محمد علی درانی کا بہاولپور اور ہزارہ کو فوری ماڈل صوبے بنانے کا مطالبہ

لاہور: (دنیا نیوز) سابق وفاقی وزیر اطلاعات محمد علی درانی نے بہاولپور اور ہزارہ کے دو ماڈل صوبے فوری بنانے کا مطالبہ کر دیا۔

سابق وفاقی وزیر اطلاعات محمد علی درانی نے لاہور پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ جیسے جیسے اتفاق رائے ہوتا جائے مزید صوبے بناتے جائیں، موجودہ نظام لنگڑا ہے، ایک ٹانگ پر یہ نظام زیادہ دیر نہیں چل سکتا۔

محمد علی درانی نے کہا کہ بہاولپور اور ہزارہ صوبے کی قرار دادیں صوبائی اسمبلیوں سے منظور ہوئی پڑی ہیں، محسن نقوی اور میاں عامر محمود فارمولے کے مطابق بھی دونوں صوبے بنانے کی آئینی ضرورت پہلے ہی پوری ہو چکی ہے، اگلے ماہ سینیٹ اور قومی اسمبلی میں یہ معاملہ اٹھائیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پہلے دو ماڈل صوبے بنا دیں جب نئے صوبے بنیں گے تو ان کی افادیت کا پتہ چلے گا، یہ حکومتیں بلدیاتی ادارے کیوں نہیں چلاتیں، عوام کی شرکت کے بغیر یہ نظام نہیں چلے گا، کھربوں روپے صرف چار لوگوں کی صوابدید پر ہوتے ہیں، سیاست کرنی ہے تو عوامی مفاد کو ترجیح دیں۔

محمد علی درانی نے کہا کہ بہاولپور صوبہ ملک بھر کی فوڈ باسکٹ بنے گا، چولستان کا 64 لاکھ ایکڑ رقبہ زیر کاشت ہی نہیں ہے، ہزارہ سیاحت اور معدنیات سے مالا مال ہے، صوبے بننے سے انتظامی خرچ نہیں بڑھے گا بلکہ عوام پر خرچ بڑھے گا، نئے صوبے پاکستان کی ضرورت ہے۔

سابق وفاقی وزیر کا کہنا ہے بہاولپور اور ہزارہ صوبے آئینی طریقے سے قائم کئے جائیں، نئے صوبے بننے سے ترقی کی راہ میں رکاوٹیں ختم ہوں گی، یقین سے کہہ سکتا ہوں، جہاں عوامی رائے بن جائے، وہاں صوبے بنا دیئے جانے چاہئیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ن لیگ، پیپلز پارٹی اور دیگر جماعتیں بہاولپور اور ہزارہ صوبوں کی مخالفت نہیں کریں گی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...