27 ستمبر:حکومت احتجاج روکنے کیلئے تیار، پی ٹی آئی پُرعزم

27 ستمبر:حکومت احتجاج روکنے کیلئے تیار، پی ٹی آئی پُرعزم

جے یو آئی (ف)اور جماعت اسلامی کی ممکنہ حمایت سے حکومتی حلقے پریشان

(تجزیہ:سلمان غنی)

وزیرداخلہ سید محسن نقوی کی جانب سے پی ٹی آئی کے اسلام آباد مارچ بارے اختیار کئے جانے والے لب و لہجہ سے ظاہر ہو رہا ہے حکومت نے پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کو اپنے لئے چیلنج سمجھتے ہوئے فیصلہ کر رکھا ہے کہ27 ستمبر کو اسلام آباد میں کوئی غیر معمولی اور ہنگامی صورتحال طاری نہیں ہونے دینی اور مظاہرین کا اسلام آباد میں داخلہ ممنوع رہے گا۔ حکومتی حکمت عملی سے واضح ہے کہ اسلام آباد کو احتجاج کا میدان بننے سے پہلے بھی انتظامی طور پر محفوظ بنایا جائے اور پی ٹی آئی کے سرگرم رہنماؤں اور کارکنوں کو نظربند یا گرفتار کرلیا جائے ۔دوسری جانب پی ٹی آئی کی لیڈر شپ بھی اپنے لانگ مارچ کے حوالہ سے بلندوبانگ دعوے کرتی نظر آ رہی ہے اور ہر آنے والے دن فریقین کے درمیان تناؤ بڑھتا نظر آ ر ہا۔ اب تک کی صورتحال سے ایسا لگتا ہے کہ حکومت کیلئے اصل خطرہ ہجوم یا مظاہرین نہیں بلکہ اسکارروائی کی سیاسی تصویر ہے کہ وہ اس مارچ کو روکنے میں کامیاب رہی اور اپوزیشن حکومت کی ان سرگرمیوں کو خود اپنے احتجاج کا نتیجہ قرار دیتی نظر آ رہی ہے ، لہٰذا 27 ستمبر تک ایک نفسیاتی جنگ کا سلسلہ ہے اور کوئی بھی پسپائی اختیار کرتا نظر نہیں آ رہا۔

جہاں تک حکومتی تیاریوں کا تعلق ہے تو دارالحکومت کے تمام راستوں کو مکمل طور پر سیل کرنے کیلئے یہاں 22 ہزار سے زائد سکیورٹی اہلکار تعینات کرنے کی اطلاعات ہیں ،راولپنڈی میں تقریباً 13 ہزار جبکہ اٹک میں 30 ہزار اہلکار تعینات ہوں گے ۔راستوں میں خندقیں کھودنے کی اطلاعات بھی ہیں اور کنٹینرز کی دوسری تہیں لگائی جا رہی ہیں تاکہ مظاہرین کی پیش قدمی کو روکا جاسکے ،جبکہ دوسری جانب پی ٹی آئی میں ابھی تک مارچ کے حوالہ سے یکسوئی نظر آ رہی ہے ، احتجاجی سرگرمیوں کا مرکز پختونخوا ہے ۔ پنجاب میں حکومت کی انتظامی گرفت کے باعث بظاہر پی ٹی آئی کی سرگرمیاں نظر تو نہیں آ رہیں البتہ ان کے تنظیمی عہدیداران اور اراکین اسمبلی غیر علانیہ طور پر کارکنوں کو اسلام آباد پہنچنے کیلئے تیار کرتے نظر آ رہے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ مذکورہ مارچ کے حوالہ سے بانی پی ٹی آئی کی بہنوں کی گرفتاریوں اور نظربندیوں کے عمل سے ایک خاص فضا ضرور بنی ہے اور اس حوالہ سے حکومت پر تنقید ہو رہی ہے اور ایسی اطلاعات ہیں کہ اب پس پردہ جے یو آئی (ف)کی تائید اس مارچ کو ضرور حاصل ہے اور جماعت اسلامی کی جانب سے بھی لانگ مارچ میں پی ٹی آئی کا ساتھ رہنے کا اشارہ ہے جس نے حکومت کو پریشان کر رکھا ہے ۔ لہٰذا دیکھنا ہوگا کہ کیا پی ٹی آئی واقعتاً اسلام آباد میں کوئی بڑا شو کرنے میں کامیاب ہوتی ہے ۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ لاکھوں افراد کو لانے کا دعویٰ تو شاید حقیقت نہ بن سکے لیکن اگر پی ٹی آئی چند ہزار افراد بھی اسلام آباد داخل کرنے اور دھرنا دینے میں کامیاب ہوتی ہے تو یہ حکومت کی بڑی ناکامی ہوگی ۔بلاشبہ پرامن احتجاج جمہوری عمل کا حصہ ہے اور سیاسی جماعتیں حکومت پر دباؤ بڑھانے کیلئے احتجاج کا راستہ اپناتی ہیں۔ اب بڑا مسئلہ یہی ہے کہ ایک تو حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ڈیڈلاک کی کیفیت ہے تو دوسری طرف بڑھتی مہنگائی نے عوام کی زندگیاں اجیرن کر رکھی ہیں، اس صورتحال میں حکومت کو ایسا راستہ بنانا اور چلانا ہوگا کہ اپوزیشن کا کردار بحال ہو اور عوام کیلئے ریلیف کا بندوبست کیا جائے ۔ اب بھی حکومت کے پاس وقت ہے کہ اسلام آباد کو احتجاج کامرکز بننے کی بجائے حکمت عملی طے کر کے ڈیڈلاک کو ڈائیلاگ میں تبدیل کرے ، یہ حکومت کے بھی وسیع تر مفاد میں ہے ۔ پی ٹی آئی کو بھی سمجھنا ہوگاکہ حکومت دباؤ میں ہے اس سے فائدہ اٹھائے اور اپنے لیڈر کیلئے ریلیف کو ممکن بنائے ۔

 

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...