عمران خان کے ایکس اکاؤنٹ کیس میں میرٹس پر دلائل طلب

عمران خان کے ایکس اکاؤنٹ کیس میں میرٹس پر دلائل طلب

اسلام آبادہائیکورٹ کا ملاقات نہ کرانے پر استفسار، جیل سپرنٹنڈنٹ کا جواب جمع سیاسی گفتگو نہ کرنے کی یقین دہانی پر سلمان اکرم کو ملاقات کی اجازت دینے کا عندیہ

 اسلام آباد (اپنے نامہ نگارسے ) اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس ارباب محمد طاہر کی عدالت نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کے ایکس (ٹوئٹر) اکاؤنٹ پر پابندی کیلئے دائر درخواست میں آئندہ سماعت پر مقدمے کے میرٹس پر دلائل طلب کر لیے ، جبکہ بطور چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان سے بانی پی ٹی آئی کے ایکس اکاؤنٹ سے متعلق مؤقف پر بھی جواب طلب کر لیا۔گزشتہ روز غلام مرتضیٰ کی درخواست پر سماعت کے دوران بانی پی ٹی آئی سے عدالتی حکم کے باوجود وکیل  کی ملاقات نہ کرانے سے متعلق توہین عدالت کیس میں سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کا جواب بھی جمع کرایا گیا۔ سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل نے مؤقف اختیار کیا کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات میں سیاسی گفتگو کی جاتی ہے اس لیے ملاقات نہیں کروا سکتے۔

جسٹس ارباب محمد طاہر نے جیل حکام سے استفسار کیا کہ اگر سلمان اکرم راجہ ملاقات میں سیاسی گفتگو نہ کرنے کی یقین دہانی کرائیں تو کیا انہیں ملاقات کی اجازت دی جائے گی؟ اس پر سرکاری وکیل نے کہا کہ وہ اس حوالے سے ایڈووکیٹ جنرل سے ہدایات لے کر جواب دیں گے ۔ عدالت نے ہدایت کی کہ آئندہ سماعت پر بتایا جائے کہ سیاسی گفتگو نہ کرنے کی صورت میں ملاقات کرائی جائے گی یا نہیں۔سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی سے مشاورت کے بغیر مقدمے کے میرٹس پر دلائل نہیں دے سکتا۔ عدالت نے توہین عدالت کی درخواست پر بھی ایک حکم جاری کیا تھا۔جسٹس ارباب محمد طاہر نے استفسار کیا کہ پی ٹی آئی کا جواب نہیں آیا، پارٹی کی طرف سے کون پیش ہوا ہے ؟ اس دوران چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان کے معاون وکیل عدالت میں پیش ہوئے اور بتایا کہ بیرسٹر گوہر شہر میں موجود نہیں، آئندہ سماعت پر پیش ہو جائیں گے۔

عدالت نے کہا کہ بیرسٹر گوہر کے آنے کی ضرورت نہیں، صرف یہ بتا دیں کہ پارٹی کا مؤقف کیا ہے ۔ سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ پی ٹی آئی کا اس کیس سے کوئی تعلق نہیں، بانی پی ٹی آئی اس مقدمے کے مرکزی فریق ہیں لیکن انہیں وکیل کو ہدایات دینے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ مرکزی فریق کو وکیل کو ہدایات دینے کی اجازت ہونی چاہیے ۔جسٹس ارباب محمد طاہر نے استفسار کیا کہ آپ بانی پی ٹی آئی کی نمائندگی کر رہے ہیں؟ سلمان اکرم راجہ نے جواب دیا کہ نہیں، انہیں عمران خان سے ہدایات لینے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ جسٹس ارباب محمد طاہر نے کہا کہ پھر سوال یہ ہے کہ ہم آپ کو کیوں سن رہے ہیں؟ عدالت نے جیل حکام سے استفسار کیا کہ سلمان اکرم راجہ کو وکالت نامے پر دستخط کیوں نہیں کروا کر دیئے جا رہے؟۔

سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ صرف وکالت نامے کی بات نہیں، وہ بانی پی ٹی آئی سے ہدایات لینا چاہتے ہیں۔ عدالت کے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے حکم پر عملدرآمد نہیں کیا گیا، اگر جیل حکام کو عدالت کے حکم پر اعتراض تھا تو اپیل دائر کرتے ، اسے اس طرح نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔جسٹس ارباب محمد طاہر نے کہا کہ نومبر 2025 میں عدالت نے حکم دیا تھا، ہم بانی پی ٹی آئی سے ہدایات لیے بغیر بھی آپ کو سن رہے ہیں، ریاست کی سخاوت دیکھیں کہ وہ اعتراض بھی نہیں کر رہی۔ عدالت نے کیس کی سماعت ملتوی کر دی۔ادھرعدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو میں سلمان اکرم راجہ نے کہاکہ وفاقی حکومت ابھی بھی توہین عدالت پر قائم ہے ، ہمیں 27 ستمبر لانگ مارچ کیس میں فریق بنایا ہی نہیں گیا،ہمارا اس مقدمے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...