مارکیٹیں رات 9 بجے، ہوٹل 11 بجے بند سرکاری گاڑیوں کے فیول میں 50 فیصد کمی، آئی ٹی آلات کے سوا تمام پائیدار اشیا کی خریداری ممنوع : ایندھن کی بچت کیلئے نئی پابندیاں

مارکیٹیں رات 9 بجے، ہوٹل 11 بجے بند سرکاری گاڑیوں کے فیول میں 50 فیصد کمی، آئی ٹی آلات کے سوا تمام پائیدار اشیا کی خریداری ممنوع : ایندھن کی بچت کیلئے نئی پابندیاں

شادی ہالز، مارکیز رات 10 بجے بند، 50 فیصد سرکاری گاڑیاں گراؤنڈ ، نئی گاڑیوں کی خریداری ،بیرون ملک سرکاری دوروں اور سفرپر مکمل پابندی،ناگزیر ہوتو وزرا و دیگر عملہ اکانومی کلاس میں جائے گا سرکاری عشائیوں،سیمینارز، تربیتی پروگرامز اورکانفرنسز پربھی پابندی،ویڈیو و ٹیلی کانفرنسنگ پر اجلاس،شادی بیاہ میں ون ڈش برقرار، پابندیاں 3 ماہ کیلئے، قربانی کا آغاز اشرافیہ سے کیا جائیگا:وزیراعظم

اسلام آباد(اپنے رپورٹرسے ،نامہ نگار)وزیراعظم شہباز شریف نے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کی وجہ سے عالمی منڈی میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے تناظر میں ملک بھر میں سادگی و کفایت شعاری مہم کی منظوری دے دی، جس کے تحت ا یندھن کی بچت کیلئے نئی پابندیا ں لگائی گئی ہیں، مارکیٹیں رات9بجے اور ہوٹل 11 بجے بند ہوں گے ، سرکاری گاڑیوں کے فیول میں 50 فیصد کمی کردی گئی ، آئی ٹی آلات کے سوا تمام پائیدار اشیا کی خریداری ممنوع قرار دی گئی ہے ۔ فیصلہ اسلام آباد میں وزیرِ اعظم کی زیر صدارت منعقدہ کفایت شعاری اور توانائی کے تحفظ کے اقدامات پر اہم اجلاس میں ہوا۔وزیر اعظم نے کہا کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے سے دنیا مہنگائی کی لپیٹ میں ہے ،سب سے پہلے حکومت اور اشرافیہ سے قربانی کا آغاز کیا جائے گا،معاشی طور پر کمزور اور متوسط طبقے کیلئے فیول سبسڈی کا آغاز ہو چکا ہے، وزیر اعظم نے کہا کہ موٹر سائیکل، رکشہ اور 800 سی سی گاڑیوں کو 100 روپے فی لٹر کے تناسب سے سبسڈی فراہم کی جارہی ہے ۔وزیراعظم نے سرکاری اخراجات میں غیر ضروری کمی اور قومی وسائل کے دانشمندانہ استعمال کو یقینی بنانے اور متعلقہ اداروں کو کفایت شعاری اقدامات پر مؤثر اور فوری عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی۔

اجلاس میں حکومتی اخراجات میں کمی، ایندھن کے تحفظ اور سرکاری وسائل کے مؤثر استعمال کے لیے اضافی کفایت شعاری اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں سرکاری گاڑیوں کیلئے ایندھن میں تین ماہ کے لیے 50 فیصد کمی کے اقدام پر عملدرآمد کی منظوری دی گئی۔ ایمبولینسز، فائر بریگیڈ، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور ضروری خدمات کی گاڑیاں اس اقدام سے مستثنیٰ ہوں گی، جبکہ انتظامی یا غیر آپریشنل نوعیت کی گاڑیوں کے لیے استثنیٰ کی اجازت نہیں ہوگی۔ اجلاس میں مالی سال 2026-27 کے نان ای آر ای بجٹ میں 5 فیصد کمی، سرکاری سطح پر ہر قسم کی نئی گاڑیوں کی خریداری پر مکمل پابندی ہوگی ، آئی ٹی کے علاوہ تمام پائیدار اشیاء کی خریداری پر بھی پابندی عائد کردی گئی۔ تین ماہ کے لیے سرکاری دوروں اور بیرون ملک سفری سرگرمیوں پر بھی پابندی عائد کردی گئی،ناگزیر بیرون ملک دوروں کی صورت میں وزراء، مشیران، وزرائے مملکت، معاونین خصوصی اور سرکاری افسر اکانومی کلاس میں سفر کریں گے۔ اجلاس میں سرکاری امور کے لیے ویڈیو کانفرنسنگ اور ٹیلی کانفرنسنگ کے زیادہ سے زیادہ استعمال، سرکاری عشائیوں کے انعقاد پر پابندی، سوائے غیر ملکی وفود کے اعزاز میں ضروری عشائیوں اور حکومت کے زیر اہتمام سرکاری سیمینارز، تربیتی پروگراموں اور کانفرنسوں کے انعقاد میں غیر ضروری اخراجات سے گریز کرنے کی بھی منظوری دی گئی۔

اجلاس میں شادی بیاہ اور دیگر تقریبات میں سنگل ڈش کے اقدام پر بھی عملدرآمد جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔دکانیں، مارکیٹس، شاپنگ مالز، بازار اور دیگر عمومی کاروباری مراکز رات 9 بجے ، جبکہ شادی ہالز اور دیگر تقریبات کے مقامات رات 10 بجے تک بند ہوں گے۔ ریستوران، کیفے ، کھانے پینے کے مراکز اور سٹینڈ الون فروٹ و سبزی کی دکانوں کے لیے بندش کا وقت رات 11 بجے مقرر کرنے کا فیصلہ کیا گیا.جبکہ فارمیسیز، طبی مراکز، ہسپتال، بیکریاں، پٹرول و سی این جی اسٹیشنز، الیکٹرک وہیکل چارجنگ اسٹیشنز، جم، کھیلوں کی سہولیات، آئی ٹی کمپنیوں اور کال سینٹرز کو اوقات کار کی پابندیوں سے استثنٰی دے دیا گیا۔وزیراعظم کو بتایا گیا کہ کفایت شعاری اور ایندھن کے تحفظ کے اقدامات کی نگرانی کے لیے قائم کمیٹی وزارتوں، ڈویژنز، محکموں، سرکاری اداروں اور صوبائی حکومتوں سے عملدرآمد رپورٹس حاصل کرے گی، عدم تعمیل اور رکاوٹوں کی نشاندہی کرکے اصلاحی اقدامات تجویز کرے گی اور وزیراعظم کو ہفتہ وار پیش رفت رپورٹ پیش کرے گی۔وزیراعظم شہباز شریف نے ہدایت کی کہ کفایت شعاری کے اقدامات پر بلاامتیاز عملدرآمد یقینی بنایا جائے اور حکومتی اخراجات میں کمی کے ساتھ ساتھ توانائی اور ایندھن کے تحفظ کے لیے تمام ممکنہ اقدامات بروئے کار لائے جائیں۔وفاقی حکومت کی جانب سے مالی سال 2026-27 میں پہلے سے نافذ کفایت شعاری اقدامات کو جاری رکھنے کی منظوری بھی دی جا چکی ہے ، جبکہ یہ اقدامات وفاقی حکومت کے منسلک محکموں، سرکاری ملکیتی اداروں، قانونی اداروں اور ریگولیٹری اتھارٹیز پر بھی لاگو ہوں گے ۔ اجلاس میں نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار، وفاقی وزرا احد خان چیمہ، علی پرویز ملک، عطا اللہ تارڑ اور متعلقہ اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...