پاکستان میں ای بائیکس کی بیٹریوں کی ٹیسٹنگ سہولیات کی کمی

پاکستان میں ای بائیکس کی بیٹریوں کی ٹیسٹنگ سہولیات کی کمی

2021-22 سے ابتک تین لاکھ سے زائد الیکٹرک بائیکس تیار ہو چکی ہیں کمیٹی کی لیتھیم ٹیسٹنگ لیب کے قیام ، مقامی فیکٹریوں کی پالیسی بنانے کی سفارش

اسلام آباد (ذیشان یوسفزئی)ملک بھر میں الیکٹرک گاڑیوں کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے خصوصاً ایران، امریکہ جنگ کے بعد صارفین کی توجہ الیکٹرک گاڑیوں کی جانب بڑھ رہی ہے تاہم پاکستان میں تیار ہونے والی الیکٹرک بائیکس کی بیٹریوں کے معیار اور سیفٹی کے حوالے سے سوالات سامنے آئے ہیں جبکہ بیٹریوں کی ٹیسٹنگ کے لیے مناسب سہولیات کی کمی کا بھی انکشاف ہوا ہے ۔ پاکستان میں تیار ہونے والی الیکٹرک بائیکس سے متعلق قومی اسمبلی کی ذیلی کمیٹی تشکیل دی گئی تھی جس نے اپنی رپورٹ مکمل کرکے جمع کرا دی ہے ۔رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 2021-22 سے الیکٹرک بائیکس تیار کی جا رہی ہیں اور اب تک تین لاکھ سے زائد الیکٹرک بائیکس تیار ہو چکی ہیں تاہم سرکاری شعبے میں کراچی کے PCSIR کے سوا بیٹری ٹیسٹنگ کی مناسب سہولیات موجود نہیں۔

انجینئرنگ ڈیویلپمنٹ بورڈ کے سی ای او نے کمیٹی کو بتایا کہ ملک بھر میں لیتھیم بیٹریوں کے دھماکوں اور دیگر واقعات کے ریکارڈ سامنے آئے ہیں جن میں غیر معیاری یا استعمال شدہ بیٹریوں کے استعمال کی نشاندہی کی گئی ۔ کمیٹی نے لیبارٹریوں کی کمی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مزید سہولیات کے قیام کی ضرورت پر زور دیا۔رپورٹ کے مطابق پاکستان میں اس وقت کوئی مقامی بیٹری کمپنی لیتھیم بیٹریاں یا سیلز تیار نہیں کر رہی۔ کمیٹی نے سرکاری اور پبلک پرائیویٹ شعبے میں لیتھیم بیٹری ٹیسٹنگ لیبارٹریاں قائم کرنے کے لیے بھی فوری اقدامات کی سفارش کی ہے ۔ وزارت صنعت کو وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کے ساتھ مل کر نجی شعبے کے لیے پاکستان میں مقامی سطح پر لیتھیم بیٹری فیکٹریاں قائم کرنے کی پالیسی وضع کرنے کی سفارش بھی کی گئی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...