حکومتی ملکیتی کمپنیز کے ملازم سول سرونٹ نہیں، وزارت خزانہ
او جی ڈی سی ایل و دیگر اداروں کیلئے پنشن رولز کمپنیز قواعد کے مطابق طے ہونگے خود مختار ،نیم خود مختار کمپنیز کے ملازمین کی پنشن کے نئے رولز جا ری کر دئیے گئے
اسلام آباد (ایس ایم زمان)وفاقی وزارتِ خزانہ نے حکومتی ملکیتی کمپنیوں، خود مختار و نیم خود مختار اداروں اور کارپوریشنز کے ملازمین کو پنشن کی ادائیگی کیلئے نئے قواعد و ضوابط جاری کر دئیے، وزارت خزانہ کے مطابق وفاقی وزارتوں کا بنیادی پے سکیل نظام اپنانے سے کمپنی اور کارپوریشن کے ملازمین سرونٹس ایکٹ 1973 کے تحت وفاقی سول سرونٹ کا قانونی درجہ حاصل نہیں کر سکتے ، تیس سال کی سروس کی تکمیل کے بعد اضافی سالانہ پنشن کی مراعات جو سول سرونٹس کے لیے یکم جنوری 2001 سے صدرِ پاکستان کی منظوری سے واپس لی گئی تھیں اب بھی نافذ العمل ہیں ، کارپوریشن و خودمختار اداروں کے ملازمین صرف سی پی فنڈ کے حق دار ہوتے ہیں جسے پنشن تصور کیا جاتا ہے ۔جو ادارے الگ سروس رولز اور ضوابط کے تحت چلتے ہیں اور محض بی پی ایس کا نظام اپنانے کی وجہ سے سول سرونٹ نہیں بنتے ، بالخصوص او جی ڈی سی ایل و دیگر ایسے اداروں کے ملازمین جو اپنے مخصوص سروس ریگولیشنز کے تحت خدمات انجام دے رہے ہیں، ان کے پنشن اور دیگر مالیاتی فوائد کے امور متعلقہ کمپنیوں کے موجودہ قوانین کے مطابق ہی طے کیے جائیں گے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments