خیبرپختونخوا بارے ایوان صدر میں ہونیوالے اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آگئی
اسلام آباد: (دنیا نیوز) خیبرپختونخوا میں امن و امان بارے آصف علی زرداری کے زیر صدارت ایوان صدر میں ہونیوالے اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آگئی۔
ایوان صدر میں ہونے والے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ کسی صورت حالات بگڑنے نہیں دیے جائیں گے، امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے کے لیے کیے گئے فیصلوں پر سختی سے عملدرآمد کرانا ہوگا۔
ذرائع کے مطابق صدر مملکت اور وزیراعظم نے اتفاق کیا کہ کسی کو ملک یا صوبے کا امن خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی، دہشت گردی کے خلاف ریاست کا مؤقف واضح ہے اور امن و سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔
اجلاس میں خیبرپختونخوا میں امن و امان اور دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے سخت اقدامات کا اصولی فیصلہ کیا گیا، وفاقی کابینہ کا کل ہنگامی اجلاس طلب کر لیا گیا ہے۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ کل آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت وفاقی کابینہ سے منظوری لی جائے گی۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں ملکی مجموعی صورتحال سمیت خیبرپختونخوا میں امن و امان اور سکیورٹی کی صورتحال پر تفصیلی غور کیا گیا، شرکاء کو صوبے کی موجودہ صورتحال اور دہشت گردی کے مسائل پر بھی بریفنگ دی گئی۔
اجلاس میں بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ پولیس ایکٹ 2026 پر نظرثانی نہ ہونے سے مسائل بڑھ رہے ہیں جبکہ پولیس اور سکیورٹی معاملات میں سیاسی مداخلت میں اضافہ ہوا ہے۔
ذرائع کے مطابق اجلاس کو بتایا گیا کہ صوبے میں دہشت گردوں کی آزادانہ کارروائیوں اور ان کی محفوظ پناہ گاہوں کو روکنے کے لیے اقدامات نہیں ہو رہے اور خیبرپختونخوا حکومت وفاق کے ساتھ تعاون نہیں کر رہی۔
اجلاس میں تمام دہشت گرد گروہوں کی مداخلت پر بروقت کارروائی کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ نیشنل ایکشن پلان پر بھی مؤثر عملدرآمد نہیں ہو رہا۔
ذرائع کے مطابق اجلاس کو بتایا گیا کہ صوبہ اس وقت انتہائی سنگین سکیورٹی صورتحال سے دوچار ہے، سکیورٹی معاملات کو سیاست کی نذر نہیں کیا جاسکتا۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments