غیر قانونی شیشہ کیفے کیسے کام کررہے ؟ رولز بننے تک اجازت نہیں : اسلام آباد ہائیکورٹ
نرم آرڈر کیا تو کہا گیا چیف جسٹس نے اجازت دے دی،ہم نے کہا تھا جوقانون کے مطابق ہیں انہیں چلنے دیں حکومت رولز نہیں بناتی تو ایس او پیز بنادے ، جسٹس ڈوگر، چیف کمشنر، ڈی سی، آئی جی اسلام آباد عدالت پیش
اسلام آباد(رضوان قاضی)اسلام آباہائیکورٹ کے چیف جسٹس سردارسرفرازڈوگرنے غیر قانونی شیشہ کیفے کیس میں ریمارکس دیئے کہ رولز نہیں بنیں گے تو کیا غیر قانونی کام کی اجازت دے دیں گے ، ہم نے نرم آرڈر کیا تو کہا گیا چیف جسٹس نے اجازت دے دی،اسلام آباد میں غیر قانونی شیشہ کیفے سینٹرز کیسے کام کررہے ہیں ؟۔گزشتہ روزاسلام آبادپولیس نے غیر قانونی شیشہ کیفیز کے خلاف کارروائی کیس میں جواب جمع کرادیا، چیف جسٹس نے گزشتہ سماعت کا آرڈر پڑھنے کی ہدایت کی اور کہا ہم نے صرف اتنا کہا تھا کہ جو قانون کے مطابق ہیں انہیں چلنے دیں جس کا غلط مطلب لیا گیا،کیا حکومت کی جانب سے شیشہ کیفز کو ریگولیٹ کرنے کے لیے کوئی رولز بنائے گئے ہیں ؟، سرکاری وکیل نے کہا ابھی شیشہ کیفے رولز تیار کرکے حکومت کو بھجوائے ہوئے ہیں جلد منظور کرلیے جائیں گے ،درخواستگزار وکیل نے استدعا کی جب تک شیشہ کیفیز کے رولز نہیں بنتے سب بند کیے جائیں۔
چیف جسٹس نے کہا یہ تو پہلے ہم نے بھی کہا لیکن انہوں نے کہا بہت سارے افراد بیروزگار ہوجائیں گے ،دیکھنا یہ تھا کہ کیا جو کیفے چل رہے ہیں کیا وہ قواعدو ضوابط پورے کررہے ؟ پر یہ کہتے ہیں چیف جسٹس نے اجازت دے دی اور یہ ہماری بدنامی ہے ،ایسے نئی نسل کیلئے سب الٹ ہوگیا، اگر وقت دیتے رہیں گے تو وہ شیشہ استعمال کرتے رہیں گے ، چیف جسٹس نے استفسار کیاکہ ڈی سی نے اجازت دی وہ کہاں ہیں؟، ایک پیراگراف اٹھا لیا اور بغیر کسی قانون کے اجازت دے دی،جب تک رولز نہیں بنائے جاتے شیشہ پینے کی اجازت نہیں دی جاسکتی، بچوں کو شیشہ کی عادت ڈالی جا رہی ہے ،پرائیویٹ پراپرٹی کا کہہ کر اندر نہیں جانے دیتے جبکہ ہر کوئی جاسکتاہے ،اگر حکومت رولز نہیں بناتی تو اپنے ایس او پیز بنادیں، چیف جسٹس نے کہا ہمیں دوسرے صوبوں سے غرض نہیں اسلام آباد سے ہے ،اسلام آبادمیں کوئی شیشہ کیفے نہیں ہوناچاہیے جب تک قواعدوضوانط نہیں بنتے کیفے نہیں کھلنے چائیں ، بعد ازاں چیف جسٹس نے ان چیمبر کیس کی سماعت کی، عدالتی حکم پرچیف کمشنر، ڈپٹی کمشنر، آئی جی پولیس اسلام آباد عدالت پیش ہوئے ، سماعت کا حکمنامہ بعد میں جاری کیاجائے گا۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments