سکیورٹی کیس قانون انصاف کیلئے خطرناک ہے:جاوید لطیف

 سکیورٹی کیس قانون انصاف کیلئے خطرناک ہے:جاوید لطیف

غیر منتخب بیوروکریٹ کو عدلیہ پر بالادستی انصاف کے بنیادی اصولوں سے متصادم

 لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)ن لیگ کے سینئر رہنما میاں جاوید لطیف نے اپنی پارٹی کی ہی پنجاب حکومت کے صوبائی اسمبلی سے منظور کروائے گئے سپیشل سکیورٹی کیس قانون کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے عدلیہ کی آزادی اور شفاف انصاف کیلئے انتہائی خطرناک قدم قرار دے دیا۔ ایکس پر جاری اپنے بیان میں انہوں نے نشاندہی کی کہ اس نئے قانون کے تحت وزیرِ اعلیٰ کا نامزد کردہ گریڈ 20 یا اس سے اوپر کا افسر تن تنہا فیصلہ کرے گا کہ کون سا کیس خصوصی تحفظ کا مستحق ہے ، اس افسر کی نامزدگی کے بعد لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اس پر عمل کرنے کے پابند ہوں گے ، ایک غیر منتخب اور غیر شناخت شدہ بیوروکریٹ کو عدلیہ پر بالادستی دینا انصاف کے بنیادی اصولوں سے متصادم ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کے آئین کا آرٹیکل 10 A ہر شہری کو منصفانہ ٹرائل کا بنیادی حق دیتا ہے مگر گمنام ججز، گمنام گواہ اور سربمہر ریکارڈ اس کے بنیادی حق کو سخت نقصان پہنچائیں گے ، ایسے اقدامات سے بین الاقوامی فورمز پر پاکستان کی گورننس اور رول آف لاء پر سوالات اٹھیں گے بلکہ سرمایہ کاروں کا اعتماد اور عوام کا تحفظ کا احساس بھی متزلزل ہوگا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...