ایمرجنسی نفاذ کو معدنی وسائل پر قبضے سے جوڑنا افسوسناک : وفاقی وزرا

 ایمرجنسی نفاذ کو معدنی وسائل پر قبضے سے جوڑنا افسوسناک : وفاقی وزرا

معدنیات کے بیشتر لائسنس پی ٹی آئی دور میں جاری ہوئے : خواجہ آصف دہشتگردی کے خلاف مشترکہ حکمتِ عملی اپنانے کی ضرورت ہے : طارق فضل

سیالکوٹ،اسلام آباد(سٹاف رپورٹر ،نمائندہ دنیا،مانیٹرنگ ڈیسک)وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان کی قیمتی معدنیات میں امریکا، چین، کینیڈا اور آسٹریلیا سمیت کئی ممالک دلچسپی رکھتے ہیں، تاہم کسی ملک کو نہ کوئی کان دی گئی ہے اور نہ ہی کوئی ٹھیکہ دیا گیا ہے۔ معدنیات کے شعبے میں فی الحال صرف ابتدائی سطح کی بات چیت ہوئی ہے ۔پریس کانفرنس اور ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے وزیردفاع نے کہا کہ پاکستان اپنے وسائل کے باوجود بیرونی سرمایہ کاری اور تکنیکی معاونت کے بغیر ان معدنی ذخائر سے بھرپور استفادہ نہیں کر سکتا، اس لئے ایسے شراکت داروں کے ساتھ کام کیا جائے گا جن کے ساتھ پاکستان کے مفادات محفوظ ہوں۔ایسے بیانات آئے کہ وفاق کا مقصد پختونخوا میں معدنیات پر قبضہ کرنا ہے حالانکہ وہاں معدنیات کے لائسنس پی ٹی آئی نے جاری کئے، تین سال کے دوران ملک میں معاشی تحفظ اور ملکی حفاظت دفاعی اداروں کی مرہون منت ہے ،اگر مولانا فضل الرحمن نے حکومت میں شراکت کی کوئی امید لگا رکھی تھی تو انہیں اپنی محنت کرنی چاہیے ،موصوف موجودہ سیاسی قلابازیوں کی قیادت کر رہے ہیں ، ہم سیاست دان اپنی تکریم اور عزت مٹی میں خود رولتے ہیں، آنے والے دنوں میں کے پی سمیت پورے ملک میں حالات مزید بہتر ہوں گے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنی رہائش گاہ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر صوبائی وزیر محنت و افرادی قوت پنجاب منشاء اﷲبٹ، ممبر صوبائی اسمبلی چودھری محمد اکرام، سابق ممبر صوبائی اسمبلی رانا لیاقت علی، چودھری رفیع اور کارکنان کی کثیر تعداد موجود تھی ۔ خواجہ محمد آصف نے مزید کہا کہ معدنیات کے لائسنس کس کے پاس ہیں اس حوالے سے دفاعی اداروں نے واضح طور پر تمام ثبوت پیش کئے ،جب میں دفاعی اداروں پر تنقید کرتا تھا تو اس وقت مولانا فضل الرحمن پرویز مشرف کے ساتھ کھڑے تھے ، اس وقت جعلی اپوزیشن لیڈر فضل الرحمن کو بنا یاگیا تھا ،سیاست دانوں کی بد قسمتی ہے کل ایک شخص کہتا تھا مولانا غلط ہے ، آج اسی پارٹی کا رہنما کہتا ہے مولانا ہمارے ساتھ ہیں ۔ وزیر دفاع نے کہا ہے کہ کچھ چیزوں پر آپکو چٹان کی طرح کھڑا ہونا چاہئے ،پاکستان سعودی عرب پر حملے میں چٹان کی طرح کھڑ ا ہے ، ہمارے دفاعی معاہدے ہو رہے ہیں ان تمام کاموں کو فیلڈ مارشل دیکھ رہے ہیں یہ موازنہ قوم کو سمجھنا چاہیے ۔انہوں نے کہا کہ ان شاء اﷲکے پی کے میں حالات بہتر ہوں گے ، یہ گورنر راج ختم ہوسکتا ہے ،تحریک انصاف حکومت کے خاتمے کے بعد ن لیگ فوری الیکشن کی حامی تھی لیکن ہمارے سیاسی حلیفوں نے کہا ہم نے مدت پوری کرنی ہے۔

خواجہ آصف نے کہا کہ فوجی فاؤنڈیشن نے قومی خزانے میں 323 ارب روپے کا ٹیکس جمع کروایا ، جو سول اداروں کی تباہ حالی کے مقابلے میں ایک روشن مثال ہے، نواز شریف نے ماضی میں بینکوں کو پرائیویٹ نہ کیا ہوتا تو وہ دیوالیہ ہو چکے ہوتے ۔وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں معدنیات کے لائسنس کی بڑی تعداد پاکستان تحریک انصاف کے دورِ حکومت میں جاری ہوئی جب کہ اس شعبے میں عسکری اداروں کا براہِ راست حصہ نہیں تھا۔ خواجہ آصف نے کہا ہے کہ قیام پاکستان سے 2010 تک خیبرپختونخوا میں معدنیات کے 482 لائسنس یا ٹائٹلز جاری ہوئے جبکہ 2020 تک یہ تعداد بڑھ کر ایک ہزار 762، فروری 2024 تک 3 ہزار 962 اور موجودہ وقت میں 4 ہزار 917 ہوچکی ہے، ان میں سے 4 ہزار 133 لائسنس آباد اضلاع اور 784 ضم شدہ اضلاع میں جاری کئے گئے۔ انہوں نے کہا کہ اس پورے عرصے میں عسکری ادارے فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن (ایف ڈبلیو او)کو صرف ایک لائسنس ملا جو 2015 میں شمالی وزیرستان کے علاقے بویا میں دیا گیا تھا ۔خواجہ آصف نے بتایا کہ اس وقت 500 سے زائد نئی درخواستیں زیر غور ہیں جن میں سے کوئی بھی عسکری ادارے کی جانب سے نہیں۔

ادھروفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چودھری نے کہا ہے کہ امید ہے مولانا فضل الرحمن دہشتگردی کیخلاف قومی کوششوں کا ساتھ دیں گے ۔ایکس پر جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمٰن کی جانب سے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کو معدنی وسائل پر قبضے سے جوڑنا انتہائی افسوسناک ہے ۔ دہشت گردی جیسے سنگین قومی مسئلے کو سیاسی الزامات کی نذر کرنے کے بجائے اس کے خاتمے کے لئے سنجیدہ کردار ادا کرنے کی اشد ضرورت ہے ۔انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کی اصل ترجیح عوام کا تحفظ اور خیبر پختونخوا میں امن کا قیام ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمٰن ایک سینئر سیاستدان ہیں اور وہ خود بھی دہشت گردی کے نقصانات سے واقف ہیں، اس لئے ان سے توقع ہے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف جاری قومی کوششوں کا پورا ساتھ دیں گے ۔ و فاقی وزیر نے کہا کہ افواجِ پاکستان کے افسران اور جوان وطن کے امن کے لیے مسلسل اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر رہے ہیں، لہٰذا ایسے وقت میں سیاسی الزام تراشی کے بجائے قومی اتحاد اور دہشت گردی کے خلاف مشترکہ حکمتِ عملی اپنانے کی ضرورت ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...