انسانی حیاتیاتی مواد، صحت ڈیٹا کی بیرون ملک منتقلی پر پابندی

انسانی حیاتیاتی مواد، صحت ڈیٹا کی بیرون ملک منتقلی پر پابندی

غیر مجاز منتقلی سے قومی سلامتی، شہریوں کے جینیاتی ڈیٹا کو خطرات، منظوری لازمی خلاف ورزی پر تحقیقی منصوبوں کی فنڈنگ منسوخ ہو سکتی:ایچ ای سی کا جامعات کو خط

اسلام آباد (ماہتاب بشیر) ہائر ایجوکیشن کمیشن نے ملک بھر کی جامعات اور ڈگری دینے والے اداروں کو انسانی حیاتیاتی مواد اور صحت سے متعلق ڈیٹا بیرون ملک منتقل و شیئر کرنے سے قبل قومی بایوایتھکس کمیٹی (این بی سی) سے تحریری منظوری حاصل کرنے کی ہدایت کر دی۔ ایچ ای سی کے جاری مراسلے میں کہا گیا کہ متعلقہ ضوابط پر عملدرآمد کے بغیر انسانی حیاتیاتی مواد کی بیرون ملک منتقلی یا برآمد کی اجازت نہیں ہوگی اور شیئر کرنے یا تحقیقی مقاصد کیلئے منتقل کرنے سے پہلے این بی سی کی تحریری منظوری لینا لازمی ہے ، اس کا اطلاق خون، انسانی ٹشوز، ڈی این اے ، آر این اے اور انسانی خلیات سمیت دیگر حیاتیاتی مواد پر ہوگا۔ ڈیٹا کی بیرون ملک منتقلی اور شیئرنگ کیلئے بھی مقررہ ضوابط کی پابندی کرنا ہوگی۔ غیر مجاز منتقلی سے قومی سلامتی، جینیاتی وسائل اور شہریوں کے حساس صحت کے ڈیٹا و پرائیویسی کو شدید خطرات ہو سکتے ہیں۔ ضوابط کی خلاف ورزی کرنے پر ریگولیٹری کارروائی کی جائے گی، این بی سی کی منظوری کے بغیر جاری یا مستقبل کے تحقیقی منصوبوں کی منظوری واپس لی جا سکتی ہے۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...