ٹرمپ کے نئے نقشے میں آبنائے ہرمز امریکی علاقہ قرار ، تیل کی قیمتیں اوپر: کوئی مذاکرات ہو رہے ہیں نہ ہونے ہیں : امریکی صدر
ٹرمپ کی غلط فہمی جلد دور ہو جائیگی،شرائط پوری ہونے تک ہرمز کا راستہ بند رہے گا:ایران،اردوان کا امریکی صدر کو فون ،مذاکرات پرزور،امن عمل میں تعاون کی پیشکش حوثیوں کا سعودی آئل تنصیبات پر حملے کا دعویٰ، امارات کا تہران کی جانب سے میزائل داغے جانے کا الزام، ایران کیساتھ تجارتی ،کاروباری ،مالی معاملات معطل کردئیے
تہران،واشنگٹن(نیوز ایجنسیاں ، مانیٹرنگ ڈیسک)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کے روز نئے نقشے میں آبنائے ہرمز کو امریکی علاقہ قرار دے دیا اور کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان نہ تو کوئی مذاکرات ہو رہے ہیں اور نہ ہونے ہیں ، تاہم آبنائے ہرمز کھلی ہے ، جبکہ ایران نے کہا ہے کہ امریکا کی جانب سے مفاہمتی یادداشت کی شرائط پوری کیے جانے تک یہ بحری راستہ بند رہے گا۔امریکا اور ایران کے درمیان آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کیلئے معاہدے کے امکانات معدوم ہونے کے باعث تیل کی قیمتیں پھر اوپر چلی گئیں۔ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں کہااسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے اور نہ ہی کوئی بات چیت طے ہے ۔ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی پوری طرح نافذ العمل اور برقرار ہے ۔ آبنائے ہرمز کھلی ہے اور اس میں آمدورفت جاری ہے ۔ پانی میں بچھائی گئی تمام بارودی سرنگیں ہٹا دی گئی ہیں یا انہیں دھماکے سے اڑا دیا گیا ہے ۔ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں آبنائے ہرمز، ایران کے بعض حصے ، خلیج فارس اور خلیج عمان کا نقشہ شیئر کیا، جس میں آبنائے ہرمز کے گرد نمایاں کیے گئے علاقے پرنیو یو ایس ٹیریٹری یعنی امریکا کا نیا علاقہ درج تھا۔
ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے زور دیا کہ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کم کرنے کیلئے مذاکرات کا راستہ اختیار کیا جائے ۔ صدر اردوان نے امن کی کوششوں میں انقرہ کے تعاون کی پیشکش بھی کی۔ایوانِ صدر کے مطابق اردوان اور ٹرمپ کے درمیان دوطرفہ تعلقات، غزہ کی جنگ، ترکیہ، سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان طے پانے والے دفاعی معاہدے پر بھی گفتگو ہوئی۔ترک صدر نے اس معاہدے کو علاقائی استحکام اور سلامتی کے لیے ‘مضبوط مؤقف’ کی علامت قرار دیا۔ترک ایوانِ صدر کے مطابق اردوان نے ٹرمپ کو بتایا کہ فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی حملوں میں اس وقت اضافہ ہوا ہے جب ٹرمپ کے غزہ امن منصوبے کے دوسرے مرحلے پر عمل درآمد شروع ہونا تھا۔ایرانی حکومت کے اعلیٰ مذاکرات کار باقر قالیباف نے اپنے بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز اس وقت تک بند رہے گی جب تک امریکا جون میں ایران کے ساتھ طے پانے والے عبوری معاہدے کی شرائط پوری نہیں کرتا۔قالیباف نے پارلیمان کو بتایا کہ ان شرائط میں امریکا کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم کرنا، تیل پر عائد پابندیاں اٹھانا، تہران کے منجمد اثاثے جاری کرنا، اور تمام محاذوں پر دھمکیاں اور فوجی کارروائیاں ختم کرنا شامل ہیں۔
ایران کے نائب وزیرِ خارجہ کاظم غریب آبادی نے ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز کو اپنا علاقہ ظاہر کرنے پر اپنے ردعمل میں کہا آبنائے ہرمز کے بارے میں ٹرمپ کی غلط فہمی جلد دور ہو جائے گی یا پھر ہم اس گمراہ کن سوچ رکھنے والے شخص کی غلط فہمی دور کر دیں گے ۔ قطر کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا ہے کہ آبنائے ہرمز سے متعلق ایران عمان معاہدے کے بعد ہی واشنگٹن اور تہران کو جنگ کے خاتمے کیلئے مذاکرات دوبارہ شروع کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی جائے گی۔علاوہ ازیں یمن میں حوثی گروہ انصار اللہ نے ایک بار پھر سعودی عرب کے علاقے جازان میں آرامکو کی تیل کی تنصیبات پر ڈرون حملے کرنے کا دعویٰ کیا ہے ۔رپورٹ کے مطابق حوثیوں نے یمن کے صوبوں صعدہ اور حجہ کی فضائی حدود کی مبینہ خلاف ورزی کے ردِعمل میں جازان میں واقع آرامکو کی تنصیبات کو متعدد ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا۔جبکہ متحدہ عرب امارات نے ایران پر اپنی حدود کی جانب 2 بیلسٹک میزائل داغنے کا الزام عائد کیا ہے ۔بعد ازاں متحدہ عرب امارات نے ایران کے ساتھ تمام تجارتی ،کاروباری اورمالی معاملات تاحکمِ ثانی معطل کر دئیے ۔ادھر عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ جبکہ ایشیائی سٹاک مارکیٹس میں عمومی مندی رہی۔ عالمی بینچ مارک برینٹ خام تیل 91 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا،ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ 1اعشاریہ2فیصد بڑھ کر 85اعشاریہ54ڈالر فی بیرل ہو گیا۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments