محض شک یا الزام پر بلیک لسٹ کرکے کاروبار بند نہیں کیا جاسکتا:لاہور ہائیکورٹ

محض  شک  یا  الزام  پر  بلیک  لسٹ  کرکے  کاروبار  بند  نہیں  کیا  جاسکتا:لاہور  ہائیکورٹ

کسی کو سنے بغیر اس کا سیلز ٹیکس نمبر بند کرنا آئین کی سنگین خلاف ورزی :عدالت ، ٹیکسٹائل ملز کی بلیک لسٹنگ کالعدم قرار ٹیکس فراڈ کا الزام ثابت کرنے کیلئے ٹھوس شواہد ضروری: 2 رکنی بینچ ، ٹیکسٹائل ملز کی رجسٹریشن فوری بحال کرنے کی ہدایت

لاہور(کورٹ رپورٹر )لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس حسن نواز مخدوم اور جسٹس محمد اجمل زاہد پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے ٹیکسٹائل ملز کی بلیک لسٹنگ کا حکم کالعدم قرار دیتے ہوئے سیلز ٹیکس نمبر اور رجسٹریشن فوری بحال کرنے کی ہدایت کردی۔ عدالت نے ایف بی  آر کی اپیل خارج کرتے ہوئے اپیلٹ ٹربیونل کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے قرار دیا کہ کسی کو سنے بغیر اس کا سیلز ٹیکس نمبر بند کرنا آئین کی سنگین خلاف ورزی ہے ، محض شک یا الزام کی بنیاد پر کسی شہری یا ادارے کو بلیک لسٹ کرکے اس کا کاروبار بند نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت نے فیصلے میں واضح کیا کہ ٹیکس فراڈ کا الزام ثابت کرنے کیلئے ٹھوس شواہد ضروری ہیں اور ٹیکس حکام قانون کے پابند ہیں، انہیں من مانے اقدامات کی اجازت نہیں دی جا سکتی، سیلز ٹیکس نمبر معطل ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ قانونی تقاضے پورے کئے بغیر کسی کاروبار کو بلیک لسٹ کردیا جائے ، آئین ہر شہری کو قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے کاروبار کرنے کی ضمانت دیتا ہے ، محض الزامات کی بنیاد پر کسی شہری یا ادارے کے کاروباری حقوق متاثر نہیں کئے جا سکتے ۔ عدالت نے مزید قرار دیا کہ انصاف کے حصول کیلئے اپیلٹ ٹربیونل میں نئے قانونی نکات اٹھانا قانونی عمل ہے ۔ ہائیکورٹ اپیل کی سماعت کے دوران قانونی نکات کا جائزہ لے سکتی ہے تاہم حقائق کا ازسرنو جائزہ نہیں لیا جاتا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...