مواصلات کمیٹی نے خستہ حال سڑکوں پر وزارت کا جواب مسترد کردیا

مواصلات کمیٹی نے خستہ حال سڑکوں پر وزارت کا جواب مسترد کردیا

سڑکوں کا معاملہ 18ماہ سے زیر التوا، وزارت کو آئندہ اجلاس میںجواب دینے کی ہدایت این ایچ اے کے سی ای او کاسکھر شکارپور شاہراہ پر غلط بیانی کا اعتراف

اسلام آباد (نیوز رپورٹر) قومی اسمبلی قائمہ کمیٹی برائے مواصلات کا اجلاس چیئرمین اعجاز حسین جاکھرانی کی زیرصدارت ہوا جس میں سڑکوں کے بنیادی ڈھانچے ، منصوبوں میں تاخیر، دیکھ بھال کے معیار، ٹول ٹیکس کی وصولی اور موٹروے کے جاری منصوبوں سے متعلق اہم امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔کمیٹی نے رکن قومی اسمبلی سید رفیع اللہ کے خستہ حال سڑکوں کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر وزارتِ مواصلات کے جواب کو مسترد کر دیا۔ وزارت نے سڑکوں کی فوری ٹوٹ پھوٹ کی وجہ شدید موسم اور فنڈز کی کمی کو قرار دیا تاہم کمیٹی نے 18 ماہ سے زیر التوا اس معاملے پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے وزارت کو اگلی نشست میں مکمل تیاری کے ساتھ جامع جواب دینے کی ہدایت کی۔قومی اسمبلی کے رکن محمد شہریار خان مہر کی جانب سے سکھر، شکارپور شاہراہ کی ابتر حالت اور حادثات پر اٹھائے گئے سوال پر این ایچ اے حکام کا مؤقف اور زمینی حقائق مختلف نکلے ۔ این ایچ اے کے سی ای او نے غلط بیانی کا اعتراف کرتے ہوئے بتایا کہ متعلقہ اہلکار کو معطل کرکے انکوائری شروع کر دی گئی ہے ، جبکہ ٹھیکیدار کی بقایا رقم روک کر رپورٹ آئندہ اجلاس میں پیش کی جائے گی۔ ذیلی کمیٹی کے کنوینر سید حفیظ الدین نے پی ایس ڈی پی سکیموں، زیر تعمیر سڑکوں پر ٹول پلازوں اور سندھ کے تمام ٹول پلازے ایک ہی ٹھیکیدار کو دینے سے متعلق رپورٹ پیش کی۔ ذیلی کمیٹی نے چیئرمین این ایچ اے اور سیکرٹری کی عدم موجودگی پر برہمی کا اظہار کیا جس پر مرکزی کمیٹی نے اگلے اجلاس میں ٹی او آرز کا خود جائزہ لینے اور غیر قانونی ٹول ٹیکس کی وصولی روکنے کے لیے آج ہی ملاقات کی ہدایت کی۔اجلاس میں بتایا گیا کہ سکھر، حیدرآباد موٹروے (ایم 6) پر تعمیراتی کام اکتوبر 2026 کے آخر تک شروع ہو جائے گا۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...