صدر کیطرف سے ججز تقرری کی منظوری نہ ہوسکی، اسلام آباد ہائیکورٹ میں آج سماعت
جوڈیشل کمیشن نے 19 ججز کی تعیناتی،5کو مستقل کرنے کی سفارش کی، منظوری نہ ہونے پرنئے ججز کی حلف برداری ملتوی مستقلی کی سفارش پانیوالوں میں 1کی مدت ختم، پشاور ہائیکورٹ کے 4جج بھی کام جاری نہ رکھ سکیں گے
اسلام آباد(اپنے نامہ نگار سے ، مانیٹرنگ ڈیسک)اسلام آباد ہائیکورٹ سمیت ملک کی مختلف ہائیکورٹس میں ججز تقرری سمری کی صدر کی جانب سے منظوری نہ دینے کا تنازع شدت اختیار کر گیا،صدر مملکت کی جانب سے ججز تعیناتی سمری کی منظوری نہ دینے کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست سماعت کیلئے مقرر کردی گئی، جسٹس ارباب طاہر آج درخواست پر سماعت کرینگے ۔ ایڈووکیٹ لقمان ظفر نے زاہد آصف چودھری ایڈووکیٹ کے ذریعے درخواست دائر کی جس میں صدرمملکت اور وزیر اعظم کو بذریعہ سیکرٹری، وزارت قانون و انصاف اور سیکرٹری جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کو فریق بنایاگیا ہے اور موقف اختیار کیاگیا ہے کہ 20 اور 21 جولائی کو جوڈیشل کمیشن آف پاکستان نے مختلف ہائی کورٹس میں ججز تعیناتی کی سفارش کی،جوڈیشل کمیشن نے 19 ججز کی تعیناتی اور پانچ ججوں کی مستقلی کی سفارش کی تھی۔
درخواست گزار کے مطابق نئے تجویز کردہ ججوں کی حلف برداری کی تقریب 27 جولائی کو ہونا تھی، لیکن صدرِ مملکت نے نہ تو سمری کی منظوری دی اور نہ ہی اسے واپس کیا، بلکہ مبینہ طور پر اسے کسی قانونی جواز کے بغیر اپنے پاس روکے رکھا، جس کے باعث تقریب غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دی گئی۔درخواست میں کہا گیا ہے کہ صدر مملکت نے آئین کے آرٹیکل 48 کے ذریعے سمری منظور کرناہوتی ہے ،آئین میں سمری کی منظوری کیلئے صدرمملکت کے پاس15 دن کی مدت مقرر ہے ،مقررہ مدت سے زائد سمری کو پاس رکھنا غیر قانونی اور غیر آئینی ہے ،درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ عدالت سمری کی موجودہ صورتحال، صدرمملکت آفس میں اس کے پہنچنے کی تاریخ طلب کرے ،سمری سے متعلق اگر تاخیر ہوئی تو اس کی وجوہات طلب کی جائیں، صدر کو ان کے سیکرٹری کے ذریعے ججز تعیناتی سمری منظوری کی ہدایت کی جائے ۔صدارتی منظوری میں تاخیر نے اعلیٰ عدلیہ کے امور کو بھی متاثر کرنا شروع کر دیا ہے ۔ سندھ ہائی کورٹ کے ایک ایڈیشنل جج کی مدتِ ملازمت پہلے ہی ختم ہو چکی ہے ، جبکہ پشاور ہائی کورٹ کے چار ایڈیشنل جج بھی آئندہ چند روز میں اسی صورتحال سے دوچار ہونے والے ہیں، حالانکہ جوڈیشل کمیشن ان کی خدمات جاری رکھنے کی سفارش کر چکا ہے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments