لاہور:تھانے میں ذہنی معذور لڑکی سے زیادتی،78اہلکار معطل:دوسرے تھانے میں2زیر حراست خواتین کی موت
تھانہ غازی آباد کا اے ایس آئی عمران ذہنی معذور (ن)کوڈرا دھمکا کر لایا تھا، ملزم کے خلاف مقدمہ درج تھانہ ٹاؤن شپ میں انمول اور آمنہ چوری مقدمہ میں گرفتار تھیں، بظاہر نشہ نہ ملنے پر دم توڑگئیں :پولیس
لاہور (کرائم رپورٹر،دنیا نیوز،مانیٹرنگ ڈیسک) صوبائی دارالحکومت کے تھانہ غازی آباد کے اندر تھانیدار کی ذہنی معذور لڑکی سے مبینہ زیادتی پر تھانے کی پوری نفری معطل ، ایس ایچ او ، 2 سب انسپکٹر، 8 اے ایس آئیز سمیت 78 اہلکار شامل ہیں،متاثرہ لڑکی کی والدہ نے وزیر اعلیٰ پنجاب سے انصاف کی اپیل کر دی،دوسری طرف تھانہ ٹاؤن شپ میں انویسٹی گیشن پولیس کی تحویل میں 2 خواتین پراسرار طور پر جاں بحق ہو گئیں ۔تفصیلات کے مطابق تھانہ غازی آبادمیں تعینات انویسٹی گیشن کا اے ایس آئی عمران 3روز قبل ذہنی معذور 16 سالہ بھکارن لڑکی (ن)کوڈرا دھمکا کر موٹر سائیکل پر بٹھا کر تھانے لایا اور انویسٹی گیشن روم نمبر 4 میں لے جا کر زیادتی کانشانہ بنایا ، وقوعہ کے بعد خود ہی متاثرہ لڑکی کو واپس گھر چھوڑ آیا ۔پولیس کے مطابق گیٹ ڈیوٹی پر تعینات سنتری نے اے ایس آئی سے لڑکی بارے دریافت کیاتو عمران نے جواب دیا کہ ملزمہ ہے ،اسے تفتیش کیلئے پکڑ کر لایا ہوں ۔پولیس کے مطابق ورثا لڑکی کے اغواکی درخواست دینے تھانہ آئے تھے مگر اسی دوران ورثا کو گھر سے فون آگیا کہ لڑکی واپس آگئی ہے ۔ پولیس نے ملزم اے ایس آئی کیخلاف مقدمہ درج کرکے اسے حوالات میں بند کر دیا۔ذرائع کے مطابق ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے گزشتہ سے پیوستہ شب ڈیڑھ بجے تھانہ غازی آباد کا دورہ کیا اور لڑکی سے زیادتی واقعے پر کارروائی میں تاخیر اور اعلیٰ افسروں کو بروقت آگاہ نہ کرنے پر تھانہ کے ایس ایچ او سمیت 78 اہلکاروں پر مشتمل پورے عملہ کو معطل کر دیا اور تمام نفری کی معطلی کی باقاعدہ رپورٹ درج کر دی گئی۔ معطل ہونے والوں میں فرنٹ ڈیسک کا عملہ ،ایس ایچ او ، 2 سب انسپکٹر، 8 اے ایس آئیز ،ہیڈ کانسٹیبلز، ڈرائیور بھی شامل ہے ۔
ادھر متاثرہ بچی کی والدہ کا کہنا ہے کہ اے ایس آئی نے ا نکی بیٹی پر تشدد کیا،بچی خوفزدہ ہو کر اسکے ساتھ موٹر سائیکل پر بیٹھ کر تھانے گئی، ہم نے بچی کو تلاش کیا تو بچی بارے کچھ پتہ نہ چلا۔تھانے گئے تو وہاں اہلکاروں نے بتایا آپکی بچی یہاں نہیں آئی، پھر رات 9 بجے (ن)واپس گھر آئی تو اسکی طبیعت بہت خراب تھی ،اس نے بتایا کہ اس کیساتھ تھانے میں بہت ظلم ہوا ،وزیر اعلیٰ مریم نواز سے اپیل ہے ہمیں انصاف فراہم کیا جائے ۔ ڈی آئی جی انویسٹی گیشن ذیشان رضاکا کہنا ہے کہ متاثرہ لڑکی کا میڈیکل کروا لیا ہے ، ملزم عمران کا چار روزہ ریمانڈ حاصل کر لیا ،کیس کی تفتیش جاری ہے ،تفتیش میں مزید حقائق سامنے آئیں گے ۔دریں اثنا پولیس ترجمان کے مطابق ایس ایچ او غازی آباد شہریار کو معطل کر کے انکی جگہ علی زیب دستگیر کو نیا ایس ایچ او تعینات کر دیا گیا ہے ۔ ادھر تھانہ ٹاؤن شپ میں زیر حراست ملزم خواتین پراسرار طور پر جاں بحق ہوگئیں، انمول اور آمنہ چوری، فراڈ کے الزام میں گرفتار تھیں۔ پولیس ذرائع کے مطابق دونوں ریکارڈ یافتہ اور مبینہ طور پر منشیات استعمال کرتی تھیں، انہیں مقدمہ درج کرنے کے بعد انویسٹی گیشن ونگ کے حوالے کیا گیا تھا، ویمن پولیس سٹیشن منتقلی کے دوران دونوں کی طبیعت بگڑ گئی،ہسپتال پہنچانے کے دوران دم توڑ گئیں۔ پولیس نے ہلاکتوں کی وجوہات جاننے کیلئے لاشیں پوسٹمارٹم کیلئے ہسپتال منتقل کر دیں ، مزید قانونی کارروائی اور تحقیقات جاری ہیں ۔ایس ایس پی انویسٹی گیشن محمد نوید نے کہاہے کہ دونوں خواتین آئس نشے کی عادی تھیں ، بظاہر وہ نشہ نہ ملنے پر دم توڑ گئیں ، اصل وجہ پوسٹمارٹم رپورٹ کے بعد ہی سامنے آئے گی۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments