پاکستانی یو اے ای میں رہ کر مخالف فریق بنیں گے تو ردعمل تو آئیگا :وزیر دفاع
ایوان کو مکہ معاہدہ پر بریفنگ کیلئے تیار ہوں:خواجہ آصف، لوگوں کے ویزا ایکسپائر ہو چکے رینیو نہیں ہورہے :بیرسٹر گوہر معاملہ یو اے ای حکام کیساتھ اٹھایا جائے :اسد قیصر، بلوچستان صورتحال پر دو روز بحث کی جائے :اچکزئی ،اسمبلی میں خطاب
اسلام آباد (نامہ نگار، سٹاف رپورٹر)وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے قومی اسمبلی میں کہا ہے کہ یو اے ای میں مقیم پاکستانی اگر وہاں رہ کر مخالف فریق بنیں گے تو ردعمل تو آئے گا۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ جنگ میں 90 فیصد وہ لوگ تھے جنہوں نے فریق بننے کی کوشش کی۔ منگل کو قومی اسمبلی اجلاس میں ارکان کے نکتہ اعتراضات کا جواب دیتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ وہ 12،14 سال یو اے ای میں رہے ہیں اور جانتے ہیں کہ وہاں پاکستانیوں کے ساتھ کیا ہورہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مکہ امن معاہدے میں جو امور ایوان کے سامنے لائے جاسکتے ہیں، ان پر بریفنگ دی جائے گی، وہ آج اس کیلئے تیار ہیں۔پی ٹی آئی کے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ یو اے ای ہمارا دوست اور مسلم ملک ہے ، تاہم ایران اور امریکا کے درمیان جنگ کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر کچھ تحفظات ہیں۔ پارلیمان کو اعتماد میں لیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ بعض پاکستانیوں کے ویزے ایکسپائر ہوچکے ہیں لیکن رینیو نہیں کیے جارہے ، اس معاملے کو دیکھا جائے۔
اسد قیصر نے کہا کہ یو اے ای ہمارا برادر ملک ہے ، تاہم حملے کے وقت سفر کے دوران پاکستانیوں کے ساتھ انتہائی نامناسب رویہ اختیار کیا گیا۔ معاملہ یو اے ای حکام کے ساتھ اٹھایا جائے تاکہ حل نکالا جاسکے ۔وزیر مملکت داخلہ طلال چودھری نے کہا کہ کسی شخص کا شناختی کارڈ علاقے یا صوبے کی بنیاد پر بلاک یا منسوخ نہیں کیا جاتا۔ وزارت داخلہ قومی اسمبلی میں سکیورٹی صورتحال پر بحث کیلئے تیار ہے ، اپوزیشن جب چاہے ایک ہفتے تک بحث کی جاسکتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب میں 5 ہزار پاکستانی پاسپورٹ پکڑے گئے جو مبینہ طور پر افغان شہریوں نے حاصل کیے تھے ۔ ملک کو غیرملکی عناصر سے پاک کیا جائے گا۔اپوزیشن لیڈر محمود اچکزئی نے بلوچستان کی صورتحال پر ایوان میں کم از کم دو روز بحث کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی سمیت مسائل بڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم گالم گلوچ نہیں بلکہ بات چیت اور مذاکرات کے قائل ہیں، اس کیلئے پارلیمان سے بہتر جگہ نہیں۔
ایم کیو ایم کے خواجہ اظہار الحسن نے کراچی میں رضا میر کی ہلاکت کا معاملہ اٹھاتے ہوئے خصوصی کمیٹی بنانے کا مطالبہ کیا۔ رکن اسمبلی صبغت اللہ نے امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے اور نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عملدرآمد کا مطالبہ کیا۔وفاقی وزیر آبی وسائل معین وٹو نے کہا کہ تمام دریا معمول کے مطابق بہہ رہے ہیں اور تربیلا ڈیم میں بھی سیلابی صورتحال کا باعث بننے والا پانی موجود نہیں۔ عالیہ کامران نے حج درخواستوں کی ہیلپ لائن فعال کرنے ، جبکہ اسد نیازی نے کراچی میں طویل لوڈشیڈنگ کا معاملہ اٹھاتے ہوئے کے الیکٹرک کے سی ای او کو ایوان میں طلب کرنے اور کمپنی کے پانچ سالہ آڈٹ کا مطالبہ کیا۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments