گاڑی واپس نہ کرنے پرضمانت منسوخ کرنیکی درخواست مسترد

 گاڑی واپس نہ کرنے پرضمانت منسوخ کرنیکی درخواست مسترد

ایک بارضمانت منظور ہوجائے تومنسوخ کرنے کیلئے غیر معمولی وجوہات کا ہونا ضروری ہائیکورٹ کے جسٹس امجد پرویز کا ملزم کیخلاف درخواست پر 4 صفحات کا تحریری فیصلہ

لاہور (کورٹ رپورٹر)لاہور ہائیکورٹ نے شادی تقریب کیلئے گاڑی لیکر واپس نہ کرنے کے الزام میں درج مقدمے میں ملزم کی قبل از گرفتاری ضمانت منسوخ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے کہاہے کہ ایک بار مجاز عدالت سے ضمانت منظور ہوجائے تو منسوخ  کرنے کیلئے مضبوط اور غیر معمولی وجوہات کا ہونا ضروری ہے ۔ عدالت نے قرار دیا کہ ضمانت منسوخی کے مرحلے پر عدالت اس وقت مداخلت کرسکتی ہے جب ضمانت دینے کا حکم بادی النظر میں غیر قانونی، واضح طور پر غلط یا انصاف کے تقاضوں کے منافی ہو یا ملزم نے ضمانت کی رعایت کا غلط استعمال کیا ہو۔جسٹس امجد پرویز نے شہری مسعود اسلم کی درخواست پر4 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا۔

درخواست گزار نے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 497(5)کے تحت ملزم کی قبل از گرفتاری ضمانت منسوخ کرنے کی استدعا کی تھی۔ جسٹس امجد پرویز نے فیصلے میں لکھا کہ درخواست گزار نے 28 نومبر 2025 کو گاڑی دینے کے بعد فوری ایف آئی آر نہیں کروائی،چھ ماہ سے زائد عرصہ کے بعد مئی 2026 میں مقدمہ درج ہوا۔ مزید یہ کہ ایف آئی آر سول مقدمے میں 11 مئی 2026 کو تحریری جواب جمع کرانے کے بعد درج ہوئی جس سے مقدمے میں شک پیدا ہوتا ہے اور ضمانت کے مرحلے پر ملزم کو شک کا فائدہ دیا جاسکتا ہے ۔ماتحت عدالت نے یہ امکان بھی ظاہر کیا کہ ہوسکتاہے کہ سول مقدمے کے ردعمل میں مقدمہ درج کیا گیا ہو اور درخواست گزار کی جانب سے بدنیتی یا کسی پوشیدہ مقصد کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جاسکتا۔ضمانت منظور کرنے اور منظور شدہ ضمانت منسوخ کرنے کے اصول ایک جیسے نہیں ہیں۔ ایک مرتبہ مجاز عدالت کسی ملزم کو ضمانت دے تو اسے منسوخ کرنے کیلئے مضبوط اور غیر معمولی بنیاد درکار ہوتی ہے ۔

عدالت نے سپریم کورٹ کے سابقہ فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے قرار دیا کہ دفعہ 497(5)ضابطہ فوجداری کے تحت ضمانت منسوخ کرنے کی صورتیں یہ ہیں کہ ضمانت دینے والا حکم بادی النظر میں غیر قانونی، واضح طور پر غلط یا حقائق کے منافی ہو اور اسکے نتیجے میں انصاف کا نقصان ہوا ہو۔ ملزم نے ضمانت کی رعایت کا غلط استعمال کیا ہو،استغاثہ کے گواہوں پر دباؤ ڈالنے یا انہیں متاثر کرنے کی کوشش کی ہو،ملزم کے عدالت کے دائرہ اختیار سے فرار ہونے کا خدشہ ہو، تفتیش میں مداخلت کی کوشش کی ہو، ضمانت کے دوران اسی نوعیت کے جرم میں ملوث ہوا ہو یا تفتیش کے دوران ایسا نیا مواد سامنے آیا ہو جو ملزم کے جرم میں ملوث ہونے کو ظاہر کرتا ہو۔ ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ درخواست گزار کے وکیل یہ ثابت نہیں کرسکے کہ ضمانت منسوخی کیلئے مقررہ قانونی بنیادوں میں سے کوئی بنیاد اس مقدمے میں موجود ہے ۔عدالت نے قرار دیا کہ ایڈیشنل سیشن جج کا ضمانت دینے کا حکم نہ تو بادی النظر میں غلط ہے ، نہ حقائق کے منافی اور نہ ہی کسی طے شدہ قانونی اصول سے انحراف پر مبنی ہے ۔عدالت نے درخواست بے بنیاد قرار دیکرابتدائی مرحلے ہی پر مستردکردی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...