لاہور ہائیکورٹ:ہبہ تنازع، 8سال بعد اپیلیٹ کورٹ کا فیصلہ کالعدم
ماتحت عدالتوں کے فیصلوں میں سنگین قانونی ، بنیادی نقائص موجود :جسٹس عاصم حفیظ جسٹس اجمل کامحکمہ سوئی گیس شیخوپورہ کو 40 لاکھ کی بینک گارنٹی واپس کرنے کا حکم
لاہور (کورٹ رپورٹر) لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس عاصم حفیظ نے جائیداد کے ہبہ تنازع کے کیس میں 8 سال بعد اپیلیٹ کورٹ کا فیصلہ اور ڈگری کالعدم قرار دیتے ہوئے کیس دوبارہ اپیلیٹ کورٹ کو بھجوا دیا۔ فیصلے میں عدالت نے قرار دیا کہ ماتحت عدالتوں کے فیصلوں میں سنگین قانونی اور بنیادی نقائص موجود ہیں، ہبہ نامے کی تصدیق کیلئے قانون شہادت کے تقاضے بھی پورے نہیں کئے گئے ۔ ٹرائل اور اپیلیٹ کورٹ مقدمے کے بنیادی تنازع کا درست تعین کرنے میں ناکام رہیں۔ قانون شہادت کے آرٹیکل 140 کے تحت جرح کے دوران متعلقہ فریق کا سامنا کرنا ضروری ہے ، جبکہ آرٹیکل 79 کے تقاضے پورے کئے بغیر ہبہ نامے کی تصدیق پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
عدالت نے مزید قرار دیا کہ دھوکہ دہی یا فراڈ کے ذریعے حاصل فیصلوں پر قانون شہادت کے آرٹیکل 58 کا اطلاق ہوتا ہے ۔ادھر لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس محمد اجمل زاہد نے کارخانے کیلئے جمع کرائی گئی 40 لاکھ روپے کی بینک گارنٹی واپس نہ کرنے کیخلاف درخواست پر جنرل منیجر سوئی گیس شیخوپورہ کو رقم واپس کرنے کا حکم دے دیا۔ درخواست گزار حمزہ نظامی کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ کارخانہ چلانے کیلئے محکمہ سوئی گیس سے معاہدہ کرکے بینک گارنٹی جمع کرائی گئی، تاہم گیس دستیاب نہ ہونے کے باعث کارخانہ بند کرنا پڑا اور محکمہ بینک گارنٹی واپس نہیں کر رہا۔ عدالت نے محکمہ سوئی گیس کو درخواست گزار کی بینک گارنٹی کی رقم واپس کرنے کا حکم جاری کردیا۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments