سپریم کورٹ کے حکم پر عمل نہ ہوا تو فیصلہ سڑکوں پر ہوگا:سہیل آفریدی
لانگ مارچ کے دومقاصد ، ایک عمران خان کا علاج جو حاصل ہوگیا ،دوسرا کیسز،امید ہے وہ جلد جیل سے باہر ہونگے حکومتی رپورٹس ہیں عمران کی صحت ٹھیک نہیں ،ریلیف کہاں سے آ گیا، 27ستمبر کا احتجاج پکا : ’’دنیا مہر بخاری کیساتھ‘‘ گفتگو
لاہور(دنیا نیوز،مانیٹرنگ ڈیسک) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ سپر یم کورٹ کے فیصلے پر من و عن عملدرآمد ہوگا، اگر عدالتی حکم پر عمل نہ ہوا تو فیصلہ سڑکوں پر ہو گا،دمادم مست قلند ر ہوگا، 27ستمبر کی جوتاریخ دی ہے ،یہ ختم نہیں ہوئی، احتجاج ہو گا، کیونکہ لانگ مارچ کے دومقاصد تھے ایک عمران خان کا علاج تھا،الحمدللہ،جو ہم اس کو حاصل کرچکے ہیں،دوسرا عمران خان کے جو کیسز ہیں،ہمیں امید ہے ان میں بھی عمران خان کو انصاف ملے گااوروہ بہت جلد جیل سے باہر ہونگے ،عدلیہ کے انصاف سے عمران خان کو بنی گالہ میں دیکھیں گے ، کسی ڈیل کے ذریعے نہیں،ان کے بیرون ملک جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ میں چاہتا ہوں کہ فیصلوں پر عملدرآمد ہو،ایسا ماحول پیدا نہ کیا جائے جس سے پاکستان میں عدم استحکام آئے ۔پروگرام ’’دنیا مہر بخاری کے ساتھ‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر ہم سمجھیں کہ ہمیں انصاف ملنے جارہا ہے ، تو پھر ہم 27ستمبر کی تاریخ پر غور کر ینگے ،ابھی 27ستمبر کی تاریخ پکی ہے ، عدالتی فیصلے پر کہا کہ یہ فیصلہ پہلے آجانا چاہیے تھا ، جب 14 فروری کو سپریم کورٹ کے آرڈر آئے تھے ،اس وقت یہ فیصلہ کرنا چاہئے تھا،امید ہے ججز فیصلوں پرعملدرآمد کروائیں گے۔
عمران خان کو ہسپتال میں علاج کرنے کا کہا گیا ہے ،یہ کوئی غیر قانونی کام نہیں ہے ، یہ حکومتی رپورٹس ہیں کہ عمران خان کی صحت خراب ہے ، اس میں ریلیف کی بات کہاں سے آ گئی ہے ، میں عمران خان کو اچھی طرح جانتا ہوں، وہ کبھی اس حق میں نہیں ہونگے کہ بیماری کا بہانہ بنا کر ہسپتال منتقل ہوجائیں، جب عدلیہ انصاف کرے گی تو عمران خان جیل سے باہر آجائیں گے ، محسن نقوی سے میری کوئی بات نہیں ہوئی، نہ ہی انہوں نے بتایا کہ عمران خان کی صحت اچھی ہے ،یہ مجھے حکومت نے کہا ہے کہ عمران خان کی صحت خراب ہے ، خیبرپختونخوا اسمبلی کے 92 ارکان میرے ساتھ چٹان کی طرح کھڑے ہیں، انہیں کوئی خرید نہیں سکتا ،میں اپنے نظرئیے پر کھڑاہوں اور مجھے کوئی ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹا سکتا ، اپنے خلاف کسی سازش کی مجھے کوئی پروا نہیں۔اپنے لیڈر اور عمران خان کیلئے انصاف کی خاطر ہر حد تک جائیں گے ۔مولانا فضل الرحمن سے پاور شیئرنگ کے حوالے سے کوئی بات نہیں ہوئی، تاہم مولانا جمہوریت کو مضبوط کرنا چاہتے ہیں اور ان کے ساتھ بہت مثبت بات چیت چل رہی ہے ، جو بھی ان کے مؤقف کے ساتھ آئے گا اس سے ہاتھ ملائیں گے ۔نئے صوبوں کے معاملے پر عمران خان کی رائے لینا ضروری ہے اور اس معاملے پر مشاورت میں موجودہ حکومت کا ساتھ نہیں د ینگے ،عمران خان کے حوالے سے اسٹیبلشمنٹ سے کبھی کوئی بات نہیں کی گئی۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments