اسلام آباد ہائیکورٹ کے پولیس تفتیش پرسوالات،سسٹم بہترکرنیکی وارننگ
اسلام آباد پولیس میں تنخواہ1لاکھ ، سندھ میں40ہزارہے لیکن تفتیش اچھی ،جسٹس سومرو کچہری خودکش حملہ متاثرین کومعاوضہ نہ ملاتوسیکرٹری داخلہ کوطلب کرینگے :جسٹس ارباب
اسلام آباد(اپنے نامہ نگارسے )اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس خادم حسین سومرو نے قتل کیس سمیت چار کیسوں میں اسلام آباد پولیس کی انویسٹی گیشن پر سوالات اٹھاتے ہوئے ایس ایس پی اسلام آباد پولیس سے کہا چاروں کیسوں میں تفتیش ٹھیک نہیں ہوئی،ہمارے پاس کیس آتا ہے تو تفتیش دیکھ کر فیصلہ کرنا ہوتا ہے ،ہمیں پیپر جسٹس کرنا ہوتا ہے آپکی انکوائری اور تفتیش ایسی ہوتی ہے کہ ہمیں ضمانت دینی پڑتی ہے ،اسلام آباد پولیس میں انویسٹی گیشن افسر کی تنخواہ ایک لاکھ تک جبکہ سندھ پولیس میں چالیس ہزار ہے ،لیکن سندھ میں تنخواہ کم ہونے کے باوجود انویسٹی گیشن اچھی ہوتی ہے ،ہم نے ڈیڑھ سال میں یہاں کسی سینئر افسر کو نہیں بلایا،ہمیں اچھا بھی نہیں لگتا کہ کسی سینئر افسر کو عدالت بلایا جائے ،ان چار کیسوں میں انویسٹی گیشن مس ہینڈل ہوئی ہے ہم نے ریکارڈ چیک کیا ہے، جسٹس خادم حسین سومرو نے ایس ایس پی کو ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ چیزیں برداشت سے باہر ہیں آئندہ کیلئے وارننگ ہے اپنے ادارے کے تفتیشی سسٹم کو بہتر کریں،اگر آئندہ کسی کیس میں انویسٹی گیشن ٹھیک نہ ہوئی تو اسلام آباد پولیس کے خلاف لکھوں گا،آئی جی اسلام آباد کو بھی پیغام دے دیں آئندہ انویسٹی گیشن خراب ہوئی تو آرڈر کردینگے ۔علاوہ ازیں جسٹس ارباب محمد طاہر نے آصف گجر ایڈووکیٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران کچہری خودکش حملہ کے متاثرین کو تاحال معاوضہ نہ ملنے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا آئندہ سماعت تک ادائیگی نہ ہونے پر سیکرٹری داخلہ کو طلب کریں گے ،عدالت نے آئی جی اسلام آباد سے متاثرین کی فہرست اور رپورٹ طلب کرلی۔ اسسٹنٹ اٹارنی جنرل نے مہلت کی استدعا کرتے ہوئے کہا عدالت پندرہ دن کا وقت دے معاملہ حل کروادیں گے ،جس پر جسٹس ارباب محمد طاہر نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ایک سال ہونے کو ہے ابھی تک معاملہ حل کیوں نہیں ہوا؟،ابھی تک اس معاملہ کو حل ہو جانا چاہیے تھے ،عدالت نے وفاقی پولیس کو بھی ہدایت کی کہ آئی جی اسلام آباد متاثرین کی تفصیلات کے ساتھ مکمل فہرست اور رپورٹ دیں، بعدازاں سماعت ستمبر کے پہلے ہفتہ تک ملتوی کردی گئی۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments