چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کا پولیس کی کارکردگی پر اظہار برہمی

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کا  پولیس کی کارکردگی پر اظہار برہمی

لاہور(کورٹ رپورٹر )لاہور ہائیکورٹ نے قتل کے مقدمے کے گواہان چھ سال تک پیش نہ کرنے اور تفتیش مکمل نہ ہونے پر آئی جی پنجاب سے زیرِ التوا چالان اور زیرِ تفتیش مقدمات کی رپورٹ طلب کرلی۔۔۔

 عدالت نے پنجاب پولیس سے مقدمات کی تفتیش مکمل کرنے اور گواہان کی پیشی یقینی بنانے کے لیے بنایا گیا میکنزم بھی طلب کرلیا،چیف جسٹس عالیہ نیلم نے پولیس کی کارکردگی پر اظہارِ برہمی کرتے ہوئے کہاکہ پولیس کی نالائقی کی وجہ سے عدالتوں پر کیسز کی تعداد بڑھ گئی ۔چیف جسٹس نے محمد صائم کی درخواستِ ضمانت بعد از گرفتاری پر سماعت کی، عدالت کے حکم پر آئی جی پنجاب راؤ عبد الکریم پیش ہوئے ۔درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ تھانہ رائیونڈ سٹی میں دوہرے قتل کا مقدمہ 2020 سے درج ہے ، ملزم چھ سال سے جیل میں قید ہے ، پولیس نے تفتیش مکمل نہیں کی اور نہ ہی ٹرائل شروع ہوسکا، عدالت درخواستِ ضمانت منظور کرکے رہائی کا حکم دے۔

چیف جسٹس عالیہ نیلم نے آئی جی پنجاب سے استفسار کیا کہ آئی جی صاحب، آپ نے یہ کیس دیکھا ہے ؟ پولیس افسران کی وجہ سے عدالتوں پر بوجھ بڑھ رہا ہے ، پولیس کی غفلت کے باعث عدالتوں میں زیرِ التوا مقدمات کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے کیا میری عدالت سست ہے ؟ تمام ججز کام کر رہے ہیں، پولیس کی نااہلی کی وجہ سے عدالتی نظام متاثر ہوا ہے ، پولیس ملزمان کو تحفظ دیتی ہے ، اس کی پذیرائی نہیں کروں گی۔چیف جسٹس عالیہ نیلم نے آئی جی پنجاب سے استفسار کیا کہ ملزمان کب پکڑے گئے ؟ پولیس نے انہیں کیوں نہیں پکڑا؟ ایسے معاملات ختم کرنے کے لیے پولیس نے کیا میکنزم بنایا ہے ؟عدالت نے آئی جی پنجاب سے زیرِ التوا چالان اور زیرِ تفتیش مقدمات کی تفصیلات طلب کرتے ہوئے 19 اکتوبر کو پولیس کا میکنزم بھی پیش کرنے کا حکم دے دیا۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...