میر رضا کیس:کمیشن کومشکوک گاڑیوں پر دوصحافیوں کی بریفنگ
محسوس ہوتامیر رضا کی ریکی کی جارہی تھی،بظاہرگلستان جوہر سے پیچھا کیاگیا 29 جولائی کی رات ایک سفید آلٹو اور ایک سفید ایگزیو گاڑی دیکھی،رہائشی گواہ آخری تین ماہ میں میر رضا کی کرپٹو ٹریڈنگ میں تیزی آئی،نمائندہ پلیٹ فارم سینئر پولیس افسران کے سیل شدہ جوابات جمع ،جے آئی ٹی بنائیں، جبران ناصر
کراچی (اسٹاف رپورٹر) میر رضا کیس کی تحقیقات کے لیے جسٹس عمر سیال کی سربراہی میں قائم جوڈیشل کمیشن میں سینئر پولیس افسران کے سیل شدہ جوابات جمع کروا دیے گئے ، کمیشن نے صحافیوں سے سی سی ٹی وی میں نظر آنے والی مشکوک گاڑیوں اور موٹر سائیکل سے متعلق بریفنگ بھی لی۔ کمیشن کے معاون تجمل لودھی ایڈووکیٹ نے ایڈیشنل آئی جی کراچی، ڈی آئی جی عامر فاروقی اور ڈی آئی جی ایسٹ فرخ لنجار کے سیل شدہ جوابات کمیشن میں جمع کرائے ۔ کارروائی کے دوران گلستان جوہر کے رہائشی گواہ محمد ریاض نے بیان ریکارڈ کراتے ہوئے بتایا کہ 29 جولائی کی رات اس نے ایک سفید آلٹو اور ایک سفید ایگزیو گاڑی دیکھی، دوسری مرتبہ گاڑی اوپر چڑھانے کی کوشش کی جارہی تھی، ایک شخص نے گالی دے کر کہا کہ تم سے گاڑی اوپر نہیں چڑھ رہی۔ گواہ نے بتایا کہ اس نے اس سے پہلے یہ دونوں گاڑیاں وہاں نہیں دیکھی تھیں جبکہ اس دوران ایک موٹر سائیکل بھی وہاں سے گزری، جبران ناصر نے کمیشن کو بتایا کہ واقعے کے 14 روز بعد میر رضا کے گھر کے قریب سی سی ٹی وی میں ایسی ہی ایک گاڑی نظر آئی، مشکوک گاڑی کا نمبر پولیس کو دیا گیا جو طارق نامی شخص کے نام پر تھی، گاڑی کا دو سال سے ٹیکس بھی ادا نہیں کیا گیا تھا۔
کمیشن نے صحافیوں کو پریزینٹیشن کے لیے طلب کیا۔ صحافی بابر سلیم نے بتایا کہ سی سی ٹی وی فوٹیج میں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ میر رضا کی ریکی کی جارہی تھی جبکہ صحافی صولت جعفری نے بتایا کہ بظاہر میر رضا کی گاڑی کا گلستان جوہر سے پیچھا کیا جارہا تھا، گلستان جوہر سے میر رضا کے پیچھے نظر آنے والی گاڑی گیسٹ ہاؤس کے باہر رکی اور 4 بج کر 50 منٹ پر دوبارہ جاتی نظر آئی۔ جبران ناصر نے بتایا کہ پولیس کے مطابق گاڑی میں موجود افراد گیسٹ ہاؤس میں کوئی جھگڑا نمٹانے آئے تھے جبکہ سی پی ایل سی کے مطابق میر رضا 4 بج کر 25 منٹ تک آئی میسج کے ذریعے رابطے میں تھا۔ بابر سلیم نے کہا کہ پولیس کی جانب سے مبینہ طور پر دانستہ طور پر کیس خراب کیا گیا اور موبائل فون کھولنے کی کوشش میں اسے لاک کردیا گیا۔ صولت جعفری نے بتایا کہ 28 اور 29 جولائی کو ایک مشکوک آلٹو علاقے میں گھومتی نظر آئی، جبران ناصر نے کہا کہ 11 اگست تک پولیس سی سی ٹی وی فوٹیجز حاصل نہیں کرسکی تھی تاہم صحافیوں نے فوٹیجز حاصل کیں۔
صولت جعفری کے مطابق میر رضا نے 2021 میں کرپٹو ٹریڈنگ آئی ڈی بنائی اور مجموعی طور پر ایک سال میں 8 کروڑ روپے کی ٹریڈنگ سامنے آئی، میر رضا کی کرپٹو میں خریداری زیادہ اور فروخت کم تھی، ایک برس کی ٹریڈنگ کے بعد بھی وہ نقصان میں نہیں تھا تاہم ایک سال کے دوران مجموعی طور پر 3 کروڑ روپے کا نقصان ہوا۔ جبران ناصر نے کہا کہ میر رضا کے نقصانات کو بنیاد بنا کر خودکشی کے بیانیے کو فروغ دیا گیا، بابر سلیم نے بتایا کہ این سی سی آئی اے فیصل آباد نے میر رضا کو فراڈ ٹرانزیکشن کے سلسلے میں طلب کیا تھا، جبران ناصر کے مطابق خاندان متعدد بار این سی سی آئی اے کے پاس گیا لیکن ادارے نے کبھی خاندان کو اس حوالے سے نہیں بتایا۔ جبران ناصر نے کہا کہ شہر میں کرپٹو ٹریڈنگ کرنے والوں کی شارٹ ٹرم کڈنیپنگ کے واقعات رونما ہوتے رہے ہیں، میر رضا نے آخری تین ماہ میں 90 لاکھ روپے کرپٹو میں ڈالے ، کرپٹو پلیٹ فارم کے نمائندے کے مطابق آخری تین ماہ میں میر رضا کی کرپٹو ٹریڈنگ میں تیزی آئی، ممکن ہے یہ تیزی کسی کے دباؤ کا نتیجہ ہو۔
بابر سلیم نے الزام عائد کیا کہ تحقیقاتی ادارے اپنی غلطیاں تسلیم کرنے سے تاحال انکاری ہیں، جس پر کمیشن نے ریمارکس دیے کہ بڑا آدمی اپنی غلطی تسلیم کرتا ہے ، تحقیقاتی اداروں کی جانب سے فیملی کو کچھ معلومات فراہم کرنے سے کیس خراب نہیں ہوتا۔ جبران ناصر نے بتایا کہ 9 ستمبر کو پولیس نے فیملی کو بتایا کہ کرپٹو کا ڈیٹا مل گیا ہے جبکہ اسی روز کرپٹو اکاؤنٹ کے اسکرین شاٹس میڈیا پر چل رہے تھے ، پولیس حکام اپنی ٹیم میں میر رضا سے متعلق ڈیٹا لیک کرنے والے کا سراغ نہیں لگا سکے ۔ بابر سلیم نے کہا کہ ایسا لگتا ہے میر رضا کو نشان عبرت بنایا گیا، جس پر کمیشن نے سوال کیا کہ کیا 3،4 کروڑ روپے کے لیے ایسا کیا جاسکتا ہے ، بابر سلیم نے جواب دیا کہ ماضی میں بہت سے واقعات ایسے ہوئے ہیں جہاں انا کی خاطر ظلم کیا گیا۔ جبران ناصر نے کمیشن کی کارروائی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کارروائی کے دوران دو صحافیوں نے کمیشن کو بریفنگ دی، کمیشن نے بھی سی سی ٹی وی کیمروں میں نظر آنے والی گاڑیوں اور موٹر سائیکل کو مشکوک قرار دیا، ایسا لگ رہا تھا کہ گاڑی اور موٹر سائیکل سوار ریکی یا باڈی پھینکنے کے لیے استعمال کیے گئے ، پولیس آج تک ان گاڑیوں کا سراغ نہیں لگا سکی۔
انہوں نے کہا کہ گیسٹ ہاؤس کے باہر نظر آنے والی گاڑی سے متعلق پولیس نے فیملی کو غلط معلومات فراہم کیں، ہمیں پولیس کی جانب سے کرپشن، نااہلی اور سینئر افسران کی انا نظر آئی ہے ، تمام شواہد بہیمانہ قتل اور نشان عبرت بنانے کی جانب اشارہ کررہے ہیں۔ جبران ناصر نے کہا کہ پولیس شاید کمیشن کے ختم ہونے کے انتظامات کررہی ہے ، ہمارا مطالبہ پہلے روز سے جے آئی ٹی کا قیام ہے ، پولیس سے ہمیں کوئی امید نہیں، کمیشن کی کارروائی میں پولیس کی نااہلی کے ثبوت سامنے آئے ہیں، امید ہے کمیشن کی کارروائی کے دوران نظر آنے والی برہمی فائنڈنگز میں بھی سامنے آئے گی۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments