نگران افسرکوٹیکس کا تعین یا جرمانہ عائد کرنے کا اختیار نہیں :ہائیکورٹ

 نگران افسرکوٹیکس کا تعین یا جرمانہ عائد کرنے کا اختیار نہیں :ہائیکورٹ

اسلام آباد(اپنے نامہ نگار سے)اسلام آباد ہائیکورٹ نے پولٹری فیڈز کے کاروبار کی مانیٹرنگ کے لیے ایف بی آر افسر کی تعیناتی کے خلاف درخواستیں مسترد کرتے ہوئے کاروباری احاطے میں ایف بی آر افسر کی مانیٹرنگ سیلز ایکٹ کی سیکشن 40 بی کے مطابق قانونی قرار دے دی اور ایف بی آر مانیٹرنگ افسران کی تعیناتی سے قبل پیشگی نوٹس نہ دینے کا اعتراض بھی مسترد کردیا۔

عدالت نے جدید فیڈز اور زبیر فیڈ انڈسٹریز کی جانب سے ایف بی آر مانیٹرنگ کے خلاف درخواستیں مسترد کردیں۔جسٹس محمد اعظم خان اور جسٹس انعام مین منہاس پر مشتمل ڈویژن بنچ نے تحریری فیصلہ جاری کیا،ایف بی آر کی جانب سے حافظ محمد احسان کھوکھر نے عدالت کی معاونت کی اور عدالتی نظیریں پیش کیں، فیصلہ میں عدالت نے کہاکہ سیلز ایکٹ کی سیکشن 40 بی قابل ٹیکس اشیا کی پیداوار، فروخت اور اسٹاک کی نگرانی کے لیے مانیٹرنگ کا اختیار دیتی ہے ،نگرانی کرنے والے افسر کو صرف ڈیٹا جمع کرنے کا اختیار ہے ، ٹیکس تعین یا جرمانہ عائد کرنے کا نہیں ہے ،نگرانی پر مامور افسر کو سامان ضبط کرنے اور نا ہی کاروباری سرگرمی معطل کرنے کا کوئی اختیار حاصل ہے ،اگر پیشگی نوٹس یا نگرانی کی وجوہات بتائی جائیں تو اس سیکشن کی افادیت متاثر ہو گی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...