سائبر کرائمز بڑھ گئے، ارکان اسمبلی بھی محفوظ نہیں، ہر ہفتے جعلسازوں کی کالیں آتی ہیں : چیئرمین قائمہ کمیٹی داخلہ
ایک ہی چھاپے میں 6 لاکھ شہریوں کے فنگر پرنٹس ،بائیو میٹرک ڈیٹا برآمد:این سی سی آئی اے ، دوسروں کے نام پر جاری 1 کروڑ 80 لاکھ جعلی سمز بلاک:چیئرمین پی ٹی اے موبائل کمپنیز کے اہلکار ڈیٹا لیک میں ملوث،راجن پور میں راشن دینے کے بہانے خاتون کا انگوٹھا لگوا کر سم نکالی گئی جو بعد میں دہشت گردی میں استعمال ہوئی:حکام کی بر یفنگ لوگ پیسے لیکر بینک اکاؤنٹ کرائے پر دیتے ، پتہ ہوتا ہے پکڑے جانے پر دو ماہ جیل جانا پڑیگا ، پہلے سے ڈیل کر کے اپنا حصہ لے لیا جاتا ہے :وزیر مملکت داخلہ طلال چودھری
اسلام آباد(نیوز ایجنسیاں، مانیٹرنگ ڈیسک)قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی داخلہ کے اجلاس میں اراکینِ نے سائبر کرائمز کے بڑھتے ہوئے خطرات پر گہری تشویش کا اظہار کیا، چیئرمین قائمہ کمیٹی خرم نواز نے کہا کہ انہیں ہر ہفتے کوریئر کے نام پر جعل سازوں کی کالز آتی ہیں اور ان کا واٹس ایپ تک ہیک ہو چکا ہے ، انہوں نے سوال اٹھایا کہ عام آدمی تو دور کی بات، ہمارے اپنے انگوٹھے کے نشان ان ہیکرز تک کیسے پہنچ جاتے ہیں اور وہ بینک اکاؤنٹس تک رسائی کیسے حاصل کر لیتے ہیں؟ کمیٹی نے سکیورٹی کے قانونی نظام کو فول پروف بنانے کیلئے سخت اقدامات کی ہدایت کی ہے ۔این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ ایک ہی چھاپے میں ملزموں سے 6 لاکھ شہریوں کے فنگر پرنٹس اور بائیو میٹرک ڈیٹا برآمد ہوا ۔ صرف فیصل آباد سے گرفتار ایک ملزم کے قبضے سے 195 ایکٹو موبائل سمز، 16 سمارٹ فونز اور مختلف بینکوں کے 81 اے ٹی ایم کارڈز پکڑے گئے۔
اس چوری شدہ ڈیٹا اور سمز کے ذریعے شہریوں کے ساتھ بڑے پیمانے پر مالیاتی فراڈ کئے جا رہے ہیں، تاہم ایجنسی نے واٹس ایپ ہیکنگ کے ناسور کو مکمل طور پر ختم کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے ۔چیئرمین پی ٹی اے نے بتایا کہ اب تک دوسروں کے نام پر جاری ایک کروڑ 80 لاکھ جعلی سمز بلاک کی جا چکی ہیں اور قانون شکنی پر ٹیلی کام کمپنیوں کو ساڑھے 4 ارب روپے کے جرمانے عائد کیے گئے ہیں۔ چیئرمین پی ٹی اے نے اس تلخ حقیقت کا اعتراف کیا کہ موبائل کمپنیوں کے اپنے اہلکار ڈیٹا لیک کرنے میں ملوث ہیں۔ انہوں نے مثال دی کہ راجن پور میں راشن دینے کے بہانے ایک معصوم خاتون کا انگوٹھا لگوا کر سم نکالی گئی جو بعد میں دہشت گردی کے مقاصد میں استعمال ہوئی۔وزیرِ مملکت داخلہ طلال چودھر ی نے انکشاف کیا کہ ملک میں اب رینٹ اے بینک اکاؤنٹ (کرائے کا بینک اکاؤنٹ) کی نئی اور خطرناک سکیم چل رہی ہے۔
لوگ چند پیسوں کی خاطر اپنے بینک اکاؤنٹس کرائے پر دے دیتے ہیں، اکاؤنٹ ہولڈر کو پتہ ہوتا ہے کہ پکڑے جانے پر اسے دو ماہ جیل جانا جانا پڑے گا ،وہ پہلے سے ڈیل کر کے اپنا حصہ حاصل کر لیتا ہے ۔ قومی اسمبلی کی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس چیئرمین راجہ خرم نواز کی زیر صدارت ہوا ، اجلاس میں کمیٹی نے اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری لوکل گورنمنٹ ترمیمی بل 2025 منظور ی دی ، بل پر بحث کا آغاز کر تے ہوئے آغا رفیع اللہ نے کہا ہمیں بتایا جائے حکومت مقامی حکومتوں کا الیکشن کروانا چاہتی ہے یا نہیں، اگر آپ نے صرف الیکشن کمیشن کو ماموں بنانا ہے تو ہم اس میں شامل نہیں، پورے ملک میں نئے صوبوں کی بات ہورہی ، لیکن ایک اسلام آباد کا علاقہ سنبھل نہیں رہا۔چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ اسلام آباد ایک صوبہ ہے ، اس کی الگ اسمبلی ہونی چا ہئے ، اسلام آباد کی حلقہ بندیاں ہوچکی ہیں، یو سیز بن گئی ہیں۔
رکن کمیٹی عبدالقادر پٹیل نے کہا کہ آپ نے مقامی حکومتوں کا الیکشن نہ اسلام آباد میں کروانا ہے نہ پنجاب میں، یہ بتائیں اسلام آباد اگر صوبہ بن جاتا ہے تو اس کے پاس اختیارات کیا ہوں گے ، یہ آرڈیننس دو دن کے بعد ختم ہوجائے گا، آپ نے الیکشن نہیں کروانے ، ہم اس بل پر آپ کے ساتھ نہیں ، اسلام آباد میں زمینوں پر قبضے اور جعلی ہاؤسنگ سوسائٹیاں ہیں۔ طلال چودھری نے کہا کہ اسلام آباد، لاہور، کوئٹہ اور کراچی کی بات ہوگی تو پرفارمنس پر ہوگی، یہاں اسلام آباد میں تھانے نہیں بکتے ، زمینوں کی چائنہ کٹنگ نہیں ہوتی، اسلام آباد کی پرفارمنس کا موازنہ کراچی، لاہور اور کوئٹہ سے کروا نا ہے تو ہم حاضر ہیں ، پیپلزپارٹی کے ار کان آغا رفیع اللہ اور عبدالقادر پٹیل نے بل کی مخالفت کی ، پیپلزپارٹی نے بل پر اختلافی نوٹ بھی جمع کرادیا۔
اختلافی نوٹ میں کہا گیا کہ بار بار قانون سازی کا مقصد اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کا التوا لگتا ہے ۔حکومت کی جانب سے مسلسل ترمیمی بلز اور آرڈیننس لانا انتخابی عمل میں رکاوٹ ہے ۔ الیکشن کمیشن جب بھی الیکشن کی طرف بڑھتا ہے بلوچستان سے رکن اسمبلی خوشحال خان کاکڑ نے بھی بل کی مخالفت کی ، اجلاس میں پیپلزپارٹی کے رکن آغا رفیع اللہ نے اسلام آباد میں متعدد آبادیوں پر سی ڈی اے ایکشن کا معاملہ اٹھایا، آغا رفیع اللہ نے سوال کیا کہ جن لوگوں نے ان آبادیوں کو آباد کروایا، ان افسران کے خلاف کیا کارروائی ہوئی، بتایا جائے ،رکن کمیٹی رعنا انصر نے کہا کہ بلوچستان کے حالات کے حوالے بتایا گیا کہ اراکین کو بلوچستان لے کر جایا جائے گا، وزیر مملکت طلال چودھری نے کہا کہ بلوچستان میں داخلہ کمیٹی کے اراکین کو لے جانے پر تیار ہیں، بلوچستان سے 200 لوگوں کو بلایا گیا، ان کے ساتھ تمام سٹیک ہولڈرز کی بات ہوئی، پہلے ان لوگوں نے جو ملاقاتیں کی ہیں، ان کی رپورٹ دیکھ لیں۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments