وزارتوں کی جانچ سے طرزحکمرانی میں بڑی تبدیلی ممکن

وزارتوں کی جانچ سے طرزحکمرانی میں بڑی تبدیلی ممکن

نظام اور حکومت دوالگ چیزیں،بہتر نظام میں حکومت زیادہ مؤثر ہوسکتی

(تجزیہ:محمد حسن رضا) 

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی گفتگو محض ایک وفاقی وزیر کا دفاعی بیان نہیں بلکہ حکومتی کارکردگی، ریاستی نظام اور جوابدہی کے پورے تصور پر ایک اہم مؤقف ہے ۔ انہوں نے ایک ایسے وقت میں اپنی وزارت سمیت تمام وزارتوں کی تھرڈ پارٹی جانچ کی بات کی ہے جب پاکستان میں عمومی طور پر وزرا اپنی کارکردگی کے دعوے تو کرتے ہیں، مگر آزادانہ احتساب اور غیر جانبدار جائزے سے ہمیشہ گریز کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ عوام کو شاذونادر ہی یہ معلوم ہو پاتا ہے کہ کس وزارت کو کتنے وسائل ملے ، اہداف کیا مقرر ہوئے ، کتنے مکمل ہوئے اور کتنے صرف فائلوں تک محدود رہے ۔

اگر محسن نقوی کی تجویز کے مطابق تمام وزارتوں کی تھرڈ پارٹی ایویلیوایشن کرائی جائے اور اس کے نتائج عوام کے سامنے رکھے جائیں تو یہ حکمرانی کے انداز میں ایک بڑی اور مثبت تبدیلی ہوسکتی ہے ۔ اس سے ایک طرف اچھی کارکردگی دکھانے والے وزرا اور افسران کی حوصلہ افزائی ہوگی، دوسری طرف ناکام وزارتوں کی کمزوریاں بھی چھپ نہیں سکیں گی۔ محسن نقوی کا یہ مؤقف بھی درست تناظر میں سمجھنے کی ضرورت ہے کہ گزشتہ 80 برس سے چلنے والا نظام تباہ حال ہے ۔ ان کے اس بیان کو حکومت کے خلاف چارج شیٹ قرار دینا درست نہیں، کیونکہ نظام اور حکومت دو الگ چیزیں ہیں۔ حکومت ایک محدود مدت کیلئے آتی ہے ، جبکہ نظام دہائیوں میں بنتا اور بگڑتا ہے ۔

پاکستان کا انتظامی ڈھانچہ، فیصلہ سازی کا طریقہ، فائلوں کا بوجھ، اختیارات کی غیر ضروری مرکزیت، جوابدہی کی کمزوری اور اصلاحات کے راستے میں بیوروکریٹک رکاوٹیں ایک دن میں پیدا نہیں ہوئیں۔ یہ مسائل کئی دہائیوں کا نتیجہ ہیں۔ اس لئے محسن نقوی کی تنقید دراصل ایک ایسے فرسودہ ڈھانچے پر ہے جو کسی بھی محنتی وزیراعظم، وزیر یا افسر کی رفتار کو محدود کر دیتا ہے ۔ وزیراعظم شہباز شریف کے روزانہ 14 سے 16 گھنٹے کام کرنے کا ذکر بھی اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے ۔ ایک شخص کتنی ہی محنت کیوں نہ کرے ، اگر اس کے نیچے پورا نظام سست، پیچیدہ اور غیر مؤثر ہو تو مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوسکتے ۔ محسن نقوی نے درست نشاندہی کی کہ اگر وزیراعظم کو ایک بہتر، تیز رفتار اور مؤثر نظام میسر آجائے تو نتائج کئی گنا بہتر ہوسکتے ہیں۔

یہ بیان وزیراعظم کی تعریف کے ساتھ ساتھ ریاستی اصلاحات کی ضرورت کو بھی اجاگر کرتا ہے ۔ محسن نقوی نے ایف بی آر کے ریونیو میں اضافے ، سفارتی کامیابیوں، معرکہ حق کی کامیابی، عالمی سطح پر تاریخی اعزازات، اور حکومتی اصلاحات کا ذکر کرکے یہ واضح کیا کہ وہ حکومت کی کارکردگی کا انکار نہیں کر رہے ۔ ان کا مؤقف یہ ہے کہ کمزور نظام کے باوجود اگر حکومت نتائج دے رہی ہے تو بہتر نظام کی صورت میں یہی کارکردگی کہیں زیادہ مؤثر ہوسکتی ہے ۔محسن نقوی نے کھل کر واضح کردیا کہ ان کا وزیراعظم کے ساتھ اعتماد اور تعاون کا رشتہ قائم ہے ۔ حکومت کے پانچ سال مکمل کرنے اور شہباز شریف کے وزیراعظم رہنے سے متعلق ان کا بیان سیاسی استحکام کا پیغام بھی ہے ۔ مجموعی طور پر محسن نقوی کی گفتگو ایک خوداعتماد، جوابدہ اور نتائج پر یقین رکھنے والے وزیر کی عکاسی کرتی ہے۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...