پٹرولیم لیوی کیخلاف جزوی ہڑتال، حکومتی وفد منصورہ پہنچ گیا، حافظ نعیم سے ملاقات
لاہور میں جماعت اسلامی کے کارکنوں اور تاجروں میں ہاتھا پائی، کراچی میں کاروباری مراکز بند، جلاؤ گھیراؤ کی اطلاعات دھرنے بھی چلیں گے اور مذاکرات بھی:امیر جماعت اسلامی،قابل عمل تجاویز پر عملدرآمد کرینگے :رانا ثنا ،احسن اقبال
لاہور،گوجرانوالہ،کراچی(کامرس رپورٹر،کرائم رپورٹر،نیوز رپورٹر، نیوزایجنسیاں) پٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی ٹیکس اور مہنگائی کے خلاف جماعت اسلامی پاکستان کی کال پر ملک کے کئی شہروں میں جزوی شٹر ڈاؤن ہڑتال ، لاہور میں جماعت اسلامی کے کارکنوں اور تاجروں میں تلخ کلامی، ہاتھا پائی،کراچی سمیت سندھ کے مختلف شہروں میں بیشتر کاروباری مراکز، مارکیٹیں ، دکانیں بند رہیں ۔تفصیلات کے مطابق جماعت اسلامی کی ملک گیر شٹر ڈاؤن کی اپیل کے باوجود صوبائی دارالحکومت کی مارکیٹیں اور بازار مجموعی طورپر کھلے رہے، سرکلر روڈ،شاہ عالم مارکیٹ ،دہلی دروازہ، اکبری منڈی سمیت ہول سیل مارکیٹس ، بادامی باغ آٹو پارٹس مارکیٹ سمیت بڑی منڈیوں میں کاروبار چلتا رہا،انجمن تاجران نعیم میر گروپ کے صدر شاہد نذیرچودھری اورانجمن تاجران لاہور کے صدر مجاہد مقصود بٹ نے ہڑتال سے لاتعلقی کا اظہار کیا۔
دریں اثنا لاہور میں مال روڈ پر جماعتِ اسلامی کے کارکنوں اور تاجروں میں تلخ کلامی اورہاتھا پائی ہوئی ، دونوں نے ایک دوسرے کے خلاف نعرے لگائے ،صورتِ حال کے پیشِ نظر پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی۔ادھر گوجرانوالہ میں کھیالی ،شاہپور بازارسمیت مختلف بازاروں میں جزوی ہڑتال رہی، قلعہ دیدار سنگھ میں مکمل ہڑتال کی گئی ۔گوجرانوالہ میں جماعت اسلامی کے ضلعی امیر مظہر اقبال رندھاوا کی قیادت میں میلاد مصطفی چوک سے لے کر ریل بازار تک ریلی نکالی گئی ۔
ادھر کراچی میں مختلف تاجر تنظیموں نے ہڑتال کی حمایت کی، کلفٹن سے صدر تک متعدد مارکیٹیں اور تجارتی مراکز بند رہے ، تاہم کراچی کی میڈیسن مارکیٹ اور ہول سیل گروسرز ایسوسی ایشن نے ہڑتال سے لاتعلقی کا اظہار کیا جبکہ مختلف مقامات پر جلاؤ گھیراؤاوردو موٹرسائیکلیں نذر آتش کرنے ،صفورہ چورنگی اور اطراف میں ہوائی فائرنگ کی اطلاعات پر پولیس کی بھاری نفری مختلف مقامات پر تعینات کردی گئی۔سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی میں جلاؤ گھیراؤ ، توڑ پھوڑ کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی مقاصد کے لیے شہر میں بدامنی پھیلانا انتہائی افسوسناک ہے ،ریاست کی رٹ کو چیلنج کرنے والوں سے قانون کے مطابق نمٹا جائے گا ۔دوسری جانب میرپورخاص میں جماعت اسلامی کے کارکنان نے موٹر سائیکل ریلی نکالی۔
لاہور،اسلام آباد(سیاسی نمائندہ،مانیٹرنگ ڈیسک ،آئی این پی)جماعت اسلامی پاکستان کے دھرنے ختم کروانے کیلئے 3رکنی حکومتی وفد حافظ نعیم الرحمن سے ملاقات کیلئے جماعت کے مرکزی دفترمنصورہ پہنچ گیا ، وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کی زیر قیادت وفد میں وزیراعظم کے معاون خصوصی سینیٹر رانا ثنا اللہ اور وزیر صحت پنجاب خواجہ سلمان رفیق شامل تھے ،حکومتی وفد نے امیر جماعت اسلامی سمیت دیگر رہنماؤں سے ملاقات کی۔ امیر جماعت اسلامی نے مذاکرات کی حکومتی دعوت کا خیر مقدم کرتے ہوئے نائب امیر لیاقت بلوچ کی سربراہی میں ڈپٹی سیکرٹری فراست شاہ، امیر لاہور ضیاالدین انصاری ، امیر اسلام آباد نصراللہ رندھاوا اور نوید علی بیگ پر مشتمل کمیٹی قائم کر دی جو حکومتی ٹیم سے پٹرولیم لیوی کے خاتمہ کے مسئلہ پر مذاکرات کرے گی۔
بعدازاں نائب امیر جماعت اسلامی لیاقت بلوچ نے حکومتی کمیٹی کے سامنے 3 مطالبات رکھے اور مطالبہ کیا کہ پٹرولیم منصوعات پر لیوی ٹیکس اورآئی پی پیز معاہدے ختم ، بجلی و روٹی کی قیمتوں میں کمی کی جائے ۔ ملاقات کے بعد مشترکہ پریس بریفنگ میں حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ ہمارے دھرنوں کا 19 واں روز ہے ، حکومت نے دھرنے موخر کرنے کا کہا ہے لیکن دھرنے بھی چلیں گے اور مذاکرات بھی ، ہماری مذاکراتی ٹیم نے پٹرولیم لیوی کے خاتمہ پر پوری ورکنگ کر رکھی ہے ۔ وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا کہ پٹرولیم لیوی میں کمی سے متعلق جماعت اسلامی کی تجاویز کو سنا ہے ،جس حد تک بھی گنجائش ہوئی عوام کو سہولت دی جائیگی۔ انہوں نے جماعت اسلامی کی پرامن تحریک کو سراہا اور کہا کہ احتجاج کی آڑ میں افراتفری نہیں ہونی چاہیے۔
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ جماعت اسلامی کی مذاکراتی ٹیم سے پیر سے مذاکرات کا آغاز ہوگا اور زیادہ سے زیادہ دو ہفتوں تک مطالبات پر مثبت پیش رفت ہوگی ، حکومت جماعت اسلامی کی قابل عمل تجاویز پر عمل درآمد کرے گی ۔ علاوہ ازیں مال روڈ پر جاری دھرنے کے شرکا سے خطاب میں نعیم الرحمٰن نے کہا کہ مسلم لیگ ن والے ایک طرف مذاکرات اور دوسری جانب زبردستی کرتے ہیں، 3ستمبر کوملک گیر ہڑتال ہماری جدوجہد کی ریہرسل تھی، آئندہ پہیہ جام کی کال کسی بھی دن دی جا سکتی ہے ، پٹرولیم لیوی ختم نہ ہوئی تو جماعت اسلامی جدوجہد ختم نہیں کرے گی۔ انہوں نے مزیدکہا کہ کراچی میں مکمل شٹر ڈاؤن رہا ،پنجاب بھر میں پولیس تشدد کے باوجود ہڑتال کامیاب رہی، لاہور سے ایک درجن سے زائد کارکنوں کو گرفتار کیا گیا ، کراچی میں بھی گرفتاریاں ہوئیں۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments