسٹس مسرت ہلالی پر مشتمل سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے سول اپیل پرمحفوظ کیا گیا فیصلہ جاری کرتے ہوئے قراردیا کہ تبادلے کی بنیاد پر ہونے والے لین دین پر حقِ شفعہ کا دعویٰ برقرار نہیں رہتا، عدالت نے مزید واضح کیا کہ حقِ شفعہ ایک کمزور قانونی حق ہے ، اس لیے اس سے متعلق قوانین کی سختی سے تشریح کی جائے گی اور یہ ثابت کرنے کی ذمہ داری دعویٰ کرنے والے پر ہوگی کہ متعلقہ لین دین درحقیقت فروخت تھا ، نہ کہ تبادلہ۔ سپریم کورٹ نے اپیلیں منظور کرتے ہوئے لاہور ہائی کورٹ اور اپیلیٹ عدالت کے فیصلے کالعدم قرار دے دیئے اور ٹرائل کورٹ کا وہ فیصلہ بحال کر دیا جس میں حقِ شفعہ کا دعویٰ مسترد کیا گیا تھا۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments