ایران، عمان آبنائے ہرمز کے عارضی انتظام پر متفق، جلد نہ کھولا تو شدید حملہ ہوگا : ٹرمپ

ایران، عمان آبنائے ہرمز کے عارضی انتظام پر متفق، جلد نہ کھولا تو شدید حملہ ہوگا : ٹرمپ

خلیج میں داخل ہونیوالی بحری آمدورفت ایرانی،باہر نکلنے والی عمانی حدود کے راستے سے گزرے گی، مجوزہ معاہدے میں کوئی ٹول شامل نہیں ، 60روز کے بعد مزید توسیع ہوسکتی پاکستان ،قطر کیساتھ سفارتی مشاورت جاری، عراقچی،قالیباف کے دور ے کا منصوبہ نہیں :بقائی ،حوثیوں کا 2سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کا دعویٰ، تیل کی قیمت میں معمولی اضافہ

تہران ،واشنگٹن(نیوز ایجنسیاں،مانیٹرنگ ڈیسک)ایران نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کے گزرنے کے راستے کی جغرافیائی حدود سے متعلق عمان کے ساتھ اتفاقِ رائے ہو گیا ہے اوروہ اس گزرگاہ کے مشترکہ نظام کو حتمی شکل دے رہے ہیں، پاکستان اور قطر کے ساتھ بھی سفارتی مشاورت کا سلسلہ جاری ہے ۔جبکہ امریکی صدر نے کہا اگر آبنائے ہرمز کو بہت جلد نہ کھولا گیا تو ایران پر شدید حملہ کیا جائے گا۔ ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی نے میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ ایران اور عمان آبنائے ہرمز میں بحری راستے کے جغرافیائی خدوخال اور حدود پر متفق ہو چکے ہیں اور دونوں ممالک مشترکہ اعلامیے کی تیاری کے آخری مرحلے میں ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر کسی تیسرے فریق کی جانب سے مداخلت نہ ہوئی تو جلد اس حوالے سے مشترکہ اعلان جاری کر دیا جائے گا۔

اسماعیل بقائی نے واضح کیا کہ ایران اور عمان کے درمیان ہونے والا ایسا کوئی بھی معاہدہ ازخود اس اہم اور حساس عالمی آبی گزرگاہ میں سلامتی کی مکمل ضمانت نہیں دے سکتا۔ایک سوال کے جواب میں اسماعیل بقائی نے بتایا کہ ایران اپنے ہم منصبوں کے ساتھ پاکستان اور قطر کے ذریعے مسلسل رابطے اور مشاورت جاری رکھے ہوئے ہے، تاہم فی الحال ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی یا پارلیمنٹ کے سپیکر باقر قالیباف کے پاکستان یا قطر کے دورے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق خطے کی صورتحال اور باہمی دلچسپی کے امور پر سفارتی رابطے بدستور جاری رہیں گے۔ امریکی نیوز ویب سائٹ ایکسیوس نے علاقائی حکام اور ایک امریکی اہلکار کے حوالے سے بتایا کہ زیرِ غور معاہدہ ایران اور عمان کے درمیان آبنائے سے محفوظ گزرگاہ کیلئے 60 دن کا ایک عارضی انتظام ہوگا۔

رپورٹ کے مطابق معاہدے میں کوئی ٹول (محصولات)شامل نہیں جبکہ اس معاہدے کو بعد میں توسیع دی جا سکتی ہے۔خلیج میں داخل ہونے والی تمام بحری آمد و رفت شمالی سمندری راستے (لین)کا استعمال کرے گی، جبکہ باہر جانے والی تمام ٹریفک عمان کی علاقائی حدود کے اندر موجود جنوبی راستے سے گزرے گی۔رائٹرز کے مطابق ہرمز کے ذریعے خلیج میں داخل ہونے والے بحری جہازوں پر ایران کو نگرانی اور کنٹرول کا اختیار حاصل ہو جائے گا۔ اگر یہ معاہدہ طے پا جاتا ہے تو اسے ایران کے حق میں اب تک کی سب سے بڑی سفارتی رعایتوں میں شمار کیا جائے گا۔قبل ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا منگل کے روز ایران کے ساتھ پورا دن مذاکرات ہوئے ۔ انہوں نے بات چیت کو مثبت قرار دیا اور کہا آبنائے ہرمز بہت جلد کھول دی جائے گی، تاہم ساتھ ہی خبردار کیا کہ اگر تہران کے ساتھ کوئی معاہدہ نہ ہوا یا وہ ایک بار پھر پیچھے ہٹے تو ایران کو انتہائی سخت حملوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔

ایرانی میڈیا نے ایک باخبر ایرانی اہلکار کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے حوالے سے عمان کے ساتھ مجوزہ معاہدے میں تاخیر کی ایک بڑی وجہ امریکی مداخلت اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکیاں ہیں،ایرانی میڈیا کے مطابق عمان کیساتھ معاہدے کا آبنائے ہرمز فوری کھولنے سے کوئی تعلق نہیں،آبنائے ہرمز سے متعلق مذاکرات ایران اور عمان کے درمیان ہورہے ہیں،آبنائے ہرمزسے متعلق مذاکرات میں واشنگٹن فریق نہیں۔امریکی خلاف ورزیاں جاری رہیں تو آبنائے ہرمز نہیں کھلے گی،آبنائے ہرمز کھولنے کیلئے ضروری ہے کہ واشنگٹن اپنے رویے میں تبدیلی لائے ۔ایرانی اہلکار کے مطابق جب تک امریکی مداخلت اور ایران پر ممکنہ فوجی حملے کا خطرہ برقرار ہے ، معاہدے میں پیش رفت مشکل رہے گی۔ایران دھمکیوں اور دباؤ کے ماحول میں کسی معاہدے پر دستخط نہیں کرے گا۔

دریں اثنا بدھ کے روز عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا، جب ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثی گروپ نے دعویٰ کیا کہ اس نے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں کو میزائل سے نشانہ بنایا ہے ۔اس کے باوجود خام تیل کی عالمی قیمتیں جولائی کے اوائل کے بعد اپنی کم ترین سطحوں کے قریب برقرار ہیں، کیونکہ گزشتہ دو دنوں کے دوران ان میں نمایاں کمی آئی تھی۔ مشرقِ وسطٰی میں بحری جہازوں پر ہونے والے یہ تازہ حملے عالمی توانائی کی سپلائی میں رکاوٹ پیدا کرنے والے واقعات کی نئی کڑی ہیں۔حوثیوں کے مطابق ایک سعودی آئل ٹینکر کو بحیرۂ احمر کے شمالی حصے میں ینبع کے ساحل کے قریب جبکہ دوسرے کو بحیرۂ احمر سے ملنے والی آبی گزرگاہ، خلیجِ عدن میں نشانہ بنایا گیا ،سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی شروع ہونے کے بعد یہ آٹھواں اور نواں جہاز ہے جسے نشانہ بنایا گیا۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...