جینیاتی ٹیسٹ ولدیت کا حتمی ثبوت نہیں:سپریم کورٹ

جینیاتی ٹیسٹ ولدیت کا حتمی ثبوت نہیں:سپریم کورٹ

والد دستیاب نہ ہو تو یہ موازنہ رشتہ داری کا تجزیہ، ولدیت کے سوال کا حتمی جواب نہیں ایسے ٹیسٹ کی قانونی حیثیت دستیاب شواہد کے تناظر میں دیکھی جائیگی ، درخواست خارج

اسلام آباد (کورٹ رپورٹر)سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ مبینہ والد کا براہ راست ڈی این اے موازنہ نہ ہونے کی صورت میں کسی رشتہ دار کے ساتھ کیا گیا جینیاتی ٹیسٹ  ولدیت کے تعین کا حتمی ثبوت نہیں ہوسکتا، ایسے ڈی این اے ٹیسٹ کی قانونی حیثیت دیگر دستیاب شواہد کے تناظر میں دیکھی جائے گی۔ جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس عرفان سعادت خان اور جسٹس شاہد بلال حسن پر مشتمل تین رکنی بینچ نے برکت خان و دیگر کی جانب سے پشاور ہائیکورٹ کے ایبٹ آباد بینچ کے فیصلے کے خلاف دائر درخواست پر فیصلہ جاری کیا۔ عدالت نے تفصیلی تحریری فیصلہ میں قرار دیا کہ براہ راست والدیت کے ڈی این اے ٹیسٹ میں بچے اور مبینہ والد کے جینیاتی نمونوں کا موازنہ کیا جاتا ہے جبکہ مبینہ والد دستیاب نہ ہو تو کسی دوسرے رشتہ دار کے ساتھ کیا جانے والا موازنہ بالواسطہ رشتہ داری کا تجزیہ ہوتا ہے ۔ موجودہ مقدمے میں پیش کیا گیا ڈی این اے ٹیسٹ مبینہ والد کے ساتھ براہ راست موازنے پر مبنی نہیں تھا اس لیے اسے والدیت کے سوال کا حتمی جواب قرار نہیں دیا جاسکتا۔ فیصلے میں کہا گیا کہ عدالتوں کو ڈی این اے رپورٹ کے علاوہ نادرا اور یونین کونسل کے سرکاری ریکارڈ، دستاویزی شواہد اور گواہوں کی شہادتوں کو بھی مجموعی طور پر مدنظر رکھنا ہوتا ہے ۔ عدالت نے درخواست میں میرٹ نہ ہونے پر خارج کر دی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...