بلوچستان کی ترقی کے بغیر ملکی ترقی ناممکن :صوبے کے مسائل پر گرینڈڈائیلاگ کی دعوت بہترین طریقہ مشاورت اور وسائل کی منصفانہ تقسیم، تمام جائز شکایات دور کرینگے : شہباز شریف
مسائل کی آڑ میں بندوق اٹھانے کا جواز نہیں،راستہ درست کرنیوالوں کو خوش آمدید کہنا چاہیے :وزیراعظم کا خطاب،گوگل کیساتھ معاہدہ، طلبہ کیلئے رواں سال ڈیڑھ لاکھ کیریئرسرٹیفکیشن کا اعلان چیف آف ڈیفنس فورسز سے شامی وزیر خارجہ، چیف آف ڈیفنس ڈی آر کانگوکی ملاقات، دفاعی تعاون بڑھانے پر اتفاق، ایم او یو سائن، ملائشین وزیر داخلہ کی بھی ملاقاتیں،سزا یافتہ افراد کی منتقلی کا معاہدہ
اسلام آباد (نامہ نگار)وزیراعظم شہباز شریف نے بلوچستان کے مسائل پر گرینڈ ڈائیلاگ کی دعوت دیتے ہوئے کہا ہے کہ ماضی میں جو ہوا سو ہوا، بندوق اٹھانا قابل قبول نہیں، جو اپنا راستہ درست کرنے کیلئے تیار ہیں انہیں خوش آمدید کہنا چاہیے ، بلوچستان کو ترقی و خوشحالی کی دوڑ میں شامل کیے بغیر پاکستان ترقی نہیں کر سکتا، مسائل کے حل کا بہترین طریقہ مشاورت اور وسائل کی منصفانہ تقسیم ہے ، تمام جائز شکایات دور کریں گے ۔ وہ جمعہ کو بلوچستان نیشنل ورکشاپ سے خطاب کر رہے تھے جس میں وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی، وفاقی وزراء، ارکان اسمبلی، بلوچستان کی مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں اور عمائدین نے شرکت کی۔ وزیراعظم نے ورکشاپ کے شرکا کو حکومت کی جانب سے خوش آمدید کہا ۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان پاکستان کا وہ علاقہ ہے جو بلوچ اور پشتون اقوام پر مشتمل ہے جن کی تاریخ دلیری، مہمان نوازی، رواداری اور عظیم روایات سے عبارت ہے ۔ وزیراعظم نے کہا کہ ڈائیلاگ کا مقصد صرف حکومت کی بات سنانا نہیں بلکہ شرکا اور بلوچ عوام کی بات سننا ہے ۔ انہوں نے یاد دلایا کہ پاکستان کے معرض وجود میں آتے ہی بلوچستان کے مختلف حصوں نے پاکستان کے ساتھ الحاق کیا، قاضی محمد عیسیٰ، میر جعفر خان جمالی، اکبر بگٹی سمیت بلوچ عمائدین اور عوام نے سوچ سمجھ کر پاکستان کے ساتھ الحاق کیا تھا، اس کے بعد کی دہائیوں میں جو واقعات اور حالات ہوئے وہ تاریخ کا حصہ ہیں، بلوچستان کے معاملات کو ڈائیلاگ سے حل کرنا چاہیے تھا۔
1970 ئمیں بلوچستان کو چوتھے صوبے کا درجہ ملا، بلوچستان معدنیات سمیت دیگر وسائل سے مالامال ہونے کے سبب امیر ترین صوبہ ہے لیکن یہ وسائل سمندر اور پہاڑوں میں مدفون ہیں، ان سے استفادہ کیلئے سرمایہ اور مہارت کی ضرورت ہے ، وفاق اور صوبہ مل کر ہی اس کیلئے اقدامات کر سکتے ہیں۔ انہوں نے بلوچستان کے مسائل کو جائز قرار دیتے ہوئے کہا کہ جغرافیے کے لحاظ سے بڑا صوبہ ہونے کے ناطے تعلیم و صحت کی سہولیات اور شاہراہوں کی تعمیر میں مشکلات ہیں، ان مسائل کے حل کیلئے باہمی مشاورت اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کی ضرورت ہے لیکن مسائل کی آڑ میں بندوق اٹھانے کا کوئی جواز نہیں ، کوئی محب وطن یہ نہیں کرسکتا ، بلوچستان میں مزدوری کرنے والوں کو یا شناخت کی بنیاد پر لوگوں کو قتل کرنا جائز نہیں، باہمی گفت و شنید سے مسئلہ حل کیا جانا چاہیے ۔ انہوں نے واضح کیا کہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے پیچھے گھس بیٹھیے ، فتنہ الخوارج اور دشمن ممالک سے وسائل حاصل کرنے والے ہیں جو بے گناہوں کو شہید کر رہے ہیں، افواج پاکستان اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ان سے نبرد آزما ہیں اور قربانیاں دے کر عوام کو محفوظ بنا رہے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ فیلڈ مارشل سیّد عاصم منیر کے ساتھ مل کر کراچی سے چمن این 25 شاہراہ تعمیر کر رہے ہیں، 415 ارب روپے کا منصوبہ وفاق نے دیا، یہ چاروں صوبوں کے عوام کا پیسہ تھا جو بلوچستان پر لگا رہے ہیں ، یہ بلوچستان کے عوام کیلئے ہے ۔ مسائل کی آڑ میں بندوق اٹھانا قابل قبول نہیں ، ماضی میں جو ہوگیا سو ہوگیا، اب مسائل کو سامنے رکھ کر گرینڈ ڈائیلاگ کرنا ہوں گے ، اگر ہماری بیٹیاں اور بیٹے اپنا راستہ درست کرنے کیلئے تیار ہیں تو انہیں خوش آمدید کہنا چاہیے۔
وزیراعظم نے افسوس کا اظہار کیا کہ بدقسمتی سے شاہراہ پر کام کرنے والے مزدوروں کو شہید کر دیا جاتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ معرکہ حق کے دوران پوری قوم یک جان دو قالب تھی، آج ہمیں بیٹھ کر فرینک ڈائیلاگ کرنا چاہئیں ، اسی سے راستے نکلیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ گوادر پورٹ خطے کی اہم ترین اور شاندار بندرگاہ ہے ، گوادر پورٹ پر ایک لاکھ ٹن کا مال بردار جہاز لنگرانداز ہو سکتا ہے ، گوادر کا ہوائی اڈاعظیم دوست چین کی طرف سے تحفے میں ملا۔ وزیراعلیٰ بلوچستان کے مطالبے پر 22 ہزار زرعی ٹیوب ویلوں کو شمسی توانائی پر منتقل کیا گیا، 70 ارب روپے کے شمسی منصوبے میں 40 ارب روپے وفاق نے خرچ کئے ۔ این ایف سی ایوارڈ کے اعلان کے موقع پر وفاق نے فنڈنگ میں 100 فیصد اضافہ کیا، پنجاب نے 11 ارب روپے سالانہ بلوچستان کو فراہم کئے ۔ میں اس وقت وزیر اعلیٰ تھا، ایک دن کیلئے بھی دل میں خیال نہیں آیا کہ کیوں ؟ کیونکہ ریاست کی چاروں اکائیاں ترقی کے عمل میں برابر کی شریک ہیں، اگر روٹی ایک ہو تو چاروں بھائیوں کو تقسیم کرنا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ جب یہ فیصلہ لے کر میں پنجاب اسمبلی میں گیا تو ارکان نے زور دار تالیاں بجائیں ، ہم اخوت کے رشتوں میں بندھے ہیں ، اسی جذبے سے بلوچستان کو لیپ ٹاپ، ہونہار طلبہ میں وظائف کی تقسیم میں شامل کیا، ان کا حصہ ان کی آبادی کے تناسب سے بھی دس فیصد زیادہ رکھا۔ اس موقع پر ورکشاپ کے شرکا کے ساتھ سوال و جواب کی نشست میں وزیراعظم نے کہا کہ وفاق کی جانب سے بلوچستان کے 9 اضلاع میں دانش سکول قائم کئے جا رہے ہیں جن میں ایچی سن کے معیار کی تعلیم دی جاتی ہے کیونکہ بلوچستان کے پسماندہ علاقوں کے بچے بھی معیاری تعلیم کے حقدار ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ کوئٹہ چمن شاہراہ کیلئے مزید سو یا دو سو ارب بھی فراہم کرنے کو تیار ہیں لیکن دہشت گردوں کو نہ روکا گیا تو صوبے میں ترقی کا عمل رکنے کا خدشہ ہے۔
ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات میں 21 فیصد اضافہ ہوا، اس میں مزید اضافہ متوقع ہے ، چاول کے کاشتکاروں کو برآمدات میں کمی کے باعث 11 ارب روپے کی سبسڈی دی گئی تاکہ وہ دیگر ممالک کا مقابلہ کرسکیں اور ملک میں ڈالر آئیں ، صرف ایک آئٹم کی سمگلنگ روکنے سے 125 ارب روپے قومی خزانے میں آئے ، عوامی مفاد میں مل کر کام کریں تو ترقی و خوشحالی کا انقلاب آ سکتا ہے ۔ وزیراعظم نے ایک سوال کے جواب میں وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک کو کوئٹہ جا کر صوبے میں سردیوں میں گیس لوڈ شیڈنگ کا مسئلہ حل کرنے کی ہدایت کی ۔ وزیراعلیٰ بلوچستان نے وزیراعظم کی ہدایت پر بتایا کہ صوبے میں دو بہترین ہسپتال امراض دل کا علاج کر رہے ہیں ۔ انہوں نے سولر ٹیوب ویلز کے منصوبے پر وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ زمینداروں کو اس سے بڑا فائدہ ہوا۔ ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم نے وعدہ کیا کہ وہ انسانی حد تک بلوچستان کی ترقی کیلئے وسائل فراہم کریں گے لیکن سکیورٹی کی ذمہ داری لینا ہوگی ۔ ایک سوال کے جواب کیلئے وزیراعظم نے وفاقی وزیر احسن اقبال کو موقع دیا جنہوں نے بتایا کہ وفاقی حکومت نے پی ایس ڈی پی کے لئے ایک ہزار ارب روپے کا بجٹ رکھا، پی ایس ڈی پی میں بلوچستان کے لئے 200 ارب اور پنجاب کے لئے 70 ارب روپے رکھے گئے ، سابق وزیراعظم محمد نواز شریف کے دور میں بھی بلوچستان میں 650 کلومیٹر طویل سڑکیں تعمیر کی گئیں۔
انہوں نے بتایا کہ کوئٹہ، گوادر شاہراہ کی تعمیر کے دوران 43 مزدوروں نے جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے بلوچستان کے نمائندہ افراد کو مدعو کرنے پر وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا۔دریں اثنا وزیراعظم نے گوگل کی اعلیٰ قیادت کے وفد کے اعزاز میں خصوصی استقبالیہ دیا، اس موقع پر حکومت پاکستان اور گوگل کے درمیان ملک میں ڈیجیٹل تبدیلی کے عمل کو تیز کرنے ، ڈیجیٹل مہارتوں کو فروغ دینے اور اہم شعبوں میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کو بڑھانے کے لیے مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط ہوئے جس کے تحت طلبہ کو مفت جیمینائی اے آئی پلس اور 2026ء میں ڈیڑھ لاکھ کیریئر سرٹیفکیٹس دینے کا اعلان کیا گیا ۔ شہباز شریف نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان اور گوگل کی شراکت داری کے حوالے سے آج ایک اہم دن ہے ۔ جدید ذرائع، ٹیکنالوجی اور نئی مہارتوں کے ذریعے نوجوانوں کو بااختیار بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اس وقت گورننس سمیت مختلف شعبوں میں بڑی ڈیجیٹل تبدیلی سے گزر رہا ہے ۔ ہماری نوجوان آبادی ملک کی تقدیر بدلنے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔
اسلام آباد(خصوصی نیوزرپورٹر)فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہا پاکستان اور بلوچستان کا حال اور مستقبل ہمیشہ ایک رہے گا،دشمن کے عزائم فیصلہ کن کارروائی سے ناکام بنائیں گے ۔دشمن کے پراپیگنڈے کا جامع اور بلا جھجک مقابلہ کرنے ، جھوٹے بیانیوں کو بے نقاب کرنے اور بلوچستان اور اس کے عوام کی حقیقی صلاحیت، ترقی اور امنگوں کو اجاگر کرنے کی ضرورت ہے ۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ(آئی ایس پی آر)کے مطابق چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیرنے بلوچستان کی ممتاز شخصیات اور سیاسی قیادت سے ملاقات کی ،فیلڈ مارشل نے اس امر پر زور دیا کہ بلوچستان اور پاکستان کا حال اور مستقبل ایک ہے اور ہمیشہ ایک رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان باصلاحیت، ثابت قدم، محب وطن اور باوقار لوگوں کی سرزمین ہے ۔انہوں نے کہا کہ واضح قومی بیانیہ، دیرپا امن اور استحکام صوبے کی حقیقی معاشی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے ، سرمایہ کاری کو راغب کرنے اور بلوچستان کے وافر انسانی و قدرتی وسائل کو عوام کی حقیقی خوشحالی میں تبدیل کرنے کے لیے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔فیلڈ مارشل نے زور دیا کہ بلوچستان کے نوجوانوں میں صلاحیت اور مواقع کی کوئی کمی نہیں، نوجوان ہمارے معاشرے کا سب سے متحرک اور امید افزا طبقہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو بااختیار بنانا اور انہیں ملکی ترقی میں اپنا کردار ادا کرنے کے مواقع فراہم کرنا پائیدار ترقی کے لیے مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔
فیلڈ مارشل نے کہا کہ فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان غیر ملکی سرپرستی میں کام کرنے والے پراکسیز ہیں جنہیں دشمن عناصر بلوچستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے ، اس کی ترقی میں رکاوٹ ڈالنے اور ریاست و عوام کے درمیان خلیج پیدا کرنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ دشمن کے یہ عزائم قوم کے اجتماعی عزم اور ریاست کی غیر متزلزل، پرعزم اور فیصلہ کن کارروائی کے ذریعے ناکام بنائے جائیں گے ۔فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے بلوچستان کی ممتاز شخصیات اور سماجی رہنماؤں کے امن کے فروغ، سماجی ہم آہنگی کے استحکام اور تعمیری قومی مکالمے کو آگے بڑھانے میں کردار کو سراہا۔انہوں نے زور دیا کہ دشمن کے پراپیگنڈے کا جامع اور بلا جھجک مقابلہ کرنے ، جھوٹے بیانیوں کو بے نقاب کرنے ،بلوچستان اور اس کے عوام کی حقیقی صلاحیت، ترقی اور امنگوں کو اجاگر کرنے کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے واضح کیا کہ بلوچستان کی تقدیر صرف بلوچستان کے عوام کے ہاتھوں میں ہے ۔ممتاز شخصیات اور شرکا نے بلوچستان اور پاکستان کے امن، ترقی اور خوشحالی کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے تمام غیر ملکی سرپرستی سے پیداہونے والے خطرات کے خلاف ریاست اور مسلح افواج کے شانہ بشانہ کھڑے رہنے کے عزم کا اظہار کیا۔شرکا نے عوام پر مرکوز ترقی کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کے پختہ عزم کا اظہار کیا تاکہ پرامن، مستحکم اور خوشحال بلوچستان کی تشکیل ممکن ہو جہاں صرف سچ کی فتح ہو اور دشمن قوتوں کا بیانیہ ان کے اپنے پراپیگنڈے اور جھوٹ کے بوجھ تلے دفن ہو جائے۔
دریں اثنا فیلڈ مارشل سید عاصم منیرسے شام کے وزیر خارجہ اسعد حسن الشیبانی نے اپنے وفد کے ہمراہ جنرل ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی میں ملاقات کی جس کے دوران باہمی دلچسپی کے امور، علاقائی سکیورٹی کی صورتحال اور دوطرفہ دفاعی و سکیورٹی تعاون کو مزید فروغ دینے کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔فیلڈ مارشل نے شام کے ساتھ پاکستان کے دیرینہ برادرانہ تعلقات کو اجاگر کیا اور عالمی امن و علاقائی استحکام کے حوالے سے پاکستان کے موقف سے آگاہ کیا۔ انہوں نے مشترکہ سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تعاون اور مشترکہ کوششوں کی اہمیت پر زور دیا۔ شام کے وزیر خارجہ نے علاقائی امن و استحکام کے فروغ میں پاک فوج اور مسلح افواجِ پاکستان کے پیشہ ورانہ کردار کو سراہا۔ دونوں جانب سے دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور دفاع و سکیورٹی کے شعبوں میں روابط و تعاون کو وسعت دینے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔علاو ازیں جمہوری جمہوریہ کانگو کے چیف آف ڈیفنس کی سربراہی میں دفاعی وفد جی ایچ کیو پہنچا اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات کی، اس دوران باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال ہوا جبکہ ملاقات میں علاقائی سکیورٹی صورتحال اور دوطرفہ دفاعی و سکیورٹی تعاون بڑھانے کے امور پر بھی گفتگو ہوئی۔ پاکستان اور ڈی آر کانگو کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات پر دونوں معززین نے اطمینان کا اظہارکرتے ہوئے پاکستان اور ڈی آر کانگو کے درمیان دفاعی و سکیورٹی تعاون کو وسیع اور مضبوط بنانے کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے ۔ ڈی آر کانگو کے چیف آف ڈیفنس نے ایڈمرل نوید اشرف اورایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو سے بھی ملاقات کی۔
ڈی آر کانگو کے چیف آف ڈیفنس نے خطے میں امن و استحکام کے لیے پاک افواج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہا۔ بیان میں مزید کہاگیا ہے کہ ڈی آر کانگو کے چیف آف ڈیفنس نے پاک افواج کی آپریشنل صلاحیتوں اور غیر متزلزل عزم،مقامی پیداوار اور خود انحصاری کے ذریعے حاصل ہونے والی نمایاں پیشرفت کا اعتراف کیا۔مزید برآں ملائشیا کے وزیر داخلہ سیف الدین نصر الدین بن اسماعیل نے بھی وزیراعظم شہبازشریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے الگ الگ اہم ملاقاتیں کیں ۔شہبازشریف نے پاکستان اور ملائشیا کے درمیان قریبی اور برادرانہ تعلقات کو تمام شعبوں میں مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے بالخصوص سکیورٹی، قانون نافذ کرنے والے اداروں، تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید فروغ دینے پر زور دیا۔ وزیراعظم نے دونوں ممالک کے درمیان سزایافتہ افراد کی منتقلی کے معاہدے پر دستخط کی تقریب میں بھی شرکت کی۔ معاہدے پر ملائشیا کے وزیر داخلہ داتو سری سیف الدین نسوتیون اسماعیل اور وفاقی وزیر داخلہ سید محسن رضا نقوی نے دستخط کیے ۔نصر الدین نے فیلڈ مارشل سے ملاقات میں علاقائی سکیورٹی کی صورتحال اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا ۔ فیلڈ مارشل نے ملائشیا کے ساتھ دفاعی تعاون مزید گہرا کرنے اور سٹرٹیجک روابط مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments