تھانیدار کی لڑکی سے زیادتی،تفتیشی عمل،کیس کے متن پر سوالات
جائے وقوعہ کا واضح ذکر نہیں ،مقدمہ میں حبسِ بیجا کی دفعات بھی شامل نہیں ملزم ، پیٹی بھائی پیسوں کی آفر،دبائو بھی ڈالتے رہے ، کیس کی اندرونی کہانی
لاہور(کرائم رپورٹر)تھانہ غازی آباد میں ذہنی معذور لڑکی سے مبینہ زیادتی کیس میں تفتیشی عمل اورمقدمے کے متن پر سوالات اٹھنے لگے جبکہ معاملے کی اندرونی کہانی بھی سامنے آگئی ۔ ذرائع کے مطابق مقدمہ میں اہم تفصیلات شامل نہیں کی گئیں۔پولیس ذرائع کے مطابق جائے وقوعہ کا واضح ذکر نہیں کیا گیا، تھانے کے سنتری اور ملزم کی مبینہ گفتگو بھی مقدمے کا حصہ نہیں بنائی گئی۔ تھانیدارلڑکی کو ملزمہ بنا کر تھانے لایا اوروہ 6 سے 8 گھنٹے تھانے میں موجود رہی۔ مقدمے میں حبسِ بیجا کی دفعات بھی شامل نہیں کی گئیں۔شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ ایسے حساس معاملات میں شفاف تحقیقات اور ذمہ داروں کیخلاف سخت کارروائی ہونی چاہئے ۔لڑکی سے زیادتی کی اندرونی کہانی بھی سامنے آگئی ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزم لڑکی کے گھر والوں کو پیسوں کی آفر کرتا رہا جبکہ تھانے میں موجود پیٹی بھائی بھی اسکے ساتھ گھر والوں پر دباؤ ڈالتے رہے ۔ ملزم اے ایس آئی عمران نے تھانے کے کمرے میں لے جاکر پہلے دودھ پلایا اور پکوڑے کھلائے اسکے بعد لڑکی کو زیادتی کا نشانہ بنایا۔پولیس ترجمان کا کہنا ہے کہ ڈی آئی جی انویسٹی گیشن ذیشان رضا نے ہدایت کی ہے کہ واقعہ کی شفاف اور میرٹ پر تفتیش کی جائے جبکہ تفتیشی ذرائع کا کہنا ہے کہ میڈیکل رپورٹ کے بعد مزید حقائق سامنے آئینگے ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments