افغانستان پاکستان مخالف گروہوں کیخلاف کارروائی کرے تو سرحد کھولنے کو تیار ہیں : دفتر خارجہ

افغانستان پاکستان مخالف گروہوں کیخلاف کارروائی کرے تو سرحد کھولنے کو تیار ہیں : دفتر خارجہ

بار بار بات چیت کے باو جود افغانستان کا رد عمل منفی رہا ،ہم نے ریڈ لائن بیان کردی ، اب دیکھنا ہے یہ دہشت گردی کیسے روکتے ہیں:ترجمان حرمین شریفین کے تحفظ کیلئے مکمل طور پر سعودی عرب کیساتھ ہیں، توقع ہے اسلام آباد ایس سی او اجلاس میں بھارتی نمائندگی ہوگی :بریفنگ

 اسلام آباد(اے پی پی، مانیٹرنگ ڈیسک )پاکستان نے کہا ہے فغانستان پاکستان مخالف گروہوں کیخلاف کارروائی کرے تو سرحد کھولنے کو تیار ہیں بشرطیکہ کابل پاکستان مخالف عسکریت پسند گروہوں کے خلاف فیصلہ کن اور قابل تصدیق کارروائی کرے ، پاکستان سرحدی گزرگاہیں دوبارہ کھولنے ، ٹرانزٹ ٹریڈ بحال کرنے اور افغانستان کو علاقائی رابطہ کاری کے مرکز کے طور پر استعمال کرنے کے لئے تیار ہے ،ترجمان دفتر خارجہ سجاد حیدر خان نے ہفتہ وار پریس بریفنگ میں کہا کہ اگر افغانستان دہشت گردی کے خاتمہ کے حوالے سے تعاون کرے تو پاکستان کے لئے سرحدی گزرگاہیں کھولنے ، ٹرانزٹ ٹریڈ کی بحالی سمیت اس بندش کو جاری رکھنے کی کوئی وجہ نہیں، ہم اپنی سرحدیں کھولنے ، تجارت کرنے ، افغانستان کو کنیکٹنگ ہب کے طور پر استعمال کرنے کے لئے تیار ہیں پورا خطہ دراصل امن سے فائدہ اٹھا سکتا ہے ، ہماری پالیسی ایک پرامن افغانستان کی رہی ہے جو اندر سے بھی پرامن ہو اور پڑوسی ممالک کے ساتھ بھی پرامن ہو۔

انہوں نے سینیٹر محمد اسحاق ڈار کے افغانستان کے دورے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ٹرانزٹ ٹریڈ پر بہت سی رعایتیں پیش کیں، ٹیرف کم کئے اور افغانستان سے کہا کہ وہاں سے ہونے والی دہشت گردی کو روکیں،بدقسمتی سے یہ سلسلہ جاری ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے دوست ممالک قطر، ترکیہ اور چین کے ذریعے بھی کوشش کی لیکن افغانستان کی جانب سے عدم تعاون کی وجہ سے یہ کوششیں بارآور نہ ہو سکیں۔ترجمان نے کہا کہ نہ صرف پاکستان بلکہ چین کے بھی دہشت گرد سرگرمیوں کے بارے میں اسی طرح کے مشاہدات ہیں اور وسط ایشیائی ممالک بھی افغانستان میں سکیورٹی صورتحال پر ناخوش ہیں ، ترجمان نے کہا کہ پاکستان تمام مسائل کو پرامن طریقوں سے ، یقیناً بات چیت اور سفارتکاری کے ذریعے حل کرنے کا خواہشمند ہے ، ہم نے اپنی ریڈ لائن واضح طور پر بیان کر دی ہے اور اب افغانستان کو دیکھنا ہے کہ وہ دہشت گردی کیسے روک سکتا ہے کیونکہ مسلسل ایک طرف سے دہشت گردوں کی نقل و حرکت کی آزادی ہو اور پھر پاکستان کی طرف سے مختلف نتیجہ کی توقع نہ کریں۔

ترجمان نے کہا ہے کہ پاکستان حرمین شریفین کے تحفظ کیلئے مکمل طور پر ہر لحاظ سے سعودی عرب کے ساتھ ہے ، پاکستان مشرق وسطیٰ میں جاری حوثی حملوں سے پیدا ہونے والی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے وزیراعظم شہباز شریف نے مکہ مکرمہ اور مقامات مقدسہ پر حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے تمام فریقوں پر تحمل کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا ، امن و استحکام پاکستان اور ایران سمیت خطے کے مفاد میں ہے اور حوثیوں کو اپنی سرگرمیاں روکنا ہوں گی ، پاکستان مکہ معاہدے پر کاربند ہے ، تاہم اس کی آپریشنل تفصیلات ظاہر نہیں کی جاسکتیں ، ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ چین سمیت تمام علاقائی ممالک خطے میں امن کے خواہاں ہیں اور پاکستان کا مقصد بھی خطے میں امن و استحکام کا قیام ہے ،وزیراعظم شہباز شریف کی 13 ستمبر کو سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے گفتگو بھی ہوئی ، ترجمان کے مطابق پاکستان ڈائیلاگ اور سفارت کاری کی حمایت جاری رکھے گا۔

لبنانی وزیر خارجہ کے دورہ پاکستان کے دوران وزیراعظم نے لبنان کی خودمختاری اور علاقائی سلامتی کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا۔ پاکستان اور لبنان کے درمیان ایم او یو کے تحت سزا یافتہ مجرم اپنی سزائیں اپنے اپنے ممالک میں مکمل کریں گے ۔ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ نائب وزیراعظم کی آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی سے بھی بات ہوئی۔انہوں نے بتایا کہ بھارت کے ناظم الامور کو گزشتہ رات دفتر خارجہ طلب کیا گیا۔ 15 ستمبر کو خصوصی اقتصادی زون میں بھارتی جہاز کی جانب سے خلاف ورزی کی گئی، جسے پاکستان نے بین الاقوامی قانون اور دوطرفہ معاہدے کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے ، نئی دہلی میں پاکستانی ناظم الامور بھی آج بھارتی وزارت خارجہ میں اس واقعے پر ڈیمارش کریں گے ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ایس سی او ریٹس کی میزبانی کی، جبکہ اجلاس میں مشترکہ سرگرمیوں کے حوالے سے بھی اتفاق کیا گیا۔

ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف آئندہ ہفتے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سیشن میں پاکستانی وفد کی قیادت کریں گے، وزیراعظم جنرل اسمبلی میں اسلاموفوبیا، انسداد دہشتگردی، مسئلہ کشمیر اور فلسطین سے متعلق پاکستان کا مؤقف پیش کریں گے۔ ترجمان نے پاکستانی سکھ شہریوں کو بھارت جانے سے روکے جانے کی بات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ درست نہیں ،بھارت نے نہ صرف واہگہ بارڈر بند کررکھا ہے بلکہ پاکستانی شہریوں کے لئے ویزے کا حصول بھی مشکل بنا رکھا ہے ، رواں برس پاکستان نے صرف ویساکھی کے لئے 2800 سے زیادہ ویزے جاری کئے ۔ کرتارپور راہداری پاکستان نے نہیں بلکہ بھارت نے بند کررکھی ہے ، پاکستان کرتارپور راہداری کے ذریعے سکھ یاتریوں کو خوش آمدید کہنے کے لئے تیار ہے ،ترجمان نے بتایا کہ اسلام آباد میں ہونے والے ایس سی او اجلاس میں بھارت کی نمائندگی اس کے ناظم الامور نے کی اور توقع ہے کہ آئندہ برس اسلام آباد میں ہونے والے ایس سی او اجلاس میں بھی بھارت کی نمائندگی ہوگی ،افغان طلبہ سے متعلق ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان میں مستند ویزا رکھنے والے اور تعلیمی کورس کے لئے موجود افغان طلبہ ملک میں قیام کرسکتے ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...