احتجاجی سیاست پی ٹی آئی کی مضبوطی تھی ،اب کمزوری بن چکی
بڑا ووٹ بینک رکھنے والی جماعت کا بڑا سیاسی مستقبل دکھائی نہیں دے رہا
(تجزیہ:سلمان غنی)
اپوزیشن کی بڑی جماعت پی ٹی آئی میں پختونخوامیں اپنی حکومت کے خاتمے کے بعد احتجاجی اور مزاحمتی سیاست سے نجات اور معاملات کو سیاسی طرز عمل اور مسائل کے سیاسی حل کی جانب موڑنے کی تحریک نظر آ رہی ہے اور کہا جا رہا ہے کہ آخر کب تک ہم احتجاجی عمل پر گامزن اپنے لئے مشکلات اور مقدمات کا سامنا کریں گے ، ہمیں مستقبل میں اپنے سیاسی کردار اور اپنی لیڈر شپ اور اسیران کی رہائی کی فکر کرنی چاہئے ، پی ٹی آئی کے ایک رہنما شوکت یوسف زئی جنہوں نے لانگ مارچ سے قبل بھی لانگ مارچ سے احتراز برتنے اور مذاکرات کا مشورہ دیا تھا مگر انکی اس رائے پر ان کے خلاف سوشل میڈیا پر خود اپنے حلقوں سے گالی گلوچ شروع ہوئی تھی اور وہ اس رد عمل پر ایک چینل پر آنسو بہاتے نظر آئے تھے ، بلا شبہ اب کچھ لوگ اختلاف رائے کرتے اور احتجاجی سیاست سے نکلنے اور سیاسی طرز عمل اختیار کرنے کی بات کرتے نظر آ رہے ہیں لیکن ان کی بات بن سکے گی یا چل سکے گی ابھی کچھ کہا نہیں جا سکتا اور ان کا لیڈر خود تو جیل میں بند ہے۔
مگر وہ اپنے ساتھیوں کی وابستگی کا امتحان ان سے کسی بڑے کھڑاک کی توقعات سے لیتا ہے اوراس کے نزدیک وہی اس کا وفادار ہے جس کے سر پر احتجاج سوار ہے ،پارٹی کے ایک ذمہ دار ذرائع کا کہنا ہے کہ اتنی بڑی جماعت اور اتنے ووٹ بینک کے باعث آج ہم جہاں کھڑے ہیں ،اس میں حکومت سے زیادہ کردار ہمارا اپنا ہے ،اگر اب بھی ہم نوشتہ دیوار نہیں پڑھتے اور آگے نہیں چلتے تو پھر سیاست میں ہمارا مستقبل ڈھکا چھپا نہیں ،مذکورہ لیڈر کے مطابق لانگ مارچ سے قبل جیل سے باہر ہماری لیڈر شپ مفاہمتی کردار ادا کرنے پر تیار تھی مگر ایک بزرگ کی انا اور چھوکرے کی ضد ہمیں لے ڈوبی اور آج ہم ایک دوسرے کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھتے نظر آ رہے ہیں مگر کوئی بھی جواب دینے کی پوزیشن میں نہیں۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments